🔴 محمد جمال الدین قاسمی، حاکم نیشابوری سے یوں نقل کرتے ہیں:
▪️ حاکم نے کہا:
📜 “… اور یہ آیت (البقرہ: 195) اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ کافروں اور باغیوں کے ساتھ صلح کرنا جائز ہے، جب امام کو اپنی جان یا مسلمانوں کے بارے میں خوف ہو۔
جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ کے موقع پر کیا، اور امیرالمؤمنین علیؑ نے صفین میں کیا، اور حسنؑ نے معاویہ کے ساتھ صلح کے وقت کیا۔”
📚 (تفسیر القاسمی = محاسن التأویل، ص 62)
کفار اور باغیوں سے صلح:
یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اگر امام کو اپنی جان یا مسلمانوں پر خوف ہو تو کفار اور باغیوں سے صلح کرنا جائز ہے۔
اور یہ بھی دلالت کرتی ہے کہ اگر انسان کو اپنی جان کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو تو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو ترک کرنا بھی جائز ہے۔
Invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen