Back to حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ

کیا بیعت رضوان میں شریک ابوالغادیہ قاتلِ حضرت عمار بن یاسر رض سے بھی الله راضی ہوگیا؟"

❓ *"کیا بیعت رضوان میں شریک ابوالغادیہ قاتلِ حضرت عمار بن یاسر رض سے بھی الله راضی ہوگیا؟"*

 

📜 بتحقیق جو لوگ آپ کی بیعت کر رہے ہیں وہ یقینا الله کی بیعت کر رہے ہیں، الله کا ہاتھ ان کے ہاتھ کے اوپر ہے، پس جو عہد شکنی کرتا ہے وہ اپنے ساتھ عہد شکنی کرتا ہے اور جو اس عہد کو پورا کرے جو اس نے الله کے ساتھ کر رکھا ہے تو اللہ عنقریب اسے اجر عظیم دے گا۔

 

📖 سورة الفتح 10

 

اس آیت میں قرآن مجید تمام بیعت کرنے والوں کو خبردار کررہاہے ، کہ اگر وہ اپنے عہدو پیمان پربرقرار رہیں توان کے لیے اجر ِ عظیم ہوگا، *لیکن اگروہ اس کو توڑ دین ،تواس کانقصان خودا نہیں کو ہوگا.....*

 

بیعت جنگ سے فرار نہ ہونے کا ایک عہد تھی۔ اگر بعد میں کسی نے عہد شکنی کی تو اس سے انکشاف ہوتا ہے کہ وہ شروع سے رضایت الٰہی حاصل کرنے والوں کی اس صف میں شامل ہی نہ تھا۔.

 

پس جو عہد شکنی کرتا ہے وہ اپنے ساتھ عہد شکنی کرتا ہے...

 

چنانچہ جنگ حنین میں حضرت ابن عباس کو فرار ہونے والوں کو بیعت رضوان کا حوالہ دے کر بلانا پڑا...

 

عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، غزوۂ حنین کے موقع پر میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھا ، جب مسلمانوں اور کافروں کا آمنا سامنا ہوا تو کچھ مسلمان بھاگ کھڑے ہوئے جبکہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے خچر کو کفار کی طرف بھگا رہے تھے اور میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خچر کی لگام تھامے ہوئے تھا ، میں اس (خچر) کو روک رہا تھا کہ وہ تیز نہ دوڑے جبکہ ابوسفیان بن حارث رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رکاب تھامے ہوئے تھے ، 

 

رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ عباس ! *درخت (کے نیچے بیعت رضوان کرنے) والوں کو آواز دو..*

 

📚 مشكاة المصابيح رقم حدیث 5888..

 

بیعت رضوان میں براء بن عازب بھی شریک تھے جو حنین میں بھاگ گئے تھے.

 

📜 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ رَجُلٌ : لِلْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَفَرَرْتُمْ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ ؟ قَالَ : لَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَفِرَّ إِنَّ..

 

ایک شخص نے براء بن عازب سے پوچھا کیا حنین کی لڑائی میں آپ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر چلے گئے تھے؟ 

 

براء نے کہا ہاں لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ پر ثابت قدم رہے

 

📚 صحیح بخاری رقم حدیث 2864.....

 

📜 حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِشْكَابٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ , عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ : لَقِيتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , فَقُلْتُ : طُوبَى لَكَ صَحِبْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَايَعْتَهُ تَحْتَ الشَّجَرَةِ , فَقَالَ : يَا ابْنَ أَخِي إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثْنَا بَعْدَهُ

 

میں براء بن عازب کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا ‘ مبارک ہو! آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے شجر ( درخت ) کے نیچے بیعت کی۔ انہوں نے کہا بیٹے! تمہیں معلوم نہیں کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کیا کیا کام کئے ہیں۔

 

📚 صحیح بخاری رقم حدیث 4170.

 

⭕ *بیعت رضوان میں ابو الغادیہ بھی شریک تھے.*

 

📜 عَنْ أَبِی غَادِیَۃَ قَالَ: قُتِلَ عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ فَأُخْبِرَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((إِنَّ قَاتِلَہُ وَسَالِبَہُ فِی النَّارِ۔)) فَقِیلَ لِعَمْرٍو: فَإِنَّکَ ہُوَ ذَا تُقَاتِلُہُ، قَالَ: إِنَّمَا قَالَ: ((قَاتِلَہُ وَسَالِبَہُ۔)) 

 

📚 مسند احمد: ۱۷۹۲۹

 

سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ شہید ہو گئے اور لوگوں نے عمرو بن عاص کو اس کی اطلاع دی 

 

تو انہوں نے کہا: میں نے سنا کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان کو قتل کرنے والا اور ان کے قتل کے بعد ان کے سامان کو قبضہ میں لینے والا جہنم میں جائے گا۔  

 

کسی نے سیدنا عمرو سے کہا: تم خود بھی تو ان ہی سے لڑ رہے ہو؟ 

 

انہوں نے جواباً کہا کہ رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے قاتل اور ان کا مال قبضہ میں کر لینے والے کے حق میں یہ فرمایا ہے۔

 

📚 مسند احمد..

 

صحابہ کا اجتہاد ایک ایسا کلیہ ہے جو بوقت ضرورت ہر باطل فعل کی پردہ پوشی کے لئیے استعمال کیا جاتا ہے۔۔

 

جب اہلسنت حضرات سے کسی بھی صحابی کی غلط فعل پر سوال کیا جاتا ہے تو وہ اسکو اس صحابی کا اجتہاد اور مخطئی الاجر کہ کر جان چھڑا لیتے ہیں۔

 

*یہی معاملہ قاتل عمار ابی الغادیہ جہنی کا بھی ہے۔*

 

ایک صحابی کے ہاتھوں دوسرے کا سر کاٹنا یہ ایک ایسا فعل ہے۔ جسکی تاویل یہ سوائے اجتہاد کے اور کچھ نہیں کرتے اور قاتل و مقتول دونوں کو ایک ایک اجر عنایت فرما دیتے۔

 

❓ *ابی الغادیہ کون تھا یہ اہلسنت علماء رجال اور محدثین سے ہوچھتے ہیں۔۔۔!*

 

ابن حجر عسقلانی الاصابة فی تمییز الصحابة 

 

📜 «وقال الدّوري، عن ابن معين: أبو الغادية الجهنيّ قاتل عمار له صحبة… وقال البخاري: الجهنيّ له صحبة»

 

📚 الاصابة فی تمییز الصحابة جلد ۷ صفحه ۲۵۹٫

 

📝 ابن معین کہتے ہیں کہ ابو الغادیہ جہنی قاتل عمار رض تھا اور *صحابی تھا*، نیز بخاری بھی کہتے ہیں وہ صحابی تھا۔

 

ابو بشر محمد بن احمد الدولابی (متوفیٰ 310ھ) اپنی کتاب "الکنی و السماء'' میں امام مسلم نیشاپوری کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ

 

📝 ابو الغادیہ یسار بن سبیع ہی قاتل عمار رض تھا۔

 

📜 أبو الغادية يسار بن سبيع قاتل عمار له صحبه

 

📚 کتاب الکنی و الاسماء جلد ۲ صفحه ۶۶۹

 

امام حافظ مجوِّد شیخ الاسلام سنن دارقطنی کے مصنف و محدث علی بن عمر دارقطنی 306ھ – 385ھ اپنی کتاب الموتلف و المختلف میں اعتراف کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔

 

📜 « أبو الغَادِيَة يسار بن سبع , له صُحْبة … وهو قاتل عَمَّار بن ياسر رحمه الله بصفين»

 

📝 ابو الغادیہ یسار بن سبع یہ صحابی ہیں۔ جنہوں نے صفین میں عمار یاسر رض کو قتل کیا۔

 

📚 المؤتلف والمختلف فی اسماء الرجال جلد ۴ صفحه ۱۷۹۳٫

 

*''ابن حزم اندلسی اور ابو الغادیہ کا اجتہاد''*

 

وقد كتب في قصة أبو غادية علماء الفرق الإسلامية، فيقول ابن حزم الظاهري في كتابه «الفصل في الأهواء والملل والنحل» (4/ 164) المتوفیٰ 28 شعبان 456 هـ

 

📜 «وعمار رضي الله عنه قتله أبو الغادية يسار بن سبع السلمي. شهد (أبو الغادية) بيعة الرضوان، فهو من شهداء الله له بأنه علم ما في قلبه وأنزل السكينة عليه ورضي عنه. فأبو الغادية رضي الله عنه متأوِّلٌ مجتهد مخطئ فيه باغ عليه مأجور أجرا واحدا. وليس هذا كقتلة عثمان رضي الله عنه، لأنه لا مجال للاجتهاد في قتله، لأنه لم يقتل أحدا ولا حارب ولا قاتل ولا دافع ولا زنا بعد إحصان ولا ارتد، فيسوّغ المحاربة تأويل، بل هم فُسّاقٌ محاربون سافكون دما حراما عمدا بلا تأويل، على سبيل الظلم والعدوان. فهم فساق ملعونون»۔۔۔!

 

ترجمہ

 

ابن حزم نے کتاب ”الفصل“ میں اس مجتہد کے لیے جو خطا کرتا ہے، کہا ہے :

عمار (رضی اللہ عنہ) کو ابوغادیہ یسار بن سبح سلمی نے قتل کیا ۔ 

 

یہ(ابو الغادیہ) بیعت رضوان میں موجود تھے ، ان کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جن کے متعلق خداوند عالم نے گواہی دی ہے کہ وہ ان کے قلوب سے اگاہ ہے اور خداوند عالم نے ان کے دل میں آرام و سکون عطا کیا ہے اور وہ ان سے راضی ہے۔ 

 

ابو غادیہ نے ان کو اپنے اجتہاد کے مطابق قتل کیا ،اگرچہ اس نے خطا اور زیادہ روی کی ہے 

 

اور چونکہ اجتہاد میں خطاء کی ہے لہذا اس کو ایک ثواب ملے گا۔

 

⚖️ ابوغادیہ، عثمان کے قاتلوں کی طرح نہیں تھا ، کیونکہ عثمان کے قاتلوں کو اجتہاد کرنا نہیں آتا تھا، کیونکہ عثمان نے کسی کو قتل نہیں کیا تھا اور نہ محارب تھے اور نہ ہی مقاتل و مدافع اور نہ انہوں نے زنا محصنہ کیا تھا اور نہ مرتد ہویے تھے ،تاکہ ان کے ساتھ جنگ کرنے کی توجیہ کی جایے ، بلکہ وہ ایک فاسد، محارب اور خون بہانے والا گروہ تھا جنہوں نے جان بوجھ کر ظلم کرتے ہویے ناحق ان کا خون بہایا ہے اور وہ فاسق اور ملعون انسان تھے۔

(تو جناب عمار بن یاسر نے کون سا گناہ کبیرہ کا ارتکاب کیا تھا وہ تو امام عادل کی اقتداء میں باغی گروہ سے لڑرہے تھے۔۔۔؟)

 

*''ابن تیمیہ''*

 

فقال ابن تیمیہ في منهاج السنة النبوية (الجزء 6 / صفحة 205):

 

📜 «والذي قتل عمار بن ياسر هو أبو الغادية، وقد قيل أنه من أهل بيعة الرضوان ذكر ذلك ابن حزم، فنحن نشهد لعمار بالجنة ولقاتله إن كان من أهل بيعة الرضوان بالجنة»۔۔۔!

 

📝 ابن تیمیہ نے بھی ابی الغادیہ کو بیعت الرضوان کا صحابی اعتراف کرتے ہوئے ابن حزم کا قول نقل کیا ہے۔

 

📣 قابل توجہ یہ بات ہے کہ 

 

*ذھبی نے ابو الغادیہ جو قاتل عمار تھا اس سے نقل کیا ہے کہ عمار کا قاتل جہنمی ہے :*

 

📜 عن أبى الغادية سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: قاتل عمار فى النار وهذا شيء عجيب فإن عمارا قتله أبو الغادية.

 

ابوغاديہ سے نقل ہے کہ وہ کہتا ہے میں رسول صلی اللہ علیہ و آلہ سے سنا ہے کہ عمار کا قاتل جہنمی ہے اور یہ بات (میرے یعنی ذھبی کیلئے) بہت تعجب خیز ہے کہ اس لئے کہ عمار کو ابو الغادیہ نے قتل کیا تھا۔

 

📚 الذهبي، شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان، (متوفاي 748هـ)، ميزان الاعتدال في نقد الرجال، ج 2، ص 236، تحقيق: الشيخ علي محمد معوض والشيخ عادل أحمد عبدالموجود، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1995م.

 

*ابن حجر العسقلانی*

 

📜 تأويل قصة أبوغادية الجهني

«والظن بالصحابة في تلك الحروب أنهم كانوا فيها متأولين وللمجتهد المخطئ أجر، وإذا ثبت هذا في حق آحاد الناس فثبوته للصحابة بالطريق الأولى»

 

📚 الإصابة 7/ 312

 

📝 ابن حجر عسقلانی ابی الغادیہ کے قصہ کے زیل میں لکھتے ہیں:- 

 

صحابہ کے مابین جنگوں میں ہمیں یہ ظن رکھنا چاہیے کہ یہ جنگیں مبنی بر اجتہاد تھی۔ اور انہیں خطاء پر ایک اجر ملے گا۔

 

'' سبحان اللہ اس اجتہاد پر''

 

مجھے ابوغادیہ کے اجتہاد کے لیے کوئی معنی نہیں ملے ، ابوغادیہ ، پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے زمانہ کا ایک بے نام ونشان انسان تھا ، 

 

اس کے متعلق لفظ ”جھنی“ کے علاوہ کچھ نہیں ملتا اور کسی کتاب میں بھی اس کے متعلق کویی ایسی چیز نظر نہیں آتی جس سے اس کے اجتہاد کے بارے میں کوئی خبر مل سکے۔ 

 

❓اسے مجتہد کی سند دربار رسالت سے کب عنایت ہوئی یہ بھی معلوم نہیں۔

 

پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے عمار کے متعلق فرمایا :

 

 ”دماوکم و اموالکم حرام“۔ 

 

تمہارا خون اور مال حرام ہے۔

 

نیز فرمایا : 

 

” لا ترجعوا بعدی کفارا یضرب بعضکم رقاب بعض“۔ 

 

میرے بعد نہ کافر ہوجاو اور ایک دوسرے کو قتل کرو۔۔،! 

 

پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے اصحاب بھی تعجب میں تھے کہ اس نے عمار کے متعلق پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی یہ احادیث سننے کے بعد ان کو قتل کردیا۔ 

 

کسی بھی صحابی نے ابن حزم کے زمانہ تک ابوغادیہ کے اجتہاد کے متعلق کچھ نہیں کہا نہ ہی ایسا کوئی قول ملتا ہے۔ 

 

ابن حزم نے سب سے پہلے یہ کلیہ ابی الغادیہ کے بارے میں اختراع کیا۔۔ 

 

حالانکہ کہ عمار رض کے متعلق واضح نصوص موجود ہیں۔

 

اس کے علاوہ مجھے نہیں معلوم کہ عمار رض کے متعلق پیغمبر کرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی واضح حدیث نصوصہ کے بعد ابی الغادیہ کے اجتہاد کے کیا معنی باقی رہ جاتے ہیں۔۔؟ 

 

واضح حدیث سے مراد عمار کے متعلق پیغمبرا کرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحیح اور متواتر حدیث یہ نہیں ہے جس میں فرمایا: 

 

”تقتلک الفیه الباغیه“۔ 

 

تمہیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔

 

وقال ابن عبد البر: "وتواترت الآثار عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: ((تقتل عمارَ الفئةُ الباغية))، وهذا من إخباره بالغيب وأعلام نبوته صلى الله عليه وسلم ، وهو من أصح الأحاديث" 

 

📚 الاستيعاب فی معرفة الااصحاب2/481

 

ابن عبدالبر کہتے ہیں کہ آثار نبوت میں حدیث عمار(اے عمار تجھے تو باغی گروہ قتل کرے گا) یہ نبی کریم کی غیب کی اخبار اورالنبوت کی نشانیوں میں سے ہے(کہ آپ نے اپنے بعد کے زمانے میں ہونے والے واقعے کی پہلے ہی خبر دے دی)۔ اور یہ احادیث میں صحیح کی صورت موجود ہے۔

 

✒️ *طوسی*