حقیقی مہاجر کون؟
حقیقی مہاجر کون؟
حقیقی مہاجر کون؟
حقیقی مہاجر کون؟
حقیقی مہاجر کون؟
حقیقی مہاجر کون؟
حقیقی مہاجر کون؟
حقیقی مہاجر کون؟
حقیقی مہاجر کون؟
حقیقی مہاجر کون؟

💠حقیقی مہاجر کون؟💠

 

🖋 ذوالفقار مشرقی

 

اھل سنت علماء اپنے عوام کو یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ جس شخص نے بھی مکے سے مدینے ھجرت کی وہ مہاجر ہے اور وہ ان پر قرآن کی ان آیات کا اطلاق کرتے ہیں جن میں مہاجرین کے فضائل بیاں ہوئے ہیں۔ جبکہ حقیقت میں مہاجر کچھ خاص افراد تھے اور مہاجر ہونے کے لے لازم ہے کہ بندہ گناہوں سے دور رہے جیسا کہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے۔

 

احمد بن حنبل نے اپنی سند سے نقل کیا ہے کہ عبداللہ بن سلمہ سے روایت ہے کہ دو آدمی تیل لگائے حمام سے نکل کر دوڈتے ہوئے علیؑ کے پاس آئے۔ انہوں نے دریافت کیا : تم کون ہو؟ کہنے لگے : ھم مہاجرین میں سے ہیں۔ علی بن ابی طالبؑ نے فرمایا : حقیقی مجاہر عمار بن یاسرؓ ہیں۔

 

کتاب کے محقق وصی اللہ عباس نے اسکو صحیح قرار دیا ہے۔

 

⛔فضائل صحابہ - احمد بن حنبل // جلد ۲ // صفحہ ۳۷۶ // رقم ۱۶۰۱ // طبع دار ابن الجوزی ریاض سعودیہ۔

 

اردو ترجمہ میں بھی یہ روایت موجود ہے۔

 

⛔فضائل صحابہ - احمد بن حنبل (اردو ترجمہ) // صفحہ ۵۲۰ // رقم ۱۶۰۱ // طبع دار العلم ممبئ ھندوستان۔

 

نور الدین ھیثمی نے اسکو اپنی کتاب میں نقل کیا اور پھر یوں لکھا : 

 

اسکو طبرانی نے نقل کیا اور اسکے تمام راوی صحیح بخاری کے روای ہیں۔

 

⛔مجمع الزوائد - نور الدین ھیثمی // جلد ۸ // صفحہ ۳۵۲ // رقم ۱۵۵۸۷ // طبع دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان۔

 

اسی طرح شھاب الدین قصاعی نے اپنی سند سے نقل ہے کہ انس بن مالک سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مومن وہ ہے جس سے لوگ امن میں ہوں اور مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ و زبان سے لوگ محفوظ ہو اور مہاجر وہ ہے جو برائی چھوڈ دے۔۔۔۔۔۔

 

کتاب کے محقق محمد ارشد کمال نے روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔

 

⛔مسند شھاب - شھاب الدین قصاعی (اردو ترجمہ) // صفحہ ۱۳۳ // رقم ۱۳۰ // طبع مکتبہ اسلامیہ لاھور پاکستان۔

 

اسی طرح محمد خطیب تبریزی نے مشکاۃ المصابیح میں بہیقی سے روایت کیا اور اس نے اپنی سند سے نقل کیا ہے کہ فضالہ بن عبید کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : 

 

مجاھد وہ ہے جو اللہ کی اطاعت کرنے میں اپنے نفس سے جہاد کرے اور مہاجر وہ ہے جو غلطیوں اور گناہوں سے دوری اختیار کرے۔

 

کتاب کے محقق زبیر علی زائی نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے اور نیچھے شرح میں یوں لکھتا ہے : 

 

- جو شخص دار الکفر سے ہجرت کرکے دار الاسلام آجائے اور پھر کتاب و سنت کی مخالفت اور قوم پرستی میں دن رات مصروف رہے وہ اپنے آپ کو مہاجر نہ سمجھے۔ حقیقی مہاجر وہ شخص ہے جو گناہوں اور نافرمانیوں سے مسلسل بچتا رہتا ہے۔ توبہ کرتا ہے اور دن رات کتاب اللہ و سنت النبی ﷺ پر عمل کرتا ہے اور کرواتا ہے۔ 

- مسند احمد میں اس کی صراحت ہے کہ نبی ﷺ نے یہ حدیث مبارک حجۃ الوداع کے موقعہ پر ارشاد فرمائی تھی (مسند احمد والی روایت بھی صحیح ہے)۔

 

⛔اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح - زبیر علی زائی // جلد ۱ // صفحہ ۷۰ // رقم ۳۴ // طبع مکتبہ اسلامیہ لاھور پاکستان۔

ذوالفقار مشرقی

28 جون 2021ء

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8
Gallery Image 9
Gallery Image 10