یحییٰ بن معین عمار بن یاسر کو گالی دیتا ہے اور کہتا ہے
یحییٰ بن معین عمار بن یاسر کو گالی دیتا ہے اور کہتا ہے:
"عمار بن یاسر پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لانت ہو۔"
2 عدد روایات اور نتیجہ
1⃣ 📜 أخبرنا أبو حفص وكلثوم بن جبير عن أبي غادية قال: " سمعت عمار بن ياسر
يقع في عثمان يشتمه بالمدينة، قال: فتوعدته بالقتل، قلت: لئن أمكنني الله
منك لأفعلن، فلما كان يوم صفين جعل عمار يحمل على الناس، فقيل: هذا عمار،
فرأيت فرجة بين الرئتين وبين الساقين، قال: فحملت عليه فطعنته في ركبته،
قال، فوقع فقتلته، فقيل: قتلت عمار بن ياسر؟ ! وأخبر عمرو بن العاص، فقال
: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: (فذكره) ، فقيل لعمرو بن العاص:
هو ذا أنت تقاتله؟ فقال: إنما قال: قاتله وسالبه ".
قلت: وهذا إسناد صحيح، رجاله ثقات رجال مسلم، وأبو الغادية هو الجهني وهو
صحابي كما أثبت ذلك جمع، وقد قال الحافظ في آخر ترجمته من " الإصابة " بعد أن
ساق الحديث، وجزم ابن معين بأنه قاتل عمار
📃 ابو حفص اور کلثوم بن جبیر نے ہمیں خبر دی،
ابو غادیہ سے روایت ہے، وہ کہتا ہے:
"میں نے عمار بن یاسر کو مدینہ میں عثمان کو برا بھلا کہتے اور گالیاں دیتے سنا،
تو میں نے اسے قتل کی دھمکی دی،
میں نے کہا: اگر اللہ نے مجھے تجھ پر قابو دیا تو ضرور قتل کروں گا۔
پھر جب صفین کا دن آیا،
عمار لوگوں پر حملہ کر رہا تھا،
کسی نے کہا: یہ عمار ہے۔
تو میں نے اس کے جسم میں دو پسلیوں کے درمیان اور ٹانگوں کے بیچ ایک خلا دیکھا،
تو میں نے اس پر حملہ کیا اور اس کے گھٹنے پر نیزہ مارا،
وہ گر پڑا اور میں نے اسے قتل کر دیا۔
لوگوں نے کہا: "تم نے عمار بن یاسر کو قتل کر دیا؟!"
پھر یہ خبر عمرو بن العاص کو دی گئی،
تو اس نے کہا:
میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا: (اور حدیث کا ذکر کیا)،
تو عمرو بن العاص سے کہا گیا:
"تو پھر تم ہی اس سے لڑ رہے ہو؟"
اس نے کہا:
"رسول اللہ ﷺ نے صرف اتنا کہا تھا:
‘قاتلہ و سالبہ في النار’ (یعنی جو اسے قتل کرے اور جو اس کا سامان لوٹے، دونوں جہنمی ہیں)۔
راوی کہتا ہے:
یہ سند صحیح ہے، اس کے راوی مسلم کے راویوں میں سے ثقہ ہیں۔
ابو غادیہ جُہنی صحابی ہے جیسا کہ کئی محدثین نے ثابت کیا،
اور حافظ ابن حجر نے "الاصابة" کے آخر میں اس کی سوانح میں یہ حدیث نقل کی،
اور ابن معین نے بھی اسی ابو غادیہ کو عمار بن یاسر کا قاتل قرار دیا ہے۔
📚 سلسلہ صحیحہ ناصر الدین البانی ، ج5 ص19
2⃣ 📜 وَقَال عَباس الدُّورِيُّ، عَنْ يحيى بْن مَعِين: كان ببغداد، وقد سمعت منه، وليس بشيءٍ (1) .
وَقَال فِي موضع آخر: كذاب، كان يشتم عثمان، وكل من شتم عثمان، أو طلحة، أو أحدا من أصحاب رَسُول اللَّهِ صلى الله عليه وسَلَّمَ، دجال، لا يكتب عنه، وعليه لعنة اللَّه والملائكة والناس أجمعين.
📃 عباس الدوری نے یحییٰ بن معین سے روایت کیا:
"وہ بغداد میں تھا، میں نے خود اس سے سنا، وہ کچھ بھی نہیں (یعنی ناقابلِ اعتبار)۔"
اور ایک اور مقام پر یحییٰ بن معین نے کہا:
"وہ جھوٹا ہے، عثمان کو گالیاں دیتا تھا،
اور جو کوئی بھی عثمان، طلحہ یا رسول اللہ ﷺ کے کسی بھی صحابی کو گالی دے،
وہ دجال ہے،
اس سے روایت نہیں لکھی جاتی،
اور اس پر اللہ، فرشتوں، اور تمام انسانوں کی لعنت ہے۔"
📚 تہزیب الکمل فی اسماء الرجال ، ج4 ص 322
#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد #تعلیمات_اہلبیتؑ #التماس_دعا #بدر_علی #تبدیلی_ممنوع #invisibleislam
Gallery
Tap any image to view full screen