حنظلہ بن خویلد کا گروہ باغی میں شامل ہونا
حنظلہ بن خویلد کا گروہ باغی میں شامل ہونا

📜 عَنْ حَنْظَلَۃَ بْنِ خُوَیْلِدٍ الْعَنْزِیِّ قَالَ: بَیْنَمَا أَنَا عِنْدَ مُعَاوِیَۃَ إِذْ جَائَہُ رَجُلَانِ یَخْتَصِمَانِ فِی رَأْسِ عَمَّارٍ یَقُولُ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا: أَنَا قَتَلْتُہُ، فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَمْرٍو: لِیَطِبْ بِہِ أَحَدُکُمَا نَفْسًا لِصَاحِبِہِ، فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((تَقْتُلُہُ الْفِئَۃُ الْبَاغِیَۃُ۔)) قَالَ مُعَاوِیَۃُ: فَمَا بَالُکَ مَعَنَا؟ قَالَ: إِنَّ أَبِی شَکَانِی إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((أَطِعْ أَبَاکَ مَا دَامَ حَیًّا وَلَا تَعْصِہِ۔)) فَأَنَا مَعَکُمْ وَلَسْتُ أُقَاتِلُ۔

 

📃 حنظلہ بن خویلد عنبری سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: 

 

میں معاویہ ‌کے ہاں حاضر تھا کہ دو آدمیوں نے ان کے ہاں آکر سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے سر کے بارے میں جھگڑنا شروع کر دیا، ہر ایک کا دعویٰ تھا کہ اس نے ان کو قتل کیا ہے،

ان کی باتیں سن کر سیدنا عبداللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: 

تم میں سے ہر ایک اپنے اس کارنامے پر اپنا دل خوش کر لے، میں نے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا ہے کہ باغی گروہ اسے قتل کرے گا۔ 

 

ان سے یہ حدیث سن کر معاویہ نے کہا: 

 

اگر یہ بات ہے تو پھر آپ ہمارا ساتھ کیوں دیتے ہیں؟ 

 

انھوں نے جواب دیا: میرے والد نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے میری شکایت کی تھی تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایاتھا:

تمہارا والد جب تک زندہ ہے، تم اس کی اطاعت کرتے رہو۔ اس حدیث کی وجہ سے میں آپ لوگوں کے ساتھ ہوں، لیکن پھر بھی لڑائی میں حصہ نہیں لیتا۔

 

📚 مسند احمد: ۶۹۲۹

 

#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد #تعلیمات_اہلبیتؑ #بدر_علی #التماس_دعا #invisibleislam

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2