حضرت خزیمہ بن ثابت کیلئے باغی گروہ کا آشکار ہونا
*حضرت خزیمہ بن ثابت*
جنگ جمل اور صفین دونوں میں شامل تھا لیکن کسی پر تلوار نہیں چلائی
لیکن جب جنگ صفین میں معاویہ کے گروہ کے ہاتھوں عمار کی شہادت واقع ہوئی تو کہا:
اب گمراہ گروہ میرے لئے آشکار ہو گیا ہے، یہ کہہ کر امام علی(ع) کی رکاب میں لڑنے لگا یہاں تک کہ شہادت کے مقام پر فائز ہوا(۱)
محمد بن عمارہ کہتے ہیں کہ میرے دادا حضرت خزیمہ (رض) نے جنگ جمل کے دن اپنی تلوار کو نیام میں روکے رکھا
لیکن جس جنگ صفین میں حضرت عمار (رض) شہید ہوگئے تو انہوں نے اپنی تلوار نیام سے کھینچ لی اور اتنا لڑے کہ بالآخر شہید ہوگئے وہ کہتے تھے کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔ [۲]
آنحضرت نے ایک بدو سے گھوڑا خریدا آپ نے ابھی دام ادا نہیں کیے تھے کہ بدو نے کسی اور سے قیمت طے کر لی اور رسول اللہ کے مطالبہ پر جواب دیاکہ میں نے گھوڑا آپ کے ہاتھ نہیں بیچا۔
رسول اللہ نے فریاما کہ میں تم سے خرید چکا ہوں۔ جس پر اس بدو نے کہا کہ گواہ لایئے۔ اس پر اور سب مسلمان تو خاموش رہے لیکن خزیمہ نے بڑھ کر کہا میں گواہ ہوں کہ تم نے رسول اللہ کے ہاتھ گھوڑا فروخت کیا ہے۔
چونکہ سودا کرتے وقت خزیمہ وہاں موجود نہ تھے۔ اس لیے رسول اللہ نے ان سے پوچھا کہ تم کس طرح گواہی دیتے ہو؟
آپ نے کہا کہ میں آپ کی بات کی تصدیق کرتا ہوں۔ اس پر حضور نے خوش ہو کر ان کو ذوالشہادتین کا لقب دیا۔
یعنی ان کی شہادت دو آدمیوں کی شہادت کے برابر کر دی
[۳]۔
آپ نے رسول اللہ کی 388 احادیث بیان کی ہیں۔ جو کتب احادیث میں موجود ہیں۔
*حوالہ جات*
١: ابن سعد، الطبقات الکبری، بیروت، ج ۳، ص۲۵۹
٢: مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 1942
٣: سنن نسائی:جلد سوم:حدیث نمبر 956
Gallery
Tap any image to view full screen