Back to معاویہ

فضیلت معاویہ اور صحیح حدیث ؟

فضیلت معاویہ اور صحیح حدیث ؟
فضیلت معاویہ اور صحیح حدیث ؟
فضیلت معاویہ اور صحیح حدیث ؟
فضیلت معاویہ اور صحیح حدیث ؟
فضیلت معاویہ اور صحیح حدیث ؟
فضیلت معاویہ اور صحیح حدیث ؟
فضیلت معاویہ اور صحیح حدیث ؟
فضیلت معاویہ اور صحیح حدیث ؟
فضیلت معاویہ اور صحیح حدیث ؟
فضیلت معاویہ اور صحیح حدیث ؟
فضیلت معاویہ اور صحیح حدیث ؟
فضیلت معاویہ اور صحیح حدیث ؟

🔴 فضیلت معاویہ اور صحیح حدیث ؟

 

▪️ عجلونی، اہلِ سنت کے بڑے علماء میں سے:

 

📜 معاویہ کی فضیلت کے بارے میں کوئی بھی صحیح حدیث موجود نہیں ہے۔

 

📚 كشف الخفاء ومزيل الإلباس, الجزء الثاني ص 512

 

▪️ ابن تیمیہ:

 

📜 معاویہ کی فضیلت کے بارے میں کوئی صحیح حدیث موجود نہیں ہے۔

 

📚 منهاج السنة النبوية, الجزء السابع ,ص 40

 

📜 رسول خدا ﷺ سے معاویہ کی فضیلت میں جو بھی احادیث نقل ہوئی ہیں، سب جھوٹی ہیں۔

 

📚 منهاج السنة النبوية, الجزء السابع , ص 400

 

▪️ ابن حجر عسقلانی:

 

📜 معاویہ کی فضیلت کے بارے میں بہت سی احادیث نقل کی گئی ہیں، لیکن ان میں سے کوئی بھی صحیح سند نہیں رکھتی؛

نسائی، اسحاق بن راہویہ اور دیگر کا بھی یہی موقف ہے۔

 

📚 فتح الباري بشرح صحيح البخاري , المجلد الثامن, ص 473

 

▪️ اسحاق بن ابراہیم الحنظلی:

 

📜 معاویہ کی فضیلت میں کوئی بھی صحیح حدیث موجود نہیں ہے۔

 

📚 الفوائد المجموعة ص 407

 

Invisibleislam.com

 

۔

 

۔

 

📜 وَأَوْرَدَ بن الْجَوْزِيِّ فِي الْمَوْضُوعَاتِ بَعْضَ الْأَحَادِيثِ الَّتِي ذَكَرُوهَا ثُمَّ سَاقَ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهْوَيْهِ أَنَّهُ قَالَ لَمْ يَصِحَّ فِي فَضَائِلِ مُعَاوِيَةَ شَيْءٌ فَهَذِهِ النُّكْتَةُ فِي عُدُولِ الْبُخَارِيِّ عَنِ التَّصْرِيحِ بِلَفْظِ مَنْقَبَةٍ اعْتِمَادًا عَلَى قَوْلِ شَيْخِهِ لَكِنْ بدقيق نظره استنبط مَا يدْفع بِهِ رُؤُوس الرَّوَافِضِ وَقِصَّةُ النَّسَائِيِّ فِي ذَلِكَ مَشْهُورَةٌ وَكَأَنَّهُ اعْتَمَدَ أَيْضًا عَلَى قَوْلِ شَيْخِهِ إِسْحَاقَ وَكَذَلِكَ فِي قصَّة الْحَاكِم واخرج بن الْجَوْزِيِّ أَيْضًا مِنْ طَرِيقِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ سَأَلْتُ أَبِي مَا تَقُولُ فِي عَلِيٍّ وَمُعَاوِيَةَ فَأَطْرَقَ ثُمَّ قَالَ اعْلَمْ أَنَّ عَلِيًّا كَانَ كَثِيرَ الْأَعْدَاءِ فَفَتَّشَ أَعْدَاؤُهُ لَهُ عَيْبًا فَلَمْ يَجِدُوا فَعَمَدُوا إِلَى رَجُلٍ قَدْ حَارَبَهُ فَأَطْرَوْهُ كِيَادًا مِنْهُمْ لِعَلِيٍّ فَأَشَارَ بِهَذَا إِلَى مَا اخْتَلَقُوهُ لِمُعَاوِيَةَ مِنَ الْفَضَائِلِ مِمَّا لَا أَصْلَ لَهُ وَقَدْ وَرَدَ فِي فَضَائِلِ مُعَاوِيَةَ أَحَادِيثُ كَثِيرَةٌ لَكِنْ لَيْسَ فِيهَا مَا يَصِحُّ مِنْ طَرِيقِ الْإِسْنَادِ وَبِذَلِكَ جَزَمَ إِسْحَاق بن رَاهَوَيْه وَالنَّسَائِيّ وَغَيرهمَا وَالله اعْلَم 

 

📃 ابن الجوزی نے اپنی کتاب "الموضوعات" میں کچھ احادیث ذکر کی ہیں جنہیں انہوں نے جعلی (موضوع) قرار دیا۔ انہوں نے امام اسحاق بن راہویہ سے نقل کیا کہ فضائلِ معاویہ کے بارے میں کوئی حدیث صحیح ثابت نہیں ہوئی۔ یہ بات اس نکتے کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ امام بخاری نے فضائلِ معاویہ کے حوالے سے کسی واضح منقبت کو اپنی صحیح میں ذکر نہیں کیا، کیونکہ ان کے استاد (اسحاق بن راہویہ) کی رائے یہ تھی۔

 

مزید برآں، امام احمد بن حنبل کے بیٹے عبداللہ نے ان سے علیؓ اور معاویہ کے بارے میں سوال کیا تو امام احمد نے فرمایا کہ علیؓ کے دشمن بہت زیادہ تھے، اور انہوں نے علیؓ کی کوئی کمزوری تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے، تو انہوں نے ایک ایسے شخص (معاویہ) کی مدح کرنا شروع کی جو علیؓ کے مخالف تھا، تاکہ علیؓ کو نقصان پہنچایا جا سکے۔

 

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ معاویہ کی فضیلت کے بارے میں جو احادیث پیش کی جاتی ہیں، ان میں سے کوئی بھی سند کے لحاظ سے صحیح نہیں ہے، جیسا کہ اسحاق بن راہویہ، امام نسائی اور دیگر محدثین نے بھی تصریح کی ہے۔ واللہ اعلم۔

 

📚 فتح الباری ح ٣٧٦٦

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8
Gallery Image 9
Gallery Image 10
Gallery Image 11
Gallery Image 12