🔴 ناسبیوں کا اعتراض اور اسکا جواب

 

ناصبی اعترض کرتے ہیں اور کہتے ہیں کے 

 

📜 عمار يدعوهم إلى الله ويدعونه إلى النار

 

📃 "عمار ان کو جنت کی طرف بلائے گا اور وہ گروہ باغی عمار کو جہنم کی طرف"

 

یہ الفاظ عکرمہ کی روایات میں ھیں، اور عکرمہ کے بارے میں محدثین کھتے ھیں کہ وہ خارجی تھا

 

📜 وقال بن لهيعة عن أبي الأسود كان أول من أحدث فيهم أي أهل المغرب رأي الصفرية وقال يعقوب بن سفيان سمعت بن بكير يقول قدم عكرمة مصر وهو يريد المغرب وترك هذه الدار وخرج إلى المغرب فالخوارج الذين بالمغرب عنه أخذوا وقال علي بن المديني كان عكرمة يرى رأي نجدة وقال يحيى بن معين إنما لم يذكر مالك بن أنس عكرمة لأن عكرمة كان ينتحل رأي الصفرية وقال عطاء كان أباضيا وقال الجوزجاني قلت لأحمد عكرمة كان أباضيا فقال يقال إنه كان صفريا...

وقال مصعب الزبيري كان عكرمة يرى رأي الخوارج

 

ان اقوالات کا خلاصہ یہ ہے کہ 

عکرمہ صفریہ، اباضیہ نجدیہ خوارج والے نظریات کا حامل تھا. 

 

📚 تھذیب التھذیب ج7 ص 267

 

http://shamela.ws/browse.php/book-3310/page-3214#page-3224

 

✅✅✅✅✅ *جواب* ✅✅✅✅✅✅

 

کیوں کہ اعتراض عکرمہ پر کیا گیا ہے اسلئے ہم پہلے عکرمہ کا مختصر سا تعارف پیش کریں گے پھر عکرمہ کو اہل سنت کی کتب معتبر سے ثقہ ثابت کریں گے۔ اور خارجیت کے الزام کا رد پیش کریں گے ۔

 

▪ *نام اور کنیت* 

 

عِكرِمَة مولى عبدالله بن عباسٍ الهاشمي. كنيته: أبو عبدالله؛

 

(التاريخ الكبير للبخاري جـ 7 صـ 49 رقم: 218).

 

▪ *عکرمہ تابعی تھا*

 

عِكرِمَة بربريًّا من أهل المغرب، *وهو من كبار التابعين*

 

(تهذيب الأسماء واللغات للنووي جـ 1 صـ 341).

 

▪عکرمہ حصین بن ابی الحر العنبری کے غلام تھے ، اس نے عبد اللہ ابن عباس کو تحفہ دیا جب وہ بصرہ کے گورنر کی حیثیت سے علی ابن ابی طالب کے پاس آیا۔

 

عِكرِمَة عبدًا لحصين بن أبي الحر العنبري، فوهبه لعبدالله بن عباس حين جاء واليًا على البصرة لعلي بن أبي طالب؛

 

(تهذيب الكمال للمزي جـ 20 صـ 265).

 

▪ *عکرمہ علم کی تلاش میں مکہ اور مدینہ ، بصرہ ، یمن اور شام ، مصر ، مغرب اور خراسان تک سفر کیا*

 

رحل عِكرِمَة مولى عبدالله بن عباسٍ في طلب العلم إلى مكة والمدينة، والبصرة واليمن والشام، ومصر، وبلاد المغرب العربي، وخراسان؛ 

 

(تهذيب الكمال للمزي جـ 20 صـ 270).

 

▪ *عکرمہ کے استاد*

 

حدث عِكرِمَة عن: *ابن عباسٍ، وعائشة، وأبي هريرة، وابن عمر، وعبدالله بن عمرٍو، وعقبة بن عامرٍ، وعلي بن أبي طالبٍ، وصفوان بن أمية، والحجاج بن عمرٍو الأنصاري، وجابر بن عبدالله، وحمنة بنت جحشٍ، وأبي سعيدٍ الخدري، وأم عمارة الأنصارية، وعدةٍ،وعن: يحيى بن يعمر، وعبدالله بن رافعٍ؛* 

 

(سير أعلام النبلاء للذهبي جـ 5 صـ 13).

 

▪ *عکرمہ کہتے تھے: "مجھے اس مسجد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دو سو صحابہ کا احساس ہوا"*

 

قال عِكرِمَة: "أدركت مِئِين من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم في هذا المسجد"؛ 

 

(حلية الأولياء لأبي نعيم جـ 3 صـ 327).

 

▪ *عکرمہ نے قرآن کی تعلیم ابن عباس سے حاصل کی*

 

قال عِكرِمَة: كان ابن عباسٍ يجعل في رجلي الكبل، يعلمني القرآن، ويعلمني السنة؛ 

 

(الطبقات الكبرى لابن سعد - 5 صـ 219).

 

▪ *الشعبي نے کہا عکرمہ کے علم کی وجہ سے علم کتاب اللہ باقی ہے*

 

قال الشعبي: "ما بقِيَ أحدٌ أعلم بكتاب الله من عِكرِمَة"؛ 

 

(حلية الأولياء لأبي نعيم جـ 3 صـ 326).

 

▪ *عکرمہ لوگوں کو قرآن کی تعلیم و تفسیر بیان کرتا تھا* 

 

قال عِكرِمَة: "لقد فسَّرت ما بين اللوحين"؛ 

 

قال سلام بن مسكينٍ: كان عِكرِمَة من أعلم الناس بالتفسير؛

 

(حلية الأولياء لأبي نعيم جـ 3 صـ 327).

 

(الطبقات الكبرى لابن سعد - 5 صـ 220).

 

▪ *لوگ عکرمہ سے مسائل کا پوچھا کرتے تھے*

 

قال عمرو بن دينارٍ: دفع إليَّ جابرُ بن زيدٍ مسائل أسأل عنها عِكرِمَة، وجعل يقول: هذا عِكرِمَة،هذا مولى ابن عباسٍ،هذا البحرُ فسَلُوه؛

 

(الطبقات الكبرى لابن سعد - 5 صـ 220).

 

▪ *سفیان الثوری کہتا ہے وضاحت (دین کے معاملہ میں تفسیر) ان چاروں سے لے لو۔*

 

قال سفيان الثوري: "خذوا التفسير عن أربعةٍ: عن سعيد بن جبيرٍ، ومجاهدٍ، *وعِكرِمَة*، والضحاك

 

(حلية الأولياء لأبي نعيم جـ 3 صـ 329).

 

▪ *لوگ قرانی آیات کی تفسیر عکرمہ سے پوچھا کرتے تھے*

 

قال أيوب السَّختياني: سأل رجلٌ عِكرِمَة عن آيةٍ من القرآن، فقال: "نزلت في سفح ذلك الجبل، وأشار إلى سلعٍ"؛ 

 

(حلية الأولياء لأبي نعيم جـ 3 صـ 327).

 

▪ *بخاری کے استاد فرماتے ہیں ابن عباس عکرمہ سے زیادہ معتبر نہیں تھے*

 

قال علي بن المديني (شيخ البخاري): لم يكن في موالي ابن عباسٍ أغزر من عِكرِمَة؛ 

 

(تهذيب الكمال للمزي جـ 20 صـ 289).

 

▪ *تفسیر کے لئے سب سے بہتر عکرمہ* 

 

قال عبدالرحمن بن أبي حاتم: سُئل أبي عن عِكرِمَة وسعيد بن جُبيرٍ: أيهما أعلم بالتفسير؟ فقال: أصحاب ابن عباسٍ عيالٌ على عِكرِمَة؛ 

 

(تهذيب الكمال للمزي جـ 20 صـ 289).

 

▪ *یحیی بن ایوب نے کہا: ابن جریج نے مجھ سے پوچھا: کیا آپ نے عکرمہ کے بارے میں لکھا ہے؟ میں نے کہا: نہیں ، اس نے کہا: آپ علم کا ایک تہائی حصہ کھو گئے ہیں۔*

 

قال يحيى بن أيوب: سألني ابن جريج: هل كتبتم عن عِكرِمَة؟ قلت: لا،قال: فاتكم ثلث العلم؛ 

 

(فتح الباري لابن حجر العسقلاني - المقدمة صـ 429).

 

🚩 *عکرمہ کی ثقہ ہونا اور خارجیت کے الزام کا رد* 🚩

 

▫ *ابن معین نے عکرمہ کو ثقہ کہا ہے۔*

 

قال يحيى بن معينٍ: عِكرِمَة مولى ابن عباسٍ ثقةٌ، وقال: إذا رأيتَ إنسانًا يقع في عِكرِمَة، فاتَّهِمْه على الإسلام؛ 

 

(تهذيب الأسماء واللغات للنووي جـ 1 صـ 341).

 

▫ *امام نسائی نے عکرمہ کو ثقہ قرار دیا*

 

قال النسائي: عِكرِمَة مولى عبدالله بن عباسٍ ثقة؛ 

 

(تهذيب الكمال للمزي جـ 20 صـ 289).

 

▫ *ابن ابی حاتم کا عکرمہ کو ثقہ قرار دینا*

 

قال عبدالرحمن بن أبي حاتم: سألت أبي عن عِكرِمَة مولى ابن عباسٍ، فقال: ثقةٌ،قلت: يُحتجُّ بحديثه؟ قال: نَعم، إذا روى عنه الثقاتُ؛ 

 

(تهذيب الكمال للمزي جـ 20 صـ 289).

 

▫ 👈🏼 *عجلی نے عکرمہ کو ثقہ قرار دیا اور کہتے ھیں عکرمہ اس تہمت سے بری ھے جو لوگوں نے اس پر لگائی کہ وہ حروریہ (خوارج) میں سے تھا.*

 

قال أحمد العجلي: عِكرِمَة مولى عبدالله بن عباسٍ مكيٌّ، تابعيٌّ، ثقةٌ، بريءٌ مما يرميه به الناس من الحرورية؛ (أي: مِن رأي الخوارج)؛ 

 

(تهذيب الكمال للمزي جـ 20 صـ 289).

 

▫ *ابن حبان نے کہا: عکرمہ فقہ اور قرآن مجید میں اپنے زمانے کے علماء میں سے ایک تھیں، اور میں کسی برائی کو نہیں جانتا۔*

 

قال ابن حبان: كان عِكرِمَة من علماء زمانه بالفقه والقرآن، ولا أعلم أحدًا ذمَّه بشيء؛ 

 

(فتح الباري لابن حجر العسقلاني - المقدمة صـ 430).

 

▫ *البزار نے کہا: عکرمہ سے ایک سو تیس آدمی روایت کرتے ہیں ، ان سب نے اسے قبول کیا*

 

قال البزار: روى عن عِكرِمَة مائة وثلاثون رجلًا من وجوه البلدان، كلهم رضُوا به؛ 

 

(فتح الباري لابن حجر العسقلاني - المقدمة صـ 429).

 

▫ *ابو عمر بن عبد البر نے کہا: عکرمہ اہل علم کی اکثریت میں شامل تھیں۔*

 

قال أبو عمر ابن عبدالبر: كان عِكرِمَة من جلَّة العلماء، ولا يقدح فيه كلام من تكلم فيه؛ لأنه لا حجةَ مع أحدٍ تكلم فيه؛ 

 

(فتح الباري لابن حجر العسقلاني - المقدمة صـ 430).

 

▫ *اسی طرح ابن ہجر نے بهی اس پر [خارجی] ہونے کی جرح کو رد کیا ہے اور کہا کہ یہ ثقہ ہے۔*

 

عکرمہ ثقة ثبت عالم بالتفسیر، 

 

(تہزیب التہزیب لابن حجر العسقلاني - ۴٦٧٣ صـ ٣٢٨).

 

-------------------------------------------

 

📣 *اگر بلفرض محال تسلیم کر بھی لیا جائے کہ عکرمہ خارجی تھا تب بھی اسکی کی تمام تر روایات قابل قبول ہونگی کیوں کہ اہل سنت کے اصول کے مطابق*

 

*کیوں کہ السخاوي لکھتے ہیں کہ*

 

ومنهم زابغ عن الحق صدوق اللهجة قد جرى في الناس حديثه لكنه مخذول في بدعته مأمون في روايته فهؤلاء ليس فيهم حيلة إلا أن يؤخذ من حديثهم ما يعرف وليس بمنكر إذا لم تقو به بدعتهم

 

(فتح المغیث ج ١ ص 331)

 

islamport.com/d/1/mst/1/62/221.html

 

*یعنی ایسا راوی جو حدیث بیان کرنے میں سچا ھو لیکن اپنے بدعت کی وجہ سے بدنام ھو، تو اس کی وہ روایات لی جائیں گی جو منکر (صحیح روایات کے خلاف) نہ ھوں،* جن روایات میں ان کی بدعت کو تقویت نہ دی گئی ھو.

 

*اور جناب سرفراز خان صفدر دیوبندی صاحب منکرین حدیث کے بارے میں لکھتے ہیں :*

 

 ’’ یہ بے چارے اصولِ حدیث میں بالکل کورے ہیں۔ محمد بن خازم بخاری اور مسلم کے مرکزی راوی ہیں۔ *اصولِ حدیث کی رُو سے ثقہ راوی کا خارجی یاجہمی، معتزلی یا مرجی، وغیرہ ہونا اس کی ثقاہت پر قطعاً اثر انداز نہیں ہوتا* اور صحیحین میں ایسے راوی بکثرت ہیں۔ “ 

 

(احسن الكلام از صفدر، حصه اول: ص31)

 

*توحید ویب سائٹ پر بخاری میں موجود خارجی کی روایات کے متعلق لکھتے ہیں*

 

"اگر کوئی کہے کہ صحیح بخاری میں عمران بن حطان نامی راوی کی روایت موجود ہے جو کہ خارجیوں کا رئیس تھا تو جواب یہ ہے کہ خروج کا الزام ثابت ہو جانے کی صورت میں بھی اس راوی کی حدیث کے لیے مضر نہیں کیونکہ یہ صدوق، حسن الحدیث تھا۔ جمہورمحدثین کرام نے اس کی توثیق کی ہے۔"

 

https://www.tohed.com/%D8%B5%D8%AD%DB%8C%D8%AD%DB%8C%D9%86-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A8%D8%AF%D8%B9%D8%AA%DB%8C-%D8%B1%D8%A7%D9%88%DB%8C/

 

*اسی طرح طاہر القادری اپنی ویب سائٹ پر بخاری کے دفاع میں لکھتے ہیں کہ* 

 

امام بخاری کے مطابق ایسے راوی سے جس کے عقیدے کا تعلق مرجئہ، شیعہ اور خوارج سے ہے ان سے بھی روایت کی جاسکتی ہے

 

امام ابن حجر عسقلانی نے امام بخاری کا دفاع کرتے ہوئے اعتراضات کا رد کیا۔ 

چنانچہ فتح الباری کے مقدمہ ’’ہدیۃ الساری‘‘ میں امام ابن حجر عسقلانی نے 150 سے زائد صفحات پر امام دار قطنی کی طرف سے کئے گئے اعتراضات کے جوابات دیتے ہوئے امام بخاری کا دفاع کیا۔

کہ 

*اصول حدیث کی تمام کتب میں یہ درج ہے کہ اگر ائمہ نے شیعہ، رافضی، مرجئہ یا خوارج میں سے کسی راوی کی روایت کو لیا ہے تو دو شرائط کی وجہ سے لیا ہے کہ وہ راوی عدول تھے، خواہ کچھ بھی ہوجائے وہ جھوٹ نہ بولتے تھے، دوسرے عقیدے کے آدمی کا رجحان عقیدے میں غلط تو ہو سکتا ہے مگر اپنے عمل میں متقی بھی ہو سکتا ہے کہ وہ جھوٹ نہیں بولے گا۔ ائمہ نے ان راویوں سے روایت لیتے ہوئے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ یہ اپنے عقیدے کی تائید میں وضع کرنے والا نہیں ہے۔ جھوٹ نہیں بول سکتا۔۔۔ یا ائمہ نے اِن راویوں سے وہ احادیث لی ہیں جن کا تعلق ان راویوں کے عقیدے کے ساتھ نہ تھا۔ چونکہ اس راوی کو ان احادیث میں غلط بیانی کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ احادیث اس کے عقیدے کے نہ موافقت میں ہیں اور نہ مخالفت میں۔ پس اگر اہل بدعت سے تعلق رکھنے والا کوئی راوی صادق بھی ہو اور عادل بھی اور روایت کردہ احادیث اس کے عقیدے کے متعلق بھی نہ ہو اور نہ روایت کرنے والا اہل بدعت کے اماموں یا قائدین میں سے ہو تو امام بخاری و امام مسلم جیسے ائمہ نے ان راویوں سے روایت لینے میں کوئی حرج نہیں سمجھا۔*

 

https://www.minhaj.info/mag/index.php?mod=mags&month=2008-12&article=8&read=txt&lang=ur

 

#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد #تعلیمات_اہلبیتؑ #بدر_علی #التماس_دعا #تبدیلی_ممنوع #invisibleislam