معاویہ کا الزام کہ جناب عمار کو علیؑ نے قتل کیا ہے کیوں کہ وہ انہیں جنگ میں کے کر آئے تھے
*معاویہ کا الزام کہ جناب عمار کو علیؑ نے قتل کیا ہے کیوں کہ وہ انہیں جنگ میں کے کر آئے تھے*
📜 ۱۷۷۷۸ – حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ابْنِ (۱) طَاوُسٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا قُتِلَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ دَخَلَ عَمْرُو بْنُ حَزْمٍ عَلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، فَقَالَ: قُتِلَ عَمَّارٌ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ “، فَقَامَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ فَزِعًا يُرَجِّعُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: مَا شَأْنُكَ؟ قَالَ: قُتِلَ عَمَّارٌ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: قَدْ قُتِلَ عَمَّارٌ، فَمَاذَا؟ قَالَ عَمْرٌو: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ” تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ ” فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: دُحِضْتَ فِي بَوْلِكَ، أَوَنَحْنُ قَتَلْنَاهُ؟ إِنَّمَا قَتَلَهُ عَلِيٌّ وَأَصْحَابُهُ، جَاءُوا بِهِ حَتَّى أَلْقَوْهُ بَيْنَ رِمَاحِنَا، – أَوْ قَالَ: بَيْنَ سُيُوفِنَا.(۱)
*(۱) إسناده صحيح.*
*ترجمہ :
📝 عبداللہ ابن حارث کہتا ہے کہ جب معاویہ جنگ صفین سے فارغ ہو کر آرہا تھا میں اس کے اور عمرو بن عاص کے درمیان چل رہا تھا ، عبداللہ ابن عمرو اپنے باپ سے کہنے لگا
ابا ! کیا تم نے نبی ص کو حضرت عمار بن یاسر رض کے بارے یہ کہتے ہوئے نہیں سنا کہ *افسوس اے عمار کہ تجھے ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔*
عمرو نے معاویہ سے کہا : تم اس کی بات سن رہے ہو؟
معاویہ کہنے لگا تم ہمیشہ ایسی پریشان کن خبر لے کر آنا ، کیا ہم نے اسے شہید کیا؟
*انہیں تو ان لوگوں نے شہید کیا جو انہیں لے کر آئے تھے۔*
📚 مسند احمد بن حنبل (اردو)
جلد 3 ص 504 ح 6499
*سند صحیح*
۔
۔
*اس الزام پر مولا علی ع کا جواب*
طبرانی نے نقل کیا ہے
مولا علی ع نے معاویہ کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ
📜 کیا حضرت حمزہ کو بھی رسول اللّه نے قتل کیا تھا کیوں کہ انہیں بھی رسول الله (جنگ میں) لے کر آئے تھے۔
📜 وهذا الحديث أثبت الأحاديث وأصحّها، ولمّا لم يقدر معاوية على إنكاره قال: إنّما قتله من أخرجه، فأجابه عليّ بأنّ رسول اللّه صلى اللّه عليه وسلم إذن قتل حمزة حين أخرجه .
قال ابن دحية: وهذا من على إلزام مفحم الذي لا جواب عنه، وحجّة لا اعتراض عليها.
📚 فيض القدير شرح الجامع الصغير، ج ۶، ص ۳۶۶، ناشر: المكتبة التجارية الكبرى – مصر.
#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد #تعلیمات_اہلبیتؑ #بدر_علی #التماس_دعا #تبدیلی_ممنوع #invisibleislam
Gallery
Tap any image to view full screen