ﺟﻨﺎﺏ ﻋﻤﺎﺭ ﯾﺎﺳﺮ ع

 

📜 رسوؒل خدا(ص) نے فرمایا عماربن یاسر پاکباز اور پاک کیا ھوا ھے 

 

📚 فضائل صحابہ احمد بن حنبل ح 1599 اسناد صحیح

 

📜 قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم:یا عمار! اِذا سَلَكَ النّاسُ كُلُّهُمْ وادِياً وَ عَلِيٌّ سَلَكَ وادِياً فَاسْلُكْ وادِياً سَلَكَهُ عَلِيٌّ وَخَلِّ النّاسَ طُرّاً.

 

اے عمار! جب تمام لوگ ایک راستے سے چل رہے ہوں اور علی (ع) دوسرے راستے سے چل رہے ہوں تو آپ سب کو چھوڑ کر اسی راستے سے چلنا جس سے علی ع چل رہے ہوں..

 

📚 كنزالعمال/ج11/ص613

 

۔

 

فضائل سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ تعالی عنہ 

 

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’عمار ہڈیوں تک ایمان سے لبالب بھرا ہوا ہے۔‘‘ 

📚 (سنن نسائی 5010) 

 

آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے عمار سے عداوت رکھی اللہ اس سے عداوت رکھے گا اور جو شخص عمار سے بغض رکھے گا تو اللہ اس سے بغض رکھے گا۔‘‘

📚 (مشکوة 6256) 

 

عمار ؓ کو اللہ تعالیٰ اپنے نبیﷺ کی زبانی شیطان سے پناہ دے چکا ہے کہ وہ انہیں کبھی غلط راستے پر نہیں لے جا سکتا۔ 

📚 (بخاری 3742) 

 

عمار ؓ نے آ کر نبی اکرم ﷺ سے اندر آنے کی اجازت مانگی تو آپﷺ نے فرمایا: ”انہیں اجازت دے دو، مرحبا مرد پاک ذات و پاک صفات کو۔“

📚 (ترمذی 3798) 

 

سیدنا عمرو بن عاص ؓ نے اپنے بیٹے سے کہا: "میں گواہی دیتا ہوں کہ دو آدمی ایسے تھے کہ اللہ کے رسولﷺ دنیا سے روانہ ہونے تک ان سے محبت کرتے رہے۔ ایک ابن سمیہ اور ابن ام عبد (یعنی سیدنا عمار بن یاسر اور سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما)۔"

📚 (مسند احمد 11870) 

 

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عمار کو جب بھی دو باتوں کے درمیان اختیار دیا گیا تو انہوں نے اسی کو اختیار کیا جو ان دونوں میں سب سے بہتر اور حق سے زیادہ قریب ہوتی تھی۔“

📚 (ترمذی 3799)

 

حضرتِ خالد بن الولید رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

میرے اور حضرتِ عمّارؓ کے درمیان کچھ تنازعہ ہوا تو ہم نے رسول اللہ ﷺ سے رجوع کیا، پس رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"جس نے عمّار پر جرح کی، اس نے اللہ پر جرح کی، اور جو ان سے دشمنی، تو اس نے اللہ سے دشمنی کی ہے۔"

 

📚 (مسند احمد، رقم: ۱۶۸۲۱، المستدرك على الصحيحين للحاكم، جلد ۳، صفحہ نمبر ۴۳۹)

 

۔

 

*حضرت عماربن یاسرؓ کی حضرت علیؓ سے عقیدت* 

 

حضرت عمار رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بڑے جاں نثار اور شیدائی تھے۔جب حضرت علیؓ خلیفہ بنے تو انہوں نے انہیں کوفہ کا گورنر مقرر کیا۔ گورنر ہوجانے کے بعد بھی ان کی وضع قطع میں کوئی فرق نہ آیا ۔ پھٹا پرانا لباس پہنتے تھے۔ بڑی سادگی سے رہتے تھے۔ 

 

ایک دن یہ اپنے ایک معزز دوست کے گھر موجود تھے۔ اس وقت حضرت مطرفؓ بھی وہاں موجود تھے آپس میں بات چیت ہو رہی تھی۔ حضرت عمار رضی اللہ عنہ ایک طرف بیٹھے ہوئے اپنے چرمی لباس میں پیوند لگارہے تھے۔ حضرت مطرفؓ ان کو پہچانتے نہیں تھے کوئی بھی انجان ان کی سادگی کی وجہ سے سمجھ نہیں سکتا تھا کہ یہ گورنر ہوسکتے ہیں۔ 

 

بات چیت میں حضرت مطرفؓ نے اپنے دوست کو حضرت علیؓ کی بے اعتدالیاں گنوانی شروع کیں۔ 

 

حضرت علیؓ کی برائی سنتے ہی حضرت عمارؓ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور سخت برہم ہوئے۔ غصہ سے کانپنے لگے اور کہا: *’’ اے فاسق! کیا تو امیر المومنین کی برائی کرتا ہے؟‘‘* 

 

📚 طبقات ابنِ سعد ج ۵قسم اول

 

ﺟﻨﺎﺏ ﻋﻤﺎﺭ ﯾﺎﺳﺮ ﮐﯽ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺭﺳﻮﻝ خدا ص ﮐﯽ ﭘﯿﺸﻨﮕﻮﺋﯽ 

 

ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺎﺭ ، صحابی رسول اللہ ص حضرت ﯾﺎﺳﺮ ع ﮐﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﯽ ﮐﻨﯿﺖ ﺍﺑﻮ ﯾﻘﻈﺎﻥ ﮨﮯ۔ 

ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺍﻥ ﭼﺎﺭ ﺑﮍﮮ ﺁﺩﻣﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯﺍﺳﻼﻡ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﺒﻘﺖ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯽ ﺑﺎﻗﯽ ﺗﯿﻦ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﺩﺭﺟﮧ ﺫﯾﻞ ﮨﯿﮟ۔

ﺍﺑﻮ ﺫﺭ ، ﻣﻘﺪﺍﺩ ﺍﻭﺭ ﺳﻠﻤﺎﻥ

 

حضرت ﻋﻤﺎﺭ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﻧﮯ ﺍﺳﻼﻡ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﺍﮐﺮﻡ ﮐﯽ ﺣﻤﺎﯾﺖ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺳﺨﺖ ﺗﮑﺎﻟﯿﻒ ﺍﭨﮭﺎﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺗﮑﺎﻟﯿﻒ ﮐﮯ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﻣﯿﮟ ﺷﮩﯿﺪ ﮨﻮﺋﮯ۔

ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺎﺭ ﺑﻦ ﯾﺎﺳﺮ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﻮ ﺍﺑﻮﺟﮭﻞ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﮕﺮ ﻣﺸﺮﮐﯿﻦ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﭘﺮ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﻮ ﺗﺎﺯﯾﺎﻧﮯ ﻣﺎﺭ ﻣﺎﺭ ﮐﺮ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻭﺍﻟﺪﮦ ﮐﮯ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﭘﯿﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺩﻭ ﺍﻭﻧﭩﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﮐﺮ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺳﻤﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﮌﺍﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﮐﮯ ﺩﻭ ﭨﮑﺮﮮ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ۔ ﯾﻌﻨﯽ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﮯ ﺍﻭﻟﯿﻦ ﺷﮩﺪﺍﺀ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺗﮭﮯ۔

 

ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﯽ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺭﻭﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺧﺪﻣﺖ ﺭﺳﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﻋﺎﺋﮯ ﺧﯿﺮ ﮐﯽ ﮐﮧ 

ﺧﺪﺍ ﺁﻝِ ﯾﺎﺳﺮ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺁﮒ ﮐﺎ ﻋﺬﺍﺏ ﻧﮧ ﺩﮮ۔ 

 

ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﺍﮐﺮﻡ ص ﻋﻤﺎﺭ ﮐﮯ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﮐﻮ ﻗﺮﯾﺶ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﭘﮩﻨﭽﺎﺋﯽ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺗﮑﺎﻟﯿﻒ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺟﻨﺖ ﮐﯽ ﺑﺸﺎﺭﺕ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ 

ﺻﺒﺮﺍ ﯾﺎ ﺁﻝ ﯾﺎﺳﺮ ﻓﺎﻥ ﻣﻮﻋﺪﮐﻢ ﺍﻟﺠﻨﺔ

 

حضرت ﻋﻤﺎﺭ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺳﺨﺖ ﺗﮑﺎﻟﻒ ﺍﭨﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻗﺮﯾﺶ ﮐﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﮐﮩﺎ ﺟﺒﮑﮧ ﺁﭖ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﮐﮩﻨﮯ ﮐﻮ ﮨﺮﮔﺰ ﭘﺴﻨﺪ ﻧﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻗﺮﯾﺶ ﮐﮯ ﻇﻠﻢ ﻭ ﺳﺘﻢ ﺳﮯ ﺟﺎﻥ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻘﯿﮧ ﮐﯽ ﺁﯾﺖ ﺷﺎﯾﺪ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺷﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﻧﺎﺯﻝ ﮨﻮﺋﯽ ، 

ﺍﻟﺪﻣﻦ ﺍﮐﺮﮦ ﻭ ﻗﺒﻠﮧ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﺑﺎﻟﺮﻋﺎﻥ

 

ﺟﻨﺎﺏ ﻋﻤﺎﺭ ﯾﺎﺳﺮ ع ﻧﮯ ﻣﮑﮧ ﺳﮯ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﮨﺠﺮﺕ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﺟﻨﮓ ﺑﺪﺭ، ﺍﺣﺪ، ﺧﻨﺪﻕ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﻌﺖ ﺭﺿﻮﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﮐﺮﻡۖ ﮐﮯ ﮨﻤﺮﺍہ تھے ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﺎ ﺩﻓﺎﻉ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺟﮩﺎﺩ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺸﺮﮐﻮﮞ ﺳﮯ ﺟﻨﮓ ﮐﯽ۔

ﺭﺳﻮﻝ ﺍﮐﺮﻡۖ ﺟﻨﺎﺏ ﻋﻤﺎﺭ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ :

 

ﺻﺤﯿﺢ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﻋﻤﺎﺭ ﺳﮯ ﺳﯿﮑﮭﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﭘﯿﺮﻭﯼ ﮐﺮﻭ۔

 

ﺧﺎﻟﺪ ﺑﻦ ﻭﻟﯿﺪ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ : ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﻋﻤﺎﺭ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻏﺼﮧ ﺳﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ،

ﻋﻤﺎﺭ ﺭﺳﻮﻝ ﺧﺪﺍۖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮐﯽ ،ﺧﺎﻟﺪ ﺑﮭﯽ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﻋﻤﺎﺭ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﺳﺨﺖ ﮐﻠﻤﺎﺕ ﮐﮩﮯ ،

ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﺍﮐﺮﻡۖ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﻧﮯ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ۔

ﺍﺳﯽ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻋﻤﺎﺭ ﺑﻦ ﯾﺎﺳﺮ ﺭﻭﻧﮯ ﻟﮕﮯ۔

 

ﻋﻤﺎﺭ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﯾﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ! ﺁﭖ ﻧﮯ ﺧﺎﻟﺪ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺳﻨﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔

ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺭﺳﻮﻝ ﺧﺪﺍۖ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺳﺮ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :

ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﻋﻤﺎﺭ ﺳﮯ ﺩﺷﻤﻨﯽ ﺭﮐﮭﮯ ،ﺍﺱ ﻧﮯ ﺧﺪﺍ ﺳﮯ ﺩﺷﻤﻨﯽ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﻋﻤﺎﺭ ﮐﻮ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﮐﺮﮮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺧﺪﺍ ﮐﻮ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﮐﯿﺎ۔

 

ﺧﺎﻟﺪ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﻣﯿﮟ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﺍﮐﺮﻡۖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺳﮯ ﺍﭨﮫ ﮐﺮ ﺑﺎﮨﺮ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﻤﺎﺭ ﺳﮯ ﺻﻠﺢ ﮐﺮ ﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺭﺿﺎﺋﯿﺖ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮ ﻟﯽ۔

 

ﺭﺳﻮﻝ ﺍﮐﺮﻡۖ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺑﻮﺍﯾﻮﺏ ﺍﻧﺼﺎﺭﯼ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺯﻣﯿﻦ ﺧﺮﯾﺪی ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﺠﺪ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﺎ ﮔﮭﺮ ﺑﻨﺎﯾﺎ۔

ﺍﺑﻦ ﺍﺳﺤﺎﻕ ﻧﮯ ﻣﺴﺠﺪ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﺟﺴﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﮐﯿﺎ ﮐﮯ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮐﻮ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺧﺎﺹ ﻃﻮﺭ ﺳﮯ ﻋﻤﺎﺭ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺫﮐﺮ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ۔

 

ﻭﮦ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ : ﺟﺐ ﻋﻤﺎﺭ ﯾﺎﺳﺮ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﻮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮐﻨﺪﮬﻮﮞ ﭘﺮ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﯾﻨﭩﯿﮟ ﺭﮐﮭﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔

ﺍﻧﮩﻮﮞ نے ﮐﮩﺎ : ﯾﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ! ﻣﺠﮭﮯ ان لوگوں نے ﻣﺎﺭﮈﺍﻻ ، ﯾﮧ ﺟﻮ ﭼﯿﺰ ﺧﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﭨﮭﺎ ﺳﮑﺘﮯ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﻨﺪﮬﻮﮞ ﭘﺮ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔

 

جناب ﺍﻡ ﺳﻠﻤﮧ س ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﺍﮐﺮﻡۖ ﮐﯽ ﺯﻭﺟﮧ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﯿﮟ : ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﺧﺪﺍۖ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺮ ﺳﮯ ﺑﻮﺟﮫ ﮐﻮ ﺍﺗﺎﺭﺍ ﺟﺐ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮔﮭﻨﮕﮭﺮﯾﺎﻟﮯ ﺑﺎﻝ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :

 

" ﯾﮧ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ، ﺑﻠﮑﮧ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﻏﯽ ﮔﺮﻭﮦ ‏ﺳﺮﮐﺶ ﺍﻭﺭ ﻇﺎﻟﻢ ‏ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ۔

 

ﯾﮧ ﮨﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﮐﺮﻡۖ ﮐﺎ ﻭﮦ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﻓﺮﻣﺎﻥ ﺟﻮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺱ ﺻﺤﺎﺑﯽ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺟﺲ ﻧﮯ ﻓﺪﺍﮐﺎﺭﯼ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﻥ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺩﺭﯾﻎ ﻧﮧ ﮐﯿﺎ۔

 

ﺯﮨﺮﯼ ﮐﯽ ﺭﻭﺍﯾﺖ ہے کہ ﺟﺲ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ جناب ﻋﻤﺎﺭ ﻧﮯ ﮔﮭﺮ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ، ﻭﮦ ﺯﻣﯿﻦ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺭﺳﻮﻝ ﺧﺪﺍ ص ﻧﮯ ﻋﻄﺎ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ۔

 

ﺟﺐ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﻋﻘﯿﺪﮮ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﭘﺮ ﺍﺧﻮﺕ ﻭ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﭼﺎﺭﮦ ﮐﺎ ﺍﻋﻼﻥ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻣﻮﻗﻊ ﭘﺮ ﺍﻧﺼﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺟﻠﯿﻞ ﺍﻟﻘﺪﺭ ﺻﺤﺎﺑﯽ ﺟﻨﺎﺏ ﺣﺰﯾﻔﮧ ﺑﻦ ﯾﻤﺎﻥ ﮐﻮ جناب ﻋﻤﺎﺭ ﮐﺎ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔

 

ﺍﺱ ﺑﻨﺎﺀ ﭘﺮ ﺭﺳﻮﻝ ﺧﺪﺍ ۖﮐﮯ ﺻﺤﺎﺑﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﻋﻤﺎﺭ ﯾﺎﺳﺮ ﺍﯾﮏ ﻧﻤﺎﯾﺎں چہرہ ہے ﺟﻨﮩﯿﮟ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﺤﺒﻮﺑﯿﺖ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﮯ۔

 

ﺭﺳﻮﻝ ﺧﺪﺍۖ ﻧﮯ ﺟﻨﺎﺏ ﻋﻤﺎﺭ ﯾﺎﺳﺮﮐﮯ ﻣﺎﺿﯽ، ﺷﮩﺮﺕ، ﻣﺤﺒﻮﺑﯿﺖ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﺎﻡ ﺧﺼﻮﺻﯿﺖ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻋﻤﺎﺭ ﮐﯽ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﮐﯽ ﮐﯿﻔﯿﺖ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺸﻨﮕﻮﺋﯽ ﺑﯿﺎﻥ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ ﺗﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺣﻖ ﻭ ﺑﺎﻃﻞ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺳﮯ ﺗﺸﺨﯿﺺ ﺩﮮ ﺳﮑﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺟﺎﻥ ﻟﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮔﺮﻭﮦ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻋﻤﺎﺭ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ﻭﮦ ﺭﺍﮦ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﭘﺮ ﮨﻮ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﮔﺮﻭﮦ ﮔﻤﺮﺍﮨﯽ ﻭ ﺿﻼﻟﺖ ﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﭘﺮ ﮔﺎﻣﺰﻥ ﮨﻮ ﮔﺎ۔

 

حضرت ﻋﻤﺎﺭ ، ﺍﻣﺎﻡ ﻋﻠﯽ ع ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮭﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻧﺒﯽ ﺍﮐﺮﻡ ص ﮐﯽ ﺭﺣﻠﺖ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﻨﺎﺏ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺯﮨﺮﺍ ﮐﮯ ﺟﻨﺎﺯﮮ ﻣﯿﮟ ﺷﺮﮐﺖ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﻨﮓ ﺟﻤﻞ ﺍﻭﺭ ﺻﻔﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﻣﺎﻡ ﻋﻠﯽ ع ﮐﮯ ﺳﭙﮧ ﺳﺎﻻﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﺎﻡ ﻋﻠﯽ ع ﮐﯽ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﮨﻢ ﺳﺘﻮﻥ ﺗﮭﮯ۔

 

جناب عمار بن یاسر ﮐﯽ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﺟﻨﮓِ ﺻﻔﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺋﯽ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﺍﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻃﺎﻟﺐ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺷﺮﯾﮏ ﺗﮭﮯ۔ﯾﮧ 9 ﺻﻔﺮ 37 ﮪ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ 93 ﺑﺮﺱ ﺗﮭﯽ۔

 

ﺍﻟﻐﺎﺭﺍﺕ ﻭ ﺷﺮﺡ ﺍﻋﻼﻡ ﺁﻥ : .492

ﺍﻟﺴﻴﺮﺓ ﺍﻟﻨﺒﻮﻳّﺔ : 106/4 .

ﺍﻟﺴﻴﺮﺓ ﺍﻟﻨﺒﻮﻳّﺔ : 102/2 .

ﺍﻟﻄﺒﻘﺎﺕ ﺍﻟﻜﺒﺮﻯ : 250/3 .

ﺭﻓﺘﺎﺭﺷﻨﺎﺳﻰ ﺍﻣﺎﻡ ﻋﻠﻰ ﻋﻠﻴﻪ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺩﺭ آئنیہ ﺗﺎﺭﻳﺦ ص 196

 

۔

 

🔴 متن حدیث (از ابو ایوب انصاری):

 

> رسول خدا ﷺ نے عمار بن یاسر سے فرمایا:

 

> "اے عمار!

میرے بعد میری امت میں ایسے حالات آئیں گے کہ ان میں تلوار کا اختلاف ہو گا۔

یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے کو قتل کریں گے،

اور ایک دوسرے سے بیزاری ظاہر کریں گے۔

 

> جب تم یہ دیکھو، تو اس گنجے (أصلع) شخص کی پیروی کرنا جو میرے دائیں جانب ہے"

(یعنی علی بن ابی طالبؑ)

 

> اگر تمام لوگ ایک وادی میں چلیں

اور علیؑ دوسری وادی میں،

تو تم علیؑ کی وادی اختیار کرنا

اور لوگوں کو چھوڑ دینا۔

 

> اے عمار!

علیؑ تمہیں کبھی ہدایت سے نہ روکے گا

اور نہ ہی گمراہی کی طرف لے جائے گا۔

 

> اے عمار!

علیؑ کی اطاعت، میری اطاعت ہے

اور میری اطاعت، اللہ عز و جل کی اطاعت ہے۔"

 

---

 

📚 مراجع و مصادر:

 

بشارة المصطفى، ص 146

 

عمدة العيون، ص 451

 

طرف من الأنباء، ص 460

 

الطرائف، ج 1، ص 102

 

كشف اليقين للحلي، ص 161

 

نهج الحق، ص 224

 

تأويل الآيات، ص 198

 

إثبات الهداة، ج 3، ص 126

 

بحار الأنوار، ج 38، ص 37

 

تفسير كنز الدقائق، ج 5، ص 318

 

🕊 نتیجہ:

 

یہ حدیث رسول اکرم ﷺ کی زبانی حضرت علیؑ کی امامت، عصمت، اور برحق قیادت کا واضح اعلان ہے۔

نبی ﷺ نے عمار کو تاکید کی کہ:

 

اختلاف و فتنہ کے زمانے میں صرف علیؑ کا دامن تھامنا،

 

کیونکہ علیؑ ہدایت کے راستے پر ہیں،

 

ان کی اطاعت، رسول کی اطاعت ہے — اور وہ اللہ کی اطاعت ہے۔

 

۔

 

🔴 عمار بن یاسر روایت کرتے ہیں:

میں ایک دن اپنے مولا (امیرالمؤمنین علی علیہ السلام) کے پاس آیا، تو انہوں نے میرے چہرے پر غم و افسردگی دیکھی۔

مجھ سے فرمایا: ’’تمہیں کیا ہوا؟‘‘

میں نے عرض کیا: ’’کچھ قرض ہے، جس کا تقاضا کیا جا رہا ہے۔‘‘

 

مولا نے ایک قریب پڑے ہوئے پتھر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:

"یہ لے لو، اور اس سے اپنا قرض ادا کر دو۔"

 

میں نے عرض کیا: "مولا! یہ تو ایک پتھر ہے!"

 

مولا نے فرمایا: "میرے نام کے واسطے سے اللہ سے دعا کرو، یہ تمہارے لیے سونا بن جائے گا۔"

 

میں نے مولا کے نام سے دعا کی، تو وہ پتھر واقعی سونا بن گیا!

 

مولا نے فرمایا: "اب اس میں سے اپنی حاجت لے لو۔"

 

میں نے کہا: "یہ سونا نرم کیسے ہوگا؟"

 

مولا نے فرمایا:

"اے کمزور یقین والے! میرے نام کے واسطے اللہ سے دعا کرو تاکہ یہ نرم ہو جائے، کیونکہ میرے نام کے واسطے ہی اللہ نے داؤد علیہ السلام کے لیے لوہا نرم کیا تھا۔"

 

عمار کہتے ہیں:

میں نے مولا کے نام سے دعا کی تو وہ سونا نرم ہو گیا، میں نے اپنی حاجت لے لی۔

پھر مولا نے فرمایا: "اب میرے نام کے ساتھ دعا کرو تاکہ باقی پتھر کی طرح ہو جائے جیسا کہ پہلے تھا۔"

 

📚 مشارق أنوار اليقين، صفحہ 272

 

۔

 

🔴 حضرت عمار بن ياسر

 

حضرت عمار، یاسر کے بیٹے اور آپ کی کنیت ابو یقظان ہے۔ وہ اپنے زمانے کے ان چار بڑے آدمیوں میں سے تھے جنہوں نےاسلام قبول کرنے میں سبقت حاصل کی باقی تین افراد درجہ ذیل ہیں۔

ابو ذر، مقداد اور سلمان

 

عمار کے والدین نے اسلام اور پیغمبر اکرم کی حمایت کی وجہ سے سخت تکالیف اٹھایں اور انہیں تکالیف کے نتیجہ میں شہید ہوئے۔

 

جب بھی پیغمبر اکرم عمار کے خاندان کو قریش کی طرف سے پہنچائی جانے والی تکالیف کو دیکھتے تو انہیں جنت کی بشارت دیتے ہوئے فرماتےصبرا یا آل یاسر فان موعدکم الجنة

 

عمار نے بھی سخت تکالف اٹھانے کے بعد قریش کے کہنے کے مطابق کہا جبکہ آپ کو یہ سب کچھ کہنے کو ہرگز پسند نہ کرتے تھے اور قریش کے ظلم و ستم سے جان بچانے میں کامیاب ہو گئے اور تقیہ کی آیت شاید آپ کی شان میں ہی نازل ہوئی، الدمن اکرہ و قبلہ مطمئن بالرعان

 

عمار یاسر حبشہ کے مہاجرین اور دو قبلہ کی جانب نماز پڑھنے والوں بدر اور دیگر جنگوں میں شریک ہونے والوں میں سے ہیں اور بیعت رضوان بھی نبی اکرم کے ساتھ تھے اور یہ ان تمام خواص میں سے ہر ایک آپ کی فضیلت اور برتری کے لئے کافی ہے۔ پیغمبر نے بھی کئی مرتبہ آپ کی تعریف و تمجید کی ہے اور آپ کے بارے میں فرمایا عمار کا پورا بدن پاؤں سے چوٹی تک آپ کے گوشت، پوست میں ایمان بھرا ہوا ہے۔

 

اسی طرح پیغمبر نے امام علی سے کہا جنت آپ ،عمار، سلمان اور ابوذر کی منتظر ہے اور آپ کی شخصیت کے بارے میں فرمایا عمار حق کے ساتھ ہے اور حق عمار کے ساتھ ہے جب عمار اورخالد بن ولید کے درمیان جھگڑا ہوا تو پیغمبر اکرم نے فرمایا ۔

 

کہ جو کوئی بھی عمار کے ساتھ دشمنی کرے گا اس نے خدا کے ساتھ دشمنی کی اور جس نے بھی عمار کو ناراض کیا اس نے خدا کو ناراض کیا اورجس نے بھی عمار کو گالی دی اس نے خدا کو گالی دی۔

 

عمار امام علی کے ساتھیوں میں سے تھے۔ نبی اکرم کی رحلت کے بعد جناب فاطمہ زہرا کے جنازے میں شرکت کی اور جنگ جمل اور صفین میں امام علی کے سپہ سالاروں میں سے تھے اور امام علی کی حکومت کے ایک اہم ستون تھے۔

 

عمار 37ھ کو جنگ صفین میں شہید ہوئے۔ نبی کریم کا عمارکے بارے میں مشہور جملہ کہ عمار کو ایک باغی و سرکش گروہ قتل کرے گا“ نے معاویہ اور اس کے ساتھیوں کی حقیقت کو ان کے لئے ظاہر کر دیا کہ جو شک و تردید کا شکار تھے اور عمار کی شہادت کے بعد بہت لوگ کہ جو جنگ میں شریک نہیں تھے شریک ہوئے اور جام شہادت نوش کیا۔

 

علماء رجال نے عمار کی شان و منزلت بیان کرتے ہوئے ان کی روایت کو تواتر کی حد تک جانا ہے۔ عمار روایات کو نبی اکرم اور امام علی اور حذیفہ بن یمان سے نقل کرتے ہیں اور جابر بن عبداللہ ، عبداللہ بن جعفر اور عبداللہ بن عباس وغیرہ نے بھی عمار یاسر سے روایات نقل کی ہیں۔

 

بنى مخزوم نے عمار بن ياسر كوبھى زبردست اذيتيں پہنچائيں يہاں تك كہ وہ قريش كى من پسند بات كہنے پرمجبور ہوئے اور يوں انہوں نے عمار كو چھوڑ ديا_ اس كے بعد وہ رسول(ص) الله كے پاس روتے ہوئے آئے اور عرض كيا " يا رسول (ص) اللہ جب تك ميں نے مجبور ہوكر آپ (ص) كو برا بھلا نہيں كہا اور ان كے معبودوں كى تعريف نہيں كى تب تك انہوں نے مجھے نہيں چھوڑا" _

 

آپ(ص) نے فرمايا: "اے عمار تيرى قلبى كيفيت كيسى ہے؟ " عرض كيا "يا رسول (ص) الله ميرا دل تو ايمان سے لبريز ہے""_ آپ(ص) نے فرمايا: "پس كوئي حرج نہيں بلكہ اگر وہ دوبارہ تمہيں مجبور كريں توتم پھر وہى كہو جو وہ چاہيں_ بے شك خدانے تيرے بارے ميں يہ آيت نازل كى ہے (الا من اكرہ وقلبہ مطمئن بالايمان) مگرجس پر جبر كيا جائے جبكہ اس كا دل ايمان سے لبريز ہو_ (1)

 

1_ سورہ نحل، آيت 106، رجوع كريں: حلية الاولياء ج 1 ص 140، تفسير طبرى ج 4 ص 112 اور حاشيہ پر تفسير نيشاپورى اور بہت سى ديگر كتب_

 

۔

 

🔴 واضطرَّ عمار لموافقة المشركين بلسانه من أثر التعذيب القاسي لكنَّ قلبه كان ثابتاً على الإيمان، حيث روي عن الإمام الصادق (ع) أنَّه قال: (...، عمار بن ياسر حيث أكرهه أهل مكة وقلبه مُطمئنٌّ بالإيمان، فأنزل الله عز وجل فيه "إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ" ...). 

 

امام صادق (علیہ السلام) سے روایت: "عمار بن یاسر، جس کو مکہ والوں نے مجبور کیا اور اس کا دل ایمان پر مطمئن تھا، تو اللہ عزوجل نے اس کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی 'مگر وہ شخص جس کو مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو'

 

[الكافي الشريف ج2 - ص219]

 

وعمار من أفاضل أصحاب رسول الله (ص)، حيث ورد في مدحه أحاديثُ كثيرة، منها ما روي عن أمير المؤمنين (ع) أنَّه قال: قال النبي (ص): (الجنة تشتاق إليك وإلى عمار وسلمان وأبي ذر والمقداد). 

 

امیر المؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا: نبی (صلى الله عليه وآله وسلم) نے کہا: 'جنت تمہاری طرف، عمار کی طرف، سلمان کی طرف، ابو ذر کی طرف، اور مقداد کی طرف مشتاق ہے

 

[الخصال ص303]

 

وكان من الثابتين مع أمير المؤمنين (ع) في مواقفه وكلماته حتى جاء يوم حرب صفِّين ولما رأى عمار شدة القتال سأل فقال: (يا أمير المؤمنين هو هو؟ قال: ارجع إلى صفّك، فقال له ذلك ثلاث مرات، كلُّ ذلك يقول له ارجع إلى صفك، فلما أن كان في الثالثة قال له نعم. فرجع إلى صفه وهو يقول: 

اليوم ألقى الأحبة * محمداً وحزبَه 

 

"اور جب صفین کی جنگ میں عمار بن یاسر نے جنگ کی شدت دیکھی تو انہوں نے امیر المؤمنین (علیہ السلام) سے پوچھا: 'یا امیر المؤمنین! کیا وہ (معاندین) وہی ہیں؟' تو امیر المؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا: 'اپنی صف میں واپس جاؤ۔' عمار نے تین مرتبہ یہی سوال کیا اور ہر مرتبہ حضرت علی (علیہ السلام) نے فرمایا: 'اپنی صف میں واپس جاؤ۔' لیکن جب عمار نے تیسری مرتبہ پوچھا تو حضرت علی (علیہ السلام) نے فرمایا: 'ہاں۔' تو عمار اپنی صف میں واپس چلے گئے اور کہنے لگے:

 

آج میں اپنے محبوبوں سے ملوں گا  

محمد اور اس کے گروہ سے۔

 

[اختيار معرفة الرجال ج1 -ص126]

 

وكذلك قال: (والله لو ضربونا حتى بلغونا سعفات هَجَرْ لعلمتُ أنَّنا على الحق وأنَّهم على الباطل). 

 

عمار نے کہا: 'واللہ! اگر وہ ہمیں اتنا ماریں کہ ہمیں ہجر کے درختوں تک پہنچا دیں، تب بھی میں جانتا ہوں کہ ہم حق پر ہیں اور وہ باطل پر ہیں

 

[بحار الأنوار ج33 - ص14]

 

۔

 

🔴 بسمہ اللہ الراحمن الراحیم. 

حضرت عمار بن یاسر سے روائت ہے کہ امیرالمومنین ء دارالقضاء میں تشریف فرما تھے کہ اتنے میں ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ!مولا: میرا نام صفوان بن اکحل ہے اور میں آپ کا شیعہ ہوں اور مجھ پر گناہوں کا بوجھ ہے.آپ مجھے میرے گناہوں سے پاک کریں تاکہ آخرت کے عذاب سے محفوظ رہے سکوں.

مولا نے فرمایا جو گناہ تو نے کیا ہے اسکی تین سزائیں ہیں.

ان تینوں میں سے کسی ایک کا انتخاب تم خود کرو.

1-اگر چاہوں تو میں تجھے زوالفقار سے قتل کروں.

2-اگر چاہوں تو تم پر اک دیوار گرا کر تجھے تیرے گناہوں سے پاک کر دوں.

3-اگر چاہوں تو لکڑیوں کے ڈھیر پہ تجھے بٹھا کر آگ لگا دوں.

اس شخص نے کہا کہ مولا ان میں سے آگ میں جل کر مرنا سب سے مشکل ہے اور میں اس مشکل سزا کو ہی اپنے لیے منتخب کرتا ہوں.

حضرت نے فرمایا عمار! ایک ہزار لکڑیاں اکٹھی کرو اور کل میں اسے آگ میں جلاؤں گا.

پھر آپ نے اس شخص سے فرمایا کہ اب تم چلے جاو اور تمہیں جو وصیتیں کرنی مقصود ہوں وہ کر لو اور کل میرے پاس آ جانا.میں سزا کے زریعے سے تجھے گناہوں سے پاک کر دوں گا.

وہ شخص اپنے گھر چلا گیا اور اس نے اپنی وصیتیں ؛نصیحتیں کیں اور اس نے اپنا مال اپنی اولاد میں شریعت کے مطابق تقسیم کیا-پھر دوسرے دن نمازِ فجر کے وقت واپس آ گیا.

مولا نے حضرت عمار یاسر کو کہا کہ تم شہر کوفہ میں اعلان کراؤ کہ لوگو!

آؤ اور اپنی آنکھوں سے دیکھو کہ علی اپنے گنہگار شیعہ کو کسطرح آگ میں جلاتا ہے.

حضرت عمار کا بیان ہے کہ اگلے دن اسی وقت کے مطابق لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہوا کہ دیکھیں علی اپنے شیعہ کو کیسے جلاتا ہے.

لوگ اکٹھے ہوے تو مولا نے فرمایا عمار لکڑیوں کو اکٹھا کرو.

لکڑیاں اکٹھی ہوئیں تو مولا نے کہا کہ جا ان لکڑیوں کے ڈھیر پہ بیٹھ جا.اس نے مولا کے قدم چومے اور جلتی ہوئ لکڑیوں میں چھلانگ لگا دی.

کسی نے کہا کہ یا علی آگ بہت زیادہ ہے اسکی ہڈیاں بھی جل کر راکھ ہو جائیں گی مہربانی کرو سزا ہو گئ اب اسکی لاش کو نکال لیں.علی مسکراتے رہے اور جواب نہ دیا. 

کچھ دیر بعد آگ بجھی وہ بندہ صحیح سلامت آگ سے نمودار ہوا. لوگوں کے چہروں پہ موت کا سکتہ تاری ہو گیا.کہ اس شخص کو آگ تو آگ اس کے کپڑوں کو بھی نہ جلا سکی.عمار نے مولا کے قدم پکڑے اور کہا مولا اس راز سے پردہ تواٹھاؤ. 

مولا نے کہا کہ اگر کوئ مجھے دل سےمان لے یہ آگ کیا دوزخ کی آگ بھی اسکا کچھ نہیں بگاڑ سکتی.

                       کتاب 

                معجزاتِ آلِ محمد جلد 1

. تالیف

. سیدہاشم البحرانی

 

۔

 

🔴 💠💠دو کبوتر💠💠

 

سید رضی نے اپنی اسناد کے ساتھ عمار یاسر ؑ سے روایت نقل کی ۔۔۔انہوں نے فرمایا کہ ایک دن میں اکیلا ہی امیرالمومنین ؐ کے ساتھ مسجد کوفہ میں بیٹھا ہوا تھا اور مسجد میں ہمارے علاوہ اور کوئی نہیں تھا کہ اتنے میں امیرالمومنین ؐ نے فرمایا؛

تو اسکی تصدیق کر یہ بلکل سچ کہتا ہے۔

میں نے حیران ہوکر دائیں بائیں جانب دیکھا لیکن مجھے کچھ بھی دیکھائی نہ دیا۔ میں نے اپنے دل ہی دل میں کہا کہ نجانے میرا آقا کس سے گفتگو کررہا ہے؟؟؟

امیرالمومنین ؐ نے فرمایا:عمار! سر اٹھا کراوپر دیکھو۔ میں سر اٹھا کر اوپر نگاہ کی تو مجھے دو کبوتر نظر آئے جو ایک دوسرے سے محو کلام تھے۔۔

عمار ؑ! جانتے ہو یہ کیا کہہ رہے ہیں؟؟

میں نے عرض کیا؛ امیرالمومنین ؐ! میں نہیں جانتا۔۔

امیرالمومنین ؐنے فرمایا؛ یہ مادہ اپنے نر سے کہہ رہی تھی تو نے مجھے چھوڑ دیا اور کسی اور سے جاکر دل لگایا؟ اسکے جواب میں نر نے قسم کھا کر کہا کہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔۔۔

کبوتری نے کہا؛ میری تیری تصدیق نہیں کرتی۔

اس پر نر کبوتر نے کہا؛ مجھے اس عظیم شخصیت کی قسم جو اس وقت یہاں محراب مسجد میں بیٹھا ہوا ہے سمیں نے تیرے علاوہ اور کسی سے دوستی نہیں کی۔۔۔۔

کبوتری نے اس مرتبہ بھی اسےجھٹلانا چاہا تو میں نے اس سے کہا؛ اسکی تصدیق کر یہ سچ کہہ رہا ہے۔۔

عمار ؑ نے حیران ہوکر کہا: امیرالمومنین ؐ ! مگر میں سمجھتا تھا کہ سلیمان بن داود ؑ کے علاوہ پرندوں کی بولیاں کوئی نہیں جانتا؟؟

آپ نے فرمایا؛ عمار ! سلیمان ؑ نے ہم اہل بیت ؐ کا واسطہ دے کر تو پرندوں کی بولیاں سمجھنے کی درخواست کی تھی جس کی وجہ سے خدا نے اسے پرندوں کی بولیوں کا علم عطا کیاتھا۔۔۔

 

 حوالہ==>> معجزاتِ آل محمد ؐ مصنف سید ہاشم البحرانی رح

حصہ۔۔اول

صفحہ۔۔۔٢٨٩٫٢٩٠

 

۔

 

🔴 عمار یاسر         

 

        عمار یاسر پیغمبر اسلام کے بزرگ صحابہ نیز خدا اوراس کے رسول پر سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں سے تھے ۔آپ کے ماں ، باپ اور بھائی ،اسلام کے سب سے پہلے شہیدوں میں سے ہیں ۔ آپ کی والدہ ، سمیہ تاریخ اسلام کی سب سے پہلی شہید عورت ہیں ، جناب عمار اپنی طولانی عمر کی وجہ سے پیغمبر اسلام کے بعد حضرت علی علیہ السلام کیمددگاروں میں شمار ہوتے ہیں ۔ جناب عمار اہل بیت عصمت و طہارت کے ان باوفا افراد میں سے ہیں جنہوں نے اپنے ہر فعل میں خدا کی مرضی کو مقدم رکھا ، آپ شجاع ، باوقار اور صدر اسلام کے دلاوروں میں سے تھے اور بعض جنگوں میںسردار لشکرکے فرائض بھی انجام دے چکے ہیں ۔

 

        عمار یاسر جنگ بدر اور پیغمبر اسلام کی تمام جنگوں میں شریک تھے ، جنگ بدر میں اپنی بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کرکے بعض قریش کے بہادروں کو تہہ تیغ کردیا تھا۔

 

        ابوبکر کے مرنے کے بعد عمر نے آپ کو کوفہ کا گورنر بنا کر بھیجا ۔ اور جب عمر ہی نے آپ کو معزول کردیا تو کسی نے آپ سے سوال کیا کہ کیا آپ اپنی معزولی پر ناراض نہیں ہیں ؟ تو جواب دیا : ’’کب میں اپنے انتصاب سے خوشحال تھا جو معزول ہونے پر رنجیدہ ہوتا‘‘

 

        عثمان کی حکومت کے زمانے میں جناب عمار اعتراض کرنے والوں میں پیش پیش تھے اور ہمیشہ عثمان کے غلط کاموں اور بنی امیہ کی بدکاریوں کی شکایت کرتے رہتے تھے جس کی وجہ سے کئی بار عثمان نے آپ کو ضرب و شتم کیااور ربذہ تبعید کرنے کی دھمکی بھی دی لیکن آپ اپنے اعتراض سے کبھی بعض نہ آئے ۔

 

        عمار ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے جناب امیر المومنین علی ابن ابی طالب ، امام حسن ؑ، امام حسین ؑ، مقداد ، عقیل ، زبیر ، ابوذر ، سلمان

 

فارسی اور بنی ہاشم کے بعض افراد کے ہمراہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا،گوہر ناب محمدی کے جنازہ پر نماز پڑھی تھی ۔

 

        عثمان کی حکومت کے سقوط اور حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب کی خلافت کے نافذ ہونے کے بعد عمار اور قیس بن سعد بیت المال کی امانتداری کے فرائض انجام دیتے تھے۔

 

        آخر کار جناب عمار جنگ صفین میں ربیع الاول ۳۷۔ھ؁ کو جام شہادت سے سیراب ہوئے ۔ معاویہ نے کہا : عمار کو جنگ کے لئے جو لایا ہے اس نے شہید کیا ہے ‘‘ اس طرح اہل شام کو اپنے ان جملوں سے فریب دیا ۔

 

        جب جناب امیر المومنین کو جناب عمار کے شہید ہونے کی خبر ملی تو آپ ؑعمار کے جنازے کے پاس آئے اور اپنے زانو پر عمار کا سر رکھ کر فرمایا:

 

                الا یا ایھا الموت الذی ھو قاصدی ارحنی فقد افنیت کل خلیل

 

                اراک بصیرا بالذین احبھم کانک تنحو نحوھم بدلیل

 

        اس کے بعد آپ ؑنے عمار کے جنازے پر نماز پڑھائی اور خداوند منان سے عمار کے حق میں طلب خیر کیا۔( شوستری ؛ قاضی نور اللہ ، مجالس المومنین :ج۱ص۲۱۴)