ابن تیمیہ کا اقرار

✅ ابن تیمیہ نے کتاب منهاج السنہ النبویة میں لکھا:

 

📜 "وَإِنَّ قَاتِلَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ هُوَ أَبُو الْغَادِيَةِ، وَكَانَ مِمَّنْ بَايَعَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ، وَهُمْ السَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ، ذَكَرَ ذَلِكَ ابْنُ حَزْمٍ وَغَيْرُهُ."

 

📃عمار بن یاسر کا قاتل ابو الغادیہ تھا، اور وہ اُن لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے درخت (رضوان) کے نیچے بیعت کی تھی، اور وہ سابقون الاولون میں سے تھا۔ ابن حزم اور دیگر نے بھی اس کا ذکر کیا ہے۔

 

📚 منهاج السنة النبویة، جلد 6، صفحہ 333

 

🔺 سوال:

کیا اب بھی یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ بیعتِ رضوان میں شامل تمام افراد بلا استثناء جنتی ہیں؟

 

❗️تحلیل:

 

اگر بیعتِ رضوان کرنے والا ابو الغادیہ — جس نے عمار بن یاسر (رض) جیسے عظیم صحابی کو قتل کیا — "سابقین اولین" میں شامل ہو کر بھی قاتل مؤمن بن سکتا ہے، تو پھر یہ بات خود اہل سنت کے اس عقیدے کو چیلنج کرتی ہے

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1