Back to معاویہ

معاویہ اور اس کے خاندان کے ایمان کی حقیقت

معاویہ اور اس کے خاندان کے ایمان کی حقیقت 

 

قرآن کریم میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے

ہے۔

قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا ۖ قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُـوْا وَلٰكِنْ قُـوْلُـوٓا اَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْاِيْمَانُ فِىْ قُلُوْبِكُمْ ۖ وَاِنْ تُطِيْعُوا اللّـٰهَ وَرَسُوْلَـهٝ لَا يَلِتْكُمْ مِّنْ اَعْمَالِكُمْ شَيْئًا ۚ اِنَّ اللّـٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِـيْـمٌ (الحجرات 14)

 

اعرابی کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے ہیں، کہہ دو تم ایمان نہیں لائے لیکن تم کہو کہ ہم اسلام لائے ہیں اورابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو تو تمہارے اعمال میں سے کچھ بھی کم نہیں کرے گا، بے شک اللہ بخشنے والا نہایت رحم والا ہے۔

 

جلیل القدر صحابی رسول صل اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عمار بن یاسر رض نے جنگ صفین کے دوران فرمایا:اے مسلمانو! کیا تم ایسے شخص کو دیکھنا چاہتے ہو کہ جس نے خدا اور اس کے رسول کے ساتھ دشمنی کی،رسول ص کی مخالفت میں جدوجہد کی،مسلمانوں پر مسلح ہو کر تجاوز کیا، مشرکوں کی حمایت کی،اور جب خدا نے چاہا کہ وہ اپنے دین کی حمایت کرے اور اس کو نمایاں کرے اور اپنے رسول ص کی مدد کرے، تو وہ شخص پیغمبر ص کے پاس آتا ہے اور مسلمان ہوجانے کا اظہار کرتا ہے۔ جبکہ خدا کی قسم! اس نے اسلام کو ہرگز دل سے قبول نہیں کیا، بلکہ ڈر اور خوف کے سبب اس نے اظہار اسلام کیا، جب پیغمبر صل اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا سے گئے تو خدا کی قسم ہم جانتے تھے کہ وہ مسلمانوں کا دشمن اور تباہ کاروں کا دوست ہے 

 ہاں! وہ شخص معاویہ ہی ہے، لھذا تم اس پر لعنت بھیجو، اور اس کے ساتھ جنگ کرو، اس لئے کہ یہ وہ شخص ہے جو دین کی مشعل کو خاموش اور خدا کے دشمنوں کی مدد کر رہا ہے۔

 

___________________

 الخلفاء ص ١٩٨

۸ ـ موطّأ 2 : 59 [2/634 ، ح 33] ; السنن الکبرى، نسائى 77 : 279 [4/30 ، ح 6164] .

۹ ـ کتاب الاُمّ 1 : 208 ]1/235[ .

۱۰ ـ المحلّى : 5 : 82 .

۱۱ ـ الدیات : 50 .

۱۲ ـ البدایة والنهایة 8 : 139 [8/148 ، حوادث سال 60 هـ [ .

۱۳ ـ [قسمت داخل کروشه از منبع اصلى آورده شده است[ .

۱۴ ـ مراجعه شود: الاُمّ ، شافعى 7 : 293 [7 / 3211 ;ر . ک : الغدیر 8/240 ـ 248[۱۵ ـ فتح الباری 2 : 215 .

۱۶ ـ احمد در مسند [5/597 ، ح 193800] از عمران این روایت را نقل مى کند.

۱۷ ـ الوسائل إلى مسامرة الأوائل : 15 .

۱۸ ـ کتاب الاُمّ 1 : 94 [1/108[ .

1۹ ـ المصنّف [3 / 284 ، ح 5646[ .

2۰ ـ شفیعی شاہرودی، الغدیر سے منتخب اشعار، ص 982 و 986 و 987 و 992.

۲۱البدایۃ و النھایۃ ابن کثیر ج۸ ص ۱۳۱۱ ابو داود طیالسی اور ابن عساکر سے نقل کے ساتھ۔

۲۲حوالاجات: کتاب صفین، ص ۳۶۰ا، شرح ابن ابی الحدید ج۱۱ ص ۵۰۴۔

۲۳۔ربیع الابرار

۲۴۔ شرح نہج البلاغہ ، محمد عبدہ ۳: ۹۱؛شرح ابن ابی ا لحدید ۵۱۱: ۷۱۱،مکتوب

۲۵: تاریخ طبری ج۶، ص۷، کتاب صفین ص ۲۴۰۰، الکامل لابن الاثیر ج۳ ص ۱۳۶۔