عمار کا قاتل "ابوالغادیہ" صحابی تھا
*عمار کا قاتل "ابوالغادیہ" صحابی تھا:*
عمار بن یاسر کا قاتل ((ابوالغادیہ)) صحابی تھا، اِس بارے میں محدّثین و مورّخین میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔
چند اقوال ہم یہاں درج کرتے ہیں (عربی متن اور ترجمہ):
(1)۔ امام بخاری کے الفاظ ہیں:
يَسار بْن سَبُع، أَبو غادِيَة، الجُهَنِيُّ. سَمِعَ النَّبيَّ ﷺ. (+) كُلْثُومَ بْنَ جَبْرٍ، يَقُولُ كُنْتُ بِوَاسِطَ عِنْدَ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ فَجَاءَ آذِنٌ فَقَالَ قَاتِلُ عَمَّارٍ بِالْبَابِ.
ابوالغادیہ الجُہَنی کا نام یَسار بن سَبع تھا۔ اس نے نبیؐ سے حدیث کی سماعت کی ہے۔ کُلثوم بن جَبْر روایت کرتے ہیں کہ میں واسِط میں عَمْرو بن سعید کے پاس تھا کہ دربان نے آکر بتایا کہ باہر کوئی عمار کا قاتل ملاقات کے لیے آیا ہے۔
(التاريخ الكبير لِلبخاري: 3557، التاريخ الأوسط لِلبخاري: 728)
راوی کے الفاظ پر غور کیجیے۔ یعنی جب کبھی یہ ابوالغادیہ معاویہ یا ان کے کسی گورنر وغیرہ کے پاس اپنی کسی حاجت کے لیے جاتا تو وہاں دربان کو اپنا نام بتانے کی بجائے یہ کہتا کہ اندر جاکر بتاؤ "عمار کا قاتل آیا ہے"۔ اِس طرح وہ معاویہ سے اپنی حاجت پوری ہونے اور اِنعام و اِکرام کی امید رکھتا تھا۔
اِس کی یہ حرکت بتاتی ہے کہ اِس ظالم کو توبہ کی بھی توفیق نصیب نہیں ہوئی، اور ہوتی بھی کیسے کہ نبی پاک فرماگئے تھے کہ عمار کا قاتل جہنم میں جائے گا۔
(2)۔ امام مسلم لکھتے ہیں:
أَبُو الغَادِيَة يَسَار بن سَبع، قَاتِل عَمَّار، لَهُ صُحْبَة.
ابوالغادیہ یَسار بن سَبع قاتلِ عمار صحابی تھا۔
(الكُنٰى والأسماء لِلإمام مسلم: 2/ 669/ 2708)
(3)۔ یحیٰ بن معین کہتے ہیں:
أَبُو الغَادِيَة الجُهَنِيّ قَاتِل عَمَّار لَهُ صُحْبَة.
ابوالغادیہ الجُہَنی قاتلِ عمار صحابی تھا۔
(الإصابة لِابن حجر: 7/ 258/ 10371)
(4)۔ الدارقُطنی کہتے ہیں:
أَبُو الغَادِيَة، يَسَار بْن سَبع، لَهُ صُحْبَة، رَوَى عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، وَهُوَ قَاتِلُ عَمَّارَ بْن يَاسِر، رَحِمَهُ اللهُ، بِصِفِّين.
ابوالغادیہ یَسار بن سَبع صحابی تھا، اس نے نبیؐ سے حدیث بھی روایت کی ہے، وہ عمار بن یاسرؓ کا قاتل تھا جنگِ صِفِّین میں۔
(موسوعة أقوال أبي الحسن الدارقطني: 2/ 724/ 3938)
(5)۔ ابن عبدالبر (م463ھ) لکھتے ہیں:
أَبُو الغَادِيَة الجُهَنِي. أَدْرَكَ النَّبِيَّ ﷺ وَهُوَ غُلَامٌ، وَلَهُ سَمَاع مِنَ النَّبِيّ ﷺ، وَهُوَ قَاتِلُ عَمّارَ بْن يَاسِر.
ابوالغادیہ الجُہَنی ، اس نے نبیؐ کو پایا ہے جبکہ یہ نوجوان تھا، اور اس نے نبیؐ سے حدیث کی سماعت بھی کی ہے، اور یہ عمار بن یاسرؓ کا قاتل ہے۔
(الاستيعاب لابن عبد البر: 4/ 1725/ 3113)
(5)۔ الذہبی (م748ھ) لکھتے ہیں:
أَبُو الغَادِيَة الجُهَني: يَسَار بْن سَبُع، لَهُ صُحْبَة، وَهُوَ قَاتِلُ عَمَّار.
ابوالغادیہ الجُہَنی یَسار بن سَبع صحابی تھا، اور وہ عمار کا قاتل تھا۔
(المقتنى في سرد الكنى لِلذهبي: 2/ 3/ 4885)
(6)۔ ابن کثیر (م774ھ) لکھتے ہیں:
أَبُو غَادِيَة الجُهَنِي، يَسَار بْن سَبع، أَدْرَكَ النَّبِيَّ ﷺ، وَهُوَ قَاتِلُ عَمَّارَ بْن يَاسِر.
ابوالغادیہ الجُہَنی یَسار بن سَبع نے نبیؐ کو پایا ہے اور وہ عمار بن یاسر کا قاتل تھا۔
(التكميل في الجرح والتعديل لِابن کثیر: 3/ 365/ 2299)
(7)۔ شارحِ بخاری حافظ ابن حجر (م852ھ) لکھتے ہیں:
أَبُو الغَادِيَة الْجُهَنِي، اسْمُهُ يَسَار بْن سَبع، أدْرَكَ النَّبِيَّ ﷺ وَسَمِعَ مِنْهُ، وَهُوَ الَّذِي قَتَلَ عَمَّارَ بْن يَاسِر.
ابوالغادیہ الجُہَنی، اس کا نام یَسار بن سَبع تھا، اس نے نبیؐ کو پایا ہے اور آپ سے حدیث کی سماعت بھی کی ہے، اور اس نے عمار بن یاسر کو قتل کیا ہے۔
(تعجيل المنفعة لِابن حجر: 2/ 519/ 1364)
(8)۔ ابن عبدالبَر، ابن الاثیر، اور حافظ ابن حجر لکھتے ہیں:
وَهُوَ قَاتِلُ عَمَّارَ بْن يَاسِر، وَكَانَ إذَا اسْتأْذن عَلَى مُعَاوِيَةَ وَغَيرَهُ يَقُوْلُ: قَاتِل عَمَّار بِالْبَاب، وَكَانَ يَصِفُ قَتْلَهُ إِذَا سُئِلَ عَنْهُ لَا يُبَالِيه.
ابوالغادیہ عمار بن یاسر کا قاتل تھا، اور جب کبھی معاویہ وغیرہ کے پاس جاتا تو کہتا: "دروازے پر عمار کا قاتل آیا ہے"۔ وہ پوچھنے پر لوگوں کو قتل کی تفصیل بتاتا اور اس میں کوئی شرم محسوس نہ کرتا۔
(الاستيعاب لِابن عبد البر: 4/ 1725/ 3113، أسد الغابة لِابن الثیر: 5/ 237/ 6140، تعجيل المنفعة لابن حجر: 2/ 519/ 1364)
(9)۔ ابوالغادیہ نے خود اعتراف کیا ہے کہ عمار بن یاسر کو میں نے قتل کیا ہے۔ وہ قتل کی یہ سٹوری اپنے ایک کارنامے کے طور پر سنایا کرتا تھا کہ جنگِ صِفِّین میں عمار نے پورے جسم پر زِرہ پہن رکھی تھی، صرف گُھٹنے کے پاس کچھ جگہ ننگی تھی، میں نے تاک کر نشانہ مارا اور اسے ڈھیر کردیا۔
(الطبقات الكبرٰى لِابن سعد: 3/ 260، مسند أحمد: 16
۔
🔴 علامہ ذھبی کی تین مزید کتب سے واضح ہے جس میں انہوں نے ابو غادیہ کو عمار بن یاسرؑ کو قاتل قرار دیا:
۞پہلی۞
[میران الاعتدال جلد 1 ص 489 رقم راوی 1843]
میں فرمایا:
فإن عمارا قتله أبو الغادية
عمارؓ کو قتل کرنے والا ابو غادیہ ہے
۞دوسری۞
[ المقتضی فی سرد الکنی جلد 2 ص 3 رقم 4885] میں فرمایا:
أبو الغادية الجهني: يسار بن سَبُع1، له صحبة، وهو قاتل عمار
ابو غادیہ صحابی عمار بن یاسرؓ کا قاتل ہے
۞ تیسری۞ [تاریخ الاسلام جلد 2 ص 308] میں فرماتے ہیں:
وأبو غادية الجهني قاتل عمار
(اس صحابہ کی لسٹ بیان کرتے ہوئے جو معاویہ کے ساتھ تھے) ابو غادیہ صحابی جو عمار بن یاسرؑ کا قاتل تھا۔
وأبو غادية الجهني قاتل عمار
ابو غادیہ صحابی جو عمار بن یاسرؓ کا قاتل تھا۔
حوالہ: سیر اعلام النبلاء سیرت امام علی ع ص 268
Gallery
Tap any image to view full screen