قاتل حضرت عمار بن یاسر صحابی ابو الغادیہ جہنمی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
✅ کیا تمام صحابہ جنتی ہیں؟
🤔 کیا حضرت عمار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے قاتل بھی جنتی ہیں؟
اہلِ سنت کی کتب کے اعتراف کے مطابق حضرت عمار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کو رسولِ اکرم ﷺ کے ایک صحابی، جن کا نام 👈 ابوالغادیہ 👉 تھا، نے شہید کیا۔
اہلِ سنت کے متعدد علماء نے اپنی کتابوں میں حضرت عمار کے قاتل ابوالغادیہ کے صحابی ہونے کا اعتراف کیا ہے۔
ابن حجر عسقلانی نے الاصابة فی تمییز الصحابة میں لکھا ہے:
🔴 «وقال الدّوري، عن ابن معين: أبو الغادية الجهني قاتل عمار له صحبة… وقال البخاري: الجهني له صحبة»
🔵 “ابن معین نے کہا: ابوالغادیہ جہنی، جو عمار کا قاتل ہے، صحابی ہے، اور بخاری نے بھی کہا کہ وہ نبی ﷺ کے صحابہ میں سے ہے۔”
📚 الاصابة فی تمییز الصحابة، جلد 7، صفحہ 259
امام مسلم نیشاپوری (مصنف صحیح مسلم) اپنی کتاب الکنی والاسماء میں لکھتے ہیں:
🔴 «أبو الغادية يسار بن سبيع قاتل عمار له صحبة»
🔵 “ابوالغادیہ یسار بن سبیع، جو عمار کا قاتل ہے، صحابی ہے۔”
📚 الکنی والاسماء، جلد 2، صفحہ 669
دارقطنی بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ حضرت عمار کے قاتل نبی ﷺ کے صحابی تھے:
🔴 «أبو الغادية يسار بن سبع، له صحبة… وهو قاتل عمار بن ياسر رحمه الله بصفين»
🔵 “ابوالغادیہ یسار بن سبع صحابی تھا اور وہی صفین میں عمار بن یاسرؒ کا قاتل ہے۔”
📚 المؤتلف والمختلف، جلد 4، صفحہ 1793
ابن حزم اندلسی بھی اعتراف کرتے ہیں کہ یہ صحابی بیعتِ رضوان میں شریک تھا، اور وہ اس کے عمل کی توجیہ بھی کرتے ہیں۔ ابن حزم لکھتے ہیں:
🔴 «وعمار رضي الله عنه قتله أبو الغادية يسار بن سبع السلمي، شهد بيعة الرضوان… فأبو الغادية رضي الله عنه متأول مجتهد مخطئ فيه باغ عليه مأجور أجرا واحدا»
🔵 “عمار رضی اللہ عنہ کو ابوالغادیہ یسار بن سبع سلمی نے قتل کیا، اور وہ بیعتِ رضوان میں حاضر تھا۔ پس ابوالغادیہ رضی اللہ عنہ نے اس معاملے میں اجتہاد کیا، اجتہاد میں خطا کی، لہٰذا اسے ایک اجر ملے گا۔”
📚 الفصل فی الملل والأهواء والنحل، جلد 4، صفحہ 125
یعنی اہلِ سنت کے نزدیک ابوالغادیہ نبی ﷺ کا صحابی اور بیعتِ رضوان میں شریک تھا، جس نے صفین میں حضرت عمار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کو قتل کیا، پھر بھی بعض اہلِ سنت اس قاتل صحابی کو جنتی قرار دیتے ہیں!!!
کیا حضرت عمار کے قاتل کو بھی اہلِ سنت کے نزدیک جنتی اور اجر کا مستحق سمجھا جائے گا؟ کیا انصاف پسند اہلِ سنت اسے قبول کریں گے؟
البانی (وہابی عالم) اس عقیدے کے اندر موجود تضاد کا اعتراف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ابوالغادیہ کو “تمام صحابہ کے جنتی ہونے” کے اصول سے مستثنیٰ کرنا پڑے گا:
🔴 «لا يمكن القول بأن أبا غادية القاتل لعمار مأجور… ورسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: قاتل عمار في النار! … فيستثنى ذلك منها»
🔵 “یہ نہیں کہا جا سکتا کہ عمار کے قاتل ابوالغادیہ کو اجر ملے گا، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ‘عمار کا قاتل جہنم میں ہے۔’ لہٰذا صحیح بات یہ ہے کہ صحابہ کے جنتی ہونے کا اصول درست ہے، مگر ابوالغادیہ اس سے مستثنیٰ ہے۔”
📚 سلسلة الأحاديث الصحيحة، جلد 5، صفحہ 19
البانی کے مطابق صحابہ جنتی ہیں، لیکن ابوالغادیہ اس قاعدے سے مستثنیٰ ہے اور وہ جہنمی ہے۔
اب سوال یہ ہے:
😐 کیا ابوالغادیہ (جو حضرت عمار رضی اللہ عنہ کا قاتل اور صحابی تھا) جنتی ہے؟
یا پھر وہ جنت میں نہیں جائے گا؟ 😐
#ابوالغادیہ #افسانہ_صحابہ #صحابہ_نا_عادل #عمار_بن_یاسر رضوان_اللہ_علیہ
Gallery
Tap any image to view full screen