قتلِ عمارؓ کے سبب ایک شامی عَلمدار کا رجوع
﴿ قتلِ عمارؓ کے سبب ایک شامی عَلمدار کا رجوع ﴾
(✿)— امام ابن یونس المصری(م347ھ) کہتے ہیں :
« زُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْخَوْلَانِيِّ: مِنْ بَنِي يَعْلَى ، شَهِدَ فَتْحَ مِصْرَ. وَكَانَتْ مَعَهُ رَايَةُ خَوْلَانَ بِصِفِّينَ مَعَ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ. فَلَمَّا قُتِلَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ، انْكَفَأَ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ »
❞زبید بن عبد الخولانی قبیلہ بنی یعلى سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے فتح مصر میں شرکت کی تھی۔ جنگ صفین میں ان کے پاس خولان قبیلے کا جھنڈا تھا اور وہ معاویہ بن ابی سفیان کے ساتھ تھے۔ لیکن جب عمار بن یاسر شہید ہوئے تو وہ علی بن ابی طالبؓ کی طرف پلٹ گئے۔❝
📘[ تاريخ ابن يونس المصري ، ١٨٥/١ ]
اس شامی تابعی کا رجوع صرف ایک فرد واحد کا رجوع نہیں بلکہ یہ تابعی لشکر میں علمبردار کی حیثیت رکھتے تھے کہ جن کی لوگ پیروی کرتے۔ شہادتِ عمارؓ سے اہل شام کے لشکر میں کھلبلی مچ گئی تھی حتیٰ کہ ان بڑے بڑے لوگ اسے پریشان ہوگئے جیسے کہ صحیح روایات سے ثابت ہے۔
(✿)— علامہ نووی شافعی کہتے ہیں :
« وَثَبَتَ فِي "الصَّحِيحَيْنِ" أَنَّ رَسُولَ اللهِﷺ قَالَ: «وَيْحَ عَمَّارٍ تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ». وَكَانَتِ الصَّحَابَةُ يَوْمَ صِفِّينَ يَتْبَعُونَهُ حَيْثُ تَوَجَّهَ؛ لِعِلْمِهِمْ بِأَنَّهُ مَعَ الْفِئَةِ الْعَادِلَةِ لِهَذَا الْحَدِيثِ. »
❞صحیحین میں یہ ثابت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”عمار پر رحمت ہو، اس کو باغی گروہ قتل کرے گا۔“ اور جنگ صفین میں سیدنا عمارؓ جہاں کہیں بھی جاتے تو صحابہ کرام ان کے پیچھے پیچھے چلتے تھے، اس لئے کہ انہیں اس حدیث کی وجہ سے معلوم تھا کہ وہ عادل گروہ کے ساتھ ہیں۔❝
📘[ تهذيب الأسماء واللغات ، ٢/٣٨ ]
تحریر: حسین السبحانی
منقول
Gallery
Tap any image to view full screen