Back to حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ

قاری حنیف ڈار کا اعتراض کہ حدیث عمار میں تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ کے الفاظ بخاری کے قدیم نسخوں میں موجود نہیں

قاری حنیف ڈار کا اعتراض کہ حدیث عمار میں تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ کے الفاظ بخاری کے قدیم نسخوں میں موجود نہیں
قاری حنیف ڈار کا اعتراض کہ حدیث عمار میں تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ کے الفاظ بخاری کے قدیم نسخوں میں موجود نہیں
قاری حنیف ڈار کا اعتراض کہ حدیث عمار میں تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ کے الفاظ بخاری کے قدیم نسخوں میں موجود نہیں
قاری حنیف ڈار کا اعتراض کہ حدیث عمار میں تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ کے الفاظ بخاری کے قدیم نسخوں میں موجود نہیں

قدیم بخاری کے نسخوں کے اسکین ترتیب کے ساتھ لگائے گئے ہیں۔ 

 

پہلا اسکین 

 

صحیح بخاری کا 250 سال پرانے قلمی نسخے سے حدیث عمار 

 

یہ نسخہ یورپ کے شہر کوسوفا کی یونیورسٹی میں محفوظ ہے ۔

 

دوسرا اسکین 

 

ملاحظہ کریں طبع سلطانیہ کے نسخہ سے حدیث عمار مکمل ۔

طبع سلطانیہ اصل میں یونینی کا نسخہ ہے یونینی سے یہ چار محدثین نے اس کو نقل کیا ہے ۔ طبع سلطانیہ میں چاروں مختلف نسخوں کے اختلاف کو حاشیہ میں بیان کر دیا ہے ۔ حدیث عمار کے پہلے الفاظ عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا ، یہ اصیلی اور الھروی کے نسخے سے ساقط ہیں جبکہ ابی الوقت سجزی اور ابی القاسم ابن عساکر کے یونینی کے نسخے میں موجود ہیں ۔

 

 

۔

 

کیا صحیح بخاری میں لفظ " تقتله الفئة الباغية " عمار رضى الله عنہ کو باغی گروہ قتل کرے گا ثابت ہے؟

 

تیسرا اسکین

 

یہ روایت امام بخاری دو مقامات پر لائے ہیں. صحیح بخاری کے متعدد نسخ اور روایات ہیں اسی بنا پر مختلف مقامات میں حذف واضافہ بھی ہوتا ہے اور یہ بھی انہی ایک مقامات میں سے ہے.

 

پہلی روایت کتاب الصلاۃ باب التعاون فی بناء المسجد میں ہے.

اس میں مذکورہ لفظ بعض نسخ اور مطبوعات میں ساقط اور بعض میں ثابت ہے.

 

تصویر میں معروف یونینی نسخے سے منسوخ نویری کا نسخہ ہے. اس کے متن میں یہ الفاظ موجود ہیں مگر اس پر علامت "لا ہ ص" ہے. اس كا مطلب ہے کہ یہ الفاظ ابوذر کی روایت اور اصیلی کے نسخے سے ساقط ہیں. اس سے ثابت ہوا کہ یہ ان دونوں میں ساقط ہیں مگر تین دوسرے نسخوں جن میں یونینی کا اصل سماع اسی طرح ابن عساکر اور ابوسعد سمعانی میں موجود ہیں.

 

دوسرى روايت كتاب الجهاد والسير باب مسح الغبار عن الرأس في سبيل الله میں ہے.

 

مذکورہ نسخے کے متن میں یہ الفاظ موجود ہیں مگر اس پر علامت "لا ه " کی ہے جس کا مطلب یہ صرف ابوذر کی روایت سے ساقط ہیں. 

 

اس موضوع سے متعلق ڈاکٹر احمد معبد کریم کی مستقل کتاب " إرشاد القاري إلى النص الراجح لحديث (ويح عمار) من صحيح البخاري وأثر ذلك في تحقيق معنى الحديث وفقهه " ہے.

 

انہوں نے متعدد روایات اور نسخ اور شراح کی شرح کے تقابل کے بعد ذکر کیا کہ راجح یہی ہے کہ یہ الفاظ صحیح بخاری کی اکثر روایات اور معتمد متداول نسخ میں موجود ہیں اور اسى طرح یہ کہنا صحیح نہیں کہ امام بخاری نے اس عبارت کو اپنی صحیح میں ذکر نہیں کیا یا یہ مدرج ہیں.

 

" ومن كل ذلك يظهر لنا أن الراجح هو ثبوت عبارة (تقتله الفئة الباغية) عقب عبارة (ويح عمار) في (صحيح البخاري) ضمن سياق حديث أبي سعيد الخدري وذلك في كلا الموضعين اللذين أخرج البخاري الحديث فيهما.

وذلك بناء على ثبوتهما في أكثر روايات ونسخ الصحيح الموثقة والمعروفة المتداولة.

بناء على ما تقدم فإنه يكون القول بعدم ذكر البخارى إطلاقا لهذه العبارة في صحيحه قولا مردودا على قائله بما قدمته من الأدلة المتعددة وكذلك القول بأنها مدرجة في رواية البخاري هذه بواسطة غيره"

 

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4