Back to کتب سنی اور علماء

بلاذری کی وثاقت اور کتاب انساب الاشراف کا اعتبار

بلاذری کی وثاقت اور کتاب انساب الاشراف کا اعتبار
بلاذری کی وثاقت اور کتاب انساب الاشراف کا اعتبار
بلاذری کی وثاقت اور کتاب انساب الاشراف کا اعتبار
بلاذری کی وثاقت اور کتاب انساب الاشراف کا اعتبار
بلاذری کی وثاقت اور کتاب انساب الاشراف کا اعتبار
بلاذری کی وثاقت اور کتاب انساب الاشراف کا اعتبار
بلاذری کی وثاقت اور کتاب انساب الاشراف کا اعتبار
بلاذری کی وثاقت اور کتاب انساب الاشراف کا اعتبار
بلاذری کی وثاقت اور کتاب انساب الاشراف کا اعتبار
بلاذری کی وثاقت اور کتاب انساب الاشراف کا اعتبار
بلاذری کی وثاقت اور کتاب انساب الاشراف کا اعتبار
بلاذری کی وثاقت اور کتاب انساب الاشراف کا اعتبار
بلاذری کی وثاقت اور کتاب انساب الاشراف کا اعتبار
بلاذری کی وثاقت اور کتاب انساب الاشراف کا اعتبار
بلاذری کی وثاقت اور کتاب انساب الاشراف کا اعتبار
بلاذری کی وثاقت اور کتاب انساب الاشراف کا اعتبار
بلاذری کی وثاقت اور کتاب انساب الاشراف کا اعتبار
بلاذری کی وثاقت اور کتاب انساب الاشراف کا اعتبار
بلاذری کی وثاقت اور کتاب انساب الاشراف کا اعتبار
بلاذری کی وثاقت اور کتاب انساب الاشراف کا اعتبار
بلاذری کی وثاقت اور کتاب انساب الاشراف کا اعتبار
بلاذری کی وثاقت اور کتاب انساب الاشراف کا اعتبار
بلاذری کی وثاقت اور کتاب انساب الاشراف کا اعتبار
بلاذری کی وثاقت اور کتاب انساب الاشراف کا اعتبار
بلاذری کی وثاقت اور کتاب انساب الاشراف کا اعتبار
بلاذری کی وثاقت اور کتاب انساب الاشراف کا اعتبار
بلاذری کی وثاقت اور کتاب انساب الاشراف کا اعتبار
بلاذری کی وثاقت اور کتاب انساب الاشراف کا اعتبار
بلاذری کی وثاقت اور کتاب انساب الاشراف کا اعتبار
بلاذری کی وثاقت اور کتاب انساب الاشراف کا اعتبار
بلاذری کی وثاقت اور کتاب انساب الاشراف کا اعتبار
بلاذری کی وثاقت اور کتاب انساب الاشراف کا اعتبار
بلاذری کی وثاقت اور کتاب انساب الاشراف کا اعتبار
بلاذری کی وثاقت اور کتاب انساب الاشراف کا اعتبار
بلاذری کی وثاقت اور کتاب انساب الاشراف کا اعتبار
بلاذری کی وثاقت اور کتاب انساب الاشراف کا اعتبار
بلاذری کی وثاقت اور کتاب انساب الاشراف کا اعتبار
بلاذری کی وثاقت اور کتاب انساب الاشراف کا اعتبار
بلاذری کی وثاقت اور کتاب انساب الاشراف کا اعتبار

🔴 بلاذری کی وثاقت اور کتاب انساب الاشراف کا اعتبار 

 

▪️ بلاذری اہلِ سنت کے بڑے اور مشہور حفاظ اور مؤرخین میں سے ایک ہے، اور تاریخی واقعات کو نقل کرنے میں دوسروں کی نسبت زیادہ انصاف سے کام لیتا ہے۔ اسی وجہ سے جب وہابی حضرات کتاب انساب الاشراف میں صحیح اور معتبر تاریخی مسائل سے روبرو ہوتے ہیں تو اعتراض کرتے ہیں کہ بلاذری کی توثیق نہیں ہوئی اور وہ مجہول ہے، اور اس طرح اصل کتاب کو مشکوک بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ البتہ یہ اعتراض زیادہ تر عام وہابیوں کی طرف سے ہوتا ہے، اہلِ علم اس طرح کی بات نہیں کرتے۔ 

 

⭕ اس تحریر میں ہم مخالفینِ شیعہ کے درمیان بلاذری اور کتاب انساب الاشراف کے مقام کو مختصراً بیان کرتے ہیں۔

 

▪️ذھبی لکھتے ہیں 

 

📜 بلاذری ابو بکر احمد بن یحییٰ بن جابر: علامہ، ادیب، مصنف، ابو بکر احمد بن یحییٰ بن جابر بغدادی، بلاذری، کاتب، اور تاریخ کبیر کے مصنف ہیں۔

 

📚 سیر اعلام النبلاء، ج 13، ص 162

 

📜 بلاذریِ کبیر، احمد بن یحییٰ، تاریخ کبیر کے مصنف، حافظ، اخباری، علامہ ہیں۔ انہوں نے عفان بن مسلم اور ان کے بعد والوں کو پایا، اور انہیں ابو داؤد (صاحب السنن) کے طبقے میں شمار کیا جاتا ہے۔

 

📚 سیر اعلام النبلاء، ج 16، ص 36

 

▪️ سیوطی لکھتے ہیں کہ 

 

📜 احمد بن یحییٰ، صاحبِ تاریخ، ابو داؤد سجستانی کے طبقے میں ہیں، حافظ، اخباری، علامہ ہیں۔

 

📚 طبقات الحفاظ للسیوطی، ص 366

 

▪️ صفدی لکھتے ہیں

 

📜 احمد بن یحییٰ بن جابر عالم، فاضل، شاعر، راوی، نسب شناس اور متقن تھے۔

 

📚 الوافی بالوفیات، ج 8، ص 156

 

▪️ یاقوت حموی لکھتے ہیں 

 

📜 بلاذری عالم، فاضل، شاعر، راوی، نسب شناس اور متقن تھا۔

 

📚 معجم الادباء، ج 2، ص 531

 

▪️ ابن عساکر لکھتے ہیں 

 

📜 مجھے خبر ملی کہ بلاذری ادیب اور راوی تھا اور اس کی کتابیں اچھی ہیں۔

 

📚 تاریخ دمشق، ج 6، ص 75

 

▪️عبد اللہ بن احمد بن ابی طاہر نے کہا:

 

📜 بلاذری بغدادی کاتب، شاعر، راوی، بلیغ لوگوں میں سے ایک تھا، اور اس کی کتابیں عمدہ ہیں۔

 

📚 تاریخ الاسلام، ج 6، ص 505

 

🔴 کتاب انساب الاشراف کے بارے میں

 

▪️ تاریخ حلب میں لکھا ہے

 

📜 ابو الحسن، بلاذری بغدادی کاتب، ادیب، شاعر، مصنف ہے، اس کی اچھی کتابیں ہیں، جن میں سے ایک کتاب انساب الاشراف ہے، جو ایک لذت بخش، کثیر الفائدہ اور نفع بخش کتاب ہے، اور وہ اس کتاب کو مکمل کیے بغیر وفات پا گیا۔ اسی طرح البلدان و فتوحها و احکامها بھی ایک بہت مفید کتاب ہے۔

 

📚 بغیة الطلب فی تاریخ حلب، ج 3، ص 1219

 

 

▪️ابن شاكر الكتبی لکھتے ہیں

 

📜 اور اس کی کتابوں میں سے ہیں: کتاب البلدان الصغیر، کتاب البلدان الکبیر (جسے اس نے مکمل نہیں کیا)، اور کتاب جمل انساب الاشراف، جو اس کی مشہور و معروف کتاب ہے۔

 

📚 فوات الوفیات، ج 1، ص 157

 

▪️ ابن سعد میں لکھا ہے کہ 

 

📜 احمد بن یحییٰ بن جابر بلاذری (متوفی 279ھ) معروف مؤرخ ہیں، فتوح البلدان اور انساب الاشراف کے مصنف ہیں۔

 

📚 الطبقات الکبری متمم التابعین، ص 53

 

▪️حاجي خليفة لکھتے ہیں کہ

 

📜 انساب الاشراف: ابو الحسن احمد بن یحییٰ بلاذری کی کتاب ہے، اور یہ ایک بڑی اور کثیر الفائدہ کتاب ہے۔

 

📚 کشف الظنون عن اسامی الکتب والفنون، ج 1، ص 179

 

▪️أبو الطيب محمد صديق خان بن حسن بن علي ابن لطف الله الحسيني البخاري القِنَّوجي لکھتے ہیں کہ 

 

📜 اس کی کتابوں میں سے: انساب الاشراف بلاذری کی ہے، جو ایک بڑی اور بہت مفید کتاب ہے۔

 

📚 ابجد العلوم، ص 303

 

۔

 

⭕ ان مطالب سے جو اب تک بلاذری اور اس کی کتابوں کے بارے میں نقل کیے گئے، دو اہم نتائج حاصل ہوتے ہیں:

 

1⃣ اول: بلاذری اہلِ سنت کے علماء کے اقوال کے مطابق عالم، فاضل، مشہور مؤرخ، نسب شناس، ادیب، مصنف، علامہ، حافظ اور متقن ہے۔ اگر آپ نے غور کیا ہو تو معلوم ہوگا کہ اہلِ سنت کے دو بڑے علماء یعنی صفدی اور یاقوت حموی نے بلاذری کو “متقن” کہا ہے۔ 

 

🚩 اب ضروری ہے کہ علمِ جرح و تعدیل میں لفظ “متقن” کے معنی کو دیکھا جائے:

 

📜 “الفاظِ تعدیل مراتب رکھتے ہیں۔ ابن ابی حاتم نے کہا: جب کسی شخص کے بارے میں کہا جائے کہ وہ ‘ثقة’ یا ‘متقن’ ہے تو وہ ان لوگوں میں سے ہے جن کی حدیث سے استدلال کیا جاتا ہے۔”

 

📚 مقدمة ابن الصلاح، ص 307

 

جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں، ابن ابی حاتم جو اہلِ سنت کے بڑے علماء میں سے ہیں اور جرح و تعدیل میں مہارت رکھتے ہیں، انہوں نے لفظ “متقن” کو “ثقة” کے برابر قرار دیا ہے اور ان دونوں کو راوی کی اعلیٰ ترین توثیق میں شمار کیا ہے۔

 

یہ بات اہلِ سنت کی بہت سی کتبِ علمِ حدیث میں نقل ہوئی ہے، لیکن اختصار کی وجہ سے ان سب کا ذکر نہیں کیا جا رہا۔

 

▪️ السخاوي لکھتے ہیں کہ 

 

📜 “مراتبِ الفاظِ تعدیل و تجریح: تعدیل کے مراتب ہوتے ہیں اور سب سے اعلیٰ درجہ: ثقة، ضابط، متقن اور حجت ہے۔”

 

📚 الغایة فی شرح الهدایة، ص 123

 

https://shamela.ws/book/5956/69

 

▪️ سیوطی نے بھی اپنی الفیہ میں اسی طرح لکھا ہے:

 

📜 “مراتبِ تعدیل و تجریح ... اس کے بعد ‘ثبت’، ‘متقن’، یا ‘ثقة’، یا ‘حافظ’، یا ‘ضابط’، یا ‘حجت’ آتے ہیں۔”

 

📚 الفیة السیوطی، ص 58

 

https://shamela.ws/book/10483/30

 

▪️محمد بن محمد أبو شهبة

 

📜 “تیسری قسم: ثقة، یا ثبت، یا حجت، یا امام، یا حافظ، یا متقن، یا عادل وغیرہ۔”

 

📚 الوسیط فی علوم الحدیث، ص 408

 

https://shamela.ws/book/9987/485

 

▪️عبد القادر المحمدي لکھتے ہیں

 

📜 “تیسری قسم: وہ افراد جو ان صفات میں سے کسی ایک کے ساتھ متصف ہوں، جیسے: ثقة، یا متقن، یا ثبت، یا عادل۔”

 

📚 المیسر فی علم تخریج الحدیث، ص 50

 

https://shamela.ws/book/96333/53

 

✅ اب ہم سمجھتے ہیں کہ اہلِ سنت کے علمِ حدیث کے اصولوں کے مطابق، انساب الاشراف کے مصنف بلاذری کو چونکہ “متقن” کہا گیا ہے، اس لیے اس کی وثاقت ایک قطعی اور ثابت امر ہے، بلکہ وہ اعلیٰ درجے کی وثاقت کا حامل ہے۔ اب اگر دیگر اوصاف جیسے علامہ، فاضل اور حافظ کو بھی مدنظر رکھا جائے، تو اس کی وثاقت مزید مضبوط اور زیادہ قطعی ہو جاتی ہے۔ بہرحال بلاذری کا “حافظ” اور “متقن” ہونا، دونوں مل کر اہلِ سنت کے علمِ حدیث کے اصولوں کے مطابق اس کی وثاقت کو ثابت کرتے ہیں۔

 

2⃣ دوم: بلاذری کی کتاب انساب الاشراف (اور اسی طرح فتوح البلدان) مشہور، اچھی، مفید اور نفع بخش کتابوں میں سے ہے، جن پر اہلِ سنت کے محققین اور علماء نے اعتماد کیا ہے اور ان سے استفادہ کیا ہے۔ اس کتاب کی شہرت، تعریف اور مدح بھی خود بلاذری کے معتبر ہونے اور اس کی کتاب کے بلند مقام کی ایک اہم دلیل ہے۔

 

اب اگر پہلی اور دوسری بات کو ایک ساتھ رکھا جائے (یعنی اہلِ سنت کے علماء کا خود بلاذری کے بارے میں بیان اور اس کی کتابوں کے بارے میں ان کی تعریف)، تو یہ یقین حاصل ہوتا ہے کہ بلاذری اہلِ سنت کے نزدیک ایک معتمد، معتبر اور ثقہ (یا کم از کم صدوق) شخص ہے۔

 

🚩 (اہم نکتہ یہ ہے کہ بہت سے مواقع پر علماء مورخین یا علمائے انساب کی براہِ راست توثیق نہیں کرتے، کیونکہ ان کے نام احادیثِ اعتقادی و فقہی کی اسناد میں کم آتے ہیں، لیکن جب وہ ان کی کتابوں سے استدلال کریں اور ان سے نقل کریں، تو یہی خود ان پر اعتماد کی دلیل ہوتی ہے، مگر یہ کہ کسی مورخ کی صراحتاً تضعیف کی گئی ہو)

 

🔴 بلاذری کی وثاقت پر مضبوط شواہد:

 

▪️أكرم ضياء العمري لکھتے ہیں

 

📜 بلاذری کو معلومات کی وسعت اور تاریخی ادوار کی جامعیت کے اعتبار سے طبری کے بعد سب سے نمایاں مسلمان مؤرخین میں شمار کیا جاتا ہے، لیکن اس کی کتاب انساب الاشراف روایتوں کے انتخاب، اسناد کی پاکیزگی اور اہلِ ثقة و صدق کی روایات سے موافقت کے لحاظ سے تاریخِ طبری سے بہتر ہے۔

 

📚 عصر الخلافة الراشدة، ص 15

 

📜 اور بلاذری کے اساتذہ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے اکثر اس کی وفات سے تقریباً بیس سال پہلے وفات پا چکے تھے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ اس نے اپنی کتاب اپنی بیماری سے پہلے ہی قدیم زمانے میں تصنیف کر لی تھی۔ اور جب اس کی روایات کا موازنہ ابن سعد اور خلیفہ جیسے دیگر مؤرخین سے کیا جاتا ہے، تو وہ ان حسن اور صحیح روایات کے مطابق ہوتی ہیں جو کتبِ سنت اور تاریخ میں آئی ہیں۔ لہٰذا اگر اس کی روایات میں کوئی ضعف یا شذوذ ہو، تو وہ ان راویوں کی طرف سے ہے جن سے اس نے نقل کیا ہے، نہ کہ خود اس کی طرف سے۔

 

📚 عصر الخلافة الراشدة، ص 16

 

بلاذری کے اساتذہ کے جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے اکثر اس کی وفات سے تقریباً بیس سال پہلے وفات پا چکے تھے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ اس نے اپنی کتاب اپنی بیماری سے کافی پہلے تصنیف کی تھی۔ اور جب اس کی روایات کا موازنہ دوسرے مؤرخین جیسے ابن سعد اور خلیفہ سے کیا جاتا ہے، تو وہ ان حسن اور صحیح روایات کے مطابق پائی جاتی ہیں جنہیں کتبِ سنت اور تاریخ نے نقل کیا ہے۔ لہٰذا اگر بلاذری کی روایات میں کوئی ضعف یا شذوذ ہو، تو وہ ان راویوں کی طرف سے ہے جن سے بلاذری نے روایت لی ہے، نہ کہ خود اس کی طرف سے۔

 

🔴 اعتبار

 

▪️ابن حجر لکھتے ہیں کہ 

 

📜 “اور اسی پر بلاذری اور دیگر اہلِ علم نے تاکید کی ہے...”

 

📚 فتح الباری، ج 4، ص 61

 

👈 ابن حجر نے بلاذری کو اہلِ علم میں شمار کیا ہے، اور فتح الباری میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن حجر جن لوگوں کو “اہلِ علم” کہتا ہے، وہ اکثر اس کے نزدیک معتمد اور ثقہ یا صدوق ہوتے ہیں۔

 

▪️ ابن عدی جرجانی اپنی کتاب الکامل فی ضعفاء الرجال کے مقدمے میں لکھتے ہیں:

 

📜 “اور ان راویوں میں سے کوئی باقی نہیں رہا جن کا میں نے ذکر نہ کیا ہو، مگر وہ ثقہ یا صدوق ہے۔”

 

📚 الکامل فی ضعفاء الرجال، ج 1، ص 79

 

👈 یعنی جن راویوں کا ابن عدی نے اپنی کتاب میں ذکر نہیں کیا (یعنی وہ راوی جن سے اس کی سند ہے)، وہ یا تو ثقہ ہیں یا صدوق۔

 

🚩 اہم نکتہ یہ ہے کہ ابن عدی کی سند بلاذری تک پہنچتی ہے اور وہ ایک واسطے سے اس سے روایت کرتا ہے:

 

📜 “... ابو احمد عبد اللہ بن عدی الحافظ، انہوں نے کہا: محمد بن خلف نے مجھے خبر دی، انہوں نے کہا: احمد بن یحییٰ بلاذری نے مجھے بتایا کہ محمود وراق نے کہا...”

 

📚 تاریخ دمشق لابن عساکر، ج 6، ص 75

 

▪️ ایک اور بات یہ ہے کہ اہلِ سنت کے بہت سے حفاظ، علماء، ائمہ اور اکابر نے اپنی کتابوں میں بلاذری کی تصانیف، خصوصاً انساب الاشراف سے استفادہ کیا ہے اور اس سے نقل کیا ہے، اور انہوں نے نہ تو اصل کتاب پر کوئی اعتراض کیا ہے اور نہ ہی خود بلاذری کی ذات پر، اور اس کے بارے میں معمولی سی بھی جرح موجود نہیں ہے۔ اہلِ سنت کے اکابر کا یہی اعتماد اس بات کی دلیل ہے کہ یہ کتاب اور اس کا مصنف ان کے نزدیک معتبر اور قابلِ استناد ہیں۔ مثال کے طور پر ابن عساکر، زیلعی، مزی، ابن حجر عسقلانی، سیوطی، زرقانی، شوکانی، مبارکفوری، عظیم آبادی (شارح سنن ابی داود)، البانی وغیرہ نے متعدد مقامات پر اس کتاب سے نقل کیا ہے۔

 

🔴 بلاذری کی براہِ راست توثیق اور اس کی کتاب کی روایات کی تصحیح و تحسین:

 

▪️ ان امور میں سے ایک جو بلاذری کی وثاقت کو ثابت کرتا ہے، یہ ہے کہ یا تو خود اس کی توثیق کی گئی ہے یا اس کی کتاب انساب الاشراف میں موجود روایات کو صحیح یا حسن قرار دیا گیا ہے۔ کیونکہ جب کوئی عالم اس کتاب کی روایات کو صحیح یا حسن کہتا ہے تو اس کا لازمی مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کے نزدیک اس کتاب کے مصنف کی وثاقت پہلے سے ثابت ہے۔

 

▪️ ابن حجر عسقلانی الاصابة میں لکھتے ہیں:

 

📜 “اور بلاذری نے ایک ایسی سند کے ساتھ روایت کی ہے جس میں کوئی حرج نہیں...”

 

📚 الاصابة، ج 2، ص 86

 

▪️ صالحی شامی اپنی کتاب سبل الہدی والرشاد میں لکھتے ہیں:

 

📜 “اور بلاذری نے محمد بن سیرین سے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا کہ انہوں نے کہا...”

 

📚 ج 2، ص 358

 

📜 “اور بلاذری نے اسماعیل بن ابی خالد سے، وہ قیس سے، ایک اچھی (جید) سند کے ساتھ روایت کیا کہ انہوں نے کہا...”

 

📚 ج 2، ص 358

 

📜 “اور بلاذری نے ایک اچھی سند کے ساتھ روایت کیا کہ عمر بن عبد العزیز ...”

 

📚 ج 12، ص 317

 

▪️ یہاں تک کہ ایک مشہور ناصبی شحاته محمد صقر وہابی بھی بلاذری کی وثاقت کی تصریح کرتا ہے، لیکن آگے چل کر ایک ایسا دعویٰ کرتا ہے جس کی نہ کوئی بنیاد ہے بلکہ وہ باطل ہے اور اس کے برعکس بات ثابت ہے:

 

📜 “بلاذری احمد بن یحییٰ بن جابر بن داود، جو 279ھ میں وفات پا گئے، کتاب انساب الاشراف کے مصنف ہیں۔ اگرچہ وہ بذاتِ خود صدوق ہیں، لیکن انہوں نے معاویہ کی مذمت میں ایسی روایات اور قصے منفرد طور پر ذکر کیے ہیں جن کی متابعت نہیں کی گئی۔”

 

📚 معاویة بن أبی سفیان…، ص 158

 

https://shamela.ws/book/36166/147

 

اگر آپ غور کریں تو اس کا یہ دعویٰ بالکل اس دعوے کے خلاف ہے جو ہم نے کتاب عصر الخلافة الراشدة سے نقل کیا تھا (جس کی طرف اوپر رجوع کیا جا سکتا ہے)۔

 

بہرحال اس متعصب وہابی کا بلاذری کی وثاقت کے بارے میں اعتراف ایک ایسی بات ہے جسے ہم پہلے ہی ثابت کر چکے ہیں (بلکہ بلاذری کو “ثقة” بھی کہا جا سکتا ہے، صرف “صدوق” نہیں)۔ لیکن معاویہ اور اس سے متعلق خبروں کے بارے میں اس کا دعویٰ ایک باطل بات ہے جس کی کوئی علمی بنیاد نہیں، بلکہ یہ تعصب کی بنا پر پیش کیا گیا ہے، اور انساب الاشراف کی روایات کے ساتھ بھی وہی برتاؤ کیا جائے گا جو دیگر کتب کی روایات کے ساتھ کیا جاتا ہے۔

 

🗂 بدر علی

 

#بدر_علی 

#التماس_دعا 

 

#تعلیمات_اہلبیتؑ 

#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد 

 

#تبدیلی_ممنوع 

 

Invisibleislam.com

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8
Gallery Image 9
Gallery Image 10
Gallery Image 11
Gallery Image 12
Gallery Image 13
Gallery Image 14
Gallery Image 15
Gallery Image 16
Gallery Image 17
Gallery Image 18
Gallery Image 19
Gallery Image 20
Gallery Image 21
Gallery Image 22
Gallery Image 23
Gallery Image 24
Gallery Image 25
Gallery Image 26
Gallery Image 27
Gallery Image 28
Gallery Image 29
Gallery Image 30
Gallery Image 31
Gallery Image 32
Gallery Image 33
Gallery Image 34
Gallery Image 35
Gallery Image 36
Gallery Image 37
Gallery Image 38
Gallery Image 39