🔴 9 صفر شہادت صحابیِ رسول سیدنا عمار بن یاسر
 
رسول اللہ نے حضرت عمار بن یاسر رضي الله عنه کو فرمایا
 
📜‏ وقال ويح ‏عمار ‏‏تقتله الفئة‏ ‏الباغية ‏عمار‏ ‏يدعوهم إلى الله ويدعونه إلى النار:
📃 اے عمار تمہیں ایک باغی گروہ شہید کریگا عمار تم انہیں جنت کی طرف بلاؤ گے اور وہ تمھیں جہنم کی طرف بلاتے ہونگے:
 
📚 بخاری الصحیح، كتاب الجهاد والسير ١٠٣٥/٣
📚 مسلم الصحیح، باب: مسجد نبوی کی تعمیر:حدیث ١١٥
📚 ترمزی، باب المساجد حدیث نمبر ٦٧٥٣
📚 ابن حبان في الصحيح، الرقم /٦٧٣٦
📚 والطبراني في المعجم الكبير ، ٣٦٣/٢٣
📚 مصنفِ ابنِ ابی شیبہ، حدیث نمبر ٣٩٠٣٠
📚 والهيشمي في مجمع الزوائد، ٢٩٧/٩
📚 أخرجه البيهقي في الإعتقاد/ ٣٧٤
 
صحیح بخاری کی مکمل حدیث 👇🏼
 
📜 عکرمہ نے بیان کیا کہ حضرت ابن عباس رض نے مجھ سے اور اپنے بیٹے علی سے فرمایا : تم دونوں حضرت ابوسعید رض کے پاس جائو اور ان سے حدیث کا سماع کرو، پس ہم دونوں گئے ، اس وقت حضرت ابوسعید رض اپنے باغ کی اصلاح کر رہے تھے ، انہوں نے اپنی چادر کے ساتھ کمر اور گھٹنوں کو باندھ دیا ، پھر ہمیں حدیث سنانے لگے حتیٰ کہ مسجد کی تعمیر کا ذکر آیا تو انہوں نے کہا : ہم ایک ایک اینٹ اٹھا کر لارہے تھے اور حضرت عمار دو دو اینٹیں اٹھا کر لا رہے تھے ۔ نبی کریم ع نے انہیں اس حال میں دیکھا تو اُن سے مٹی جھاڑی اور فرمایا :
"عمار پر افسوس ہے ! اس کو ایک باغی جماعت قتل کرے گی ، یہ ان کو جنت کی طرف بلائے گا اور وہ اس کو دوزخ کی طرف بلائیں گے "
حضرت ابوسعید رض نے کہا : حضرت عمار رض کہتے تھے : میں فتنوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتا ہوں ۔
 
📚 صحیح البخاری // حدیث : 447 ، 2812 // باب : التعاون فی بناء المسجد // کتاب الصلاۃ
۔
۔
۔
⭕ تمام آئمہ اہلسنت اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت عمار بن یاسر کے متعلق رسول اللہ کی یہ پیش گوئی جنگ صفین میں پوری ہوئی ۔
سیدنا عمار بن یاسر خلیفہ راشد مولا علی کے دور خلافت میں مولا علی اور امیر شام معاویہ بن ابوسفیان کے درمیان ہونے والی مشہور جنگ "جنگِ صفین" میں شہید ہوئے ۔ حضرت عمار مولا علی کے ساتھی تھے اور لشکرِ معاویہ نے آپ کو شہید کیا ۔
⭕ حضرت عمار کی شہادت کے بعد اہلسنت نے گروہِ معاویہ کے باغی ہونے پر اجماع قائم کیا ہے جس کی تفصیلات نیچے تحریر میں آئیں گی ۔
ناسبی لوگ سیدنا عمار بن یاسر کا ذکر ہی نہیں کرتے کیونکہ انہیں پتہ ہے اگر ہم نے سیدنا عمار کی شہادت بیان کی تو ہمیں یہ بھی بتانا پڑے گا کہ آپکو کسی نے شہید کیا ہے ۔ جبکہ اہلسنت سیدنا عمار بن یاسر کا ذکر کھل کھلا کر کرتے ہیں تاکہ ناصبیت کا رد ہو سکے ۔
۔
۔
۔
🔺 امام اہلسنت امام ابو عمر بن عبدالبر حدیثِ عمار کے متعلق فرماتے ہیں
📜 وَقَالَ أَبُوْ عُمَرَ بْنُ عَبْدِ الْبَرِّ فِي كِتَابِ الْاِسْتِيْعَابِ لَهُ فِي تَرْجَمَةِ عَمَّارٍ رضی اللہ عنہ: وَتَوَاتَرَتِ الْآثَارُ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أَنَّهُ قَالَ: «ويح ‏عمار ‏‏تقتله الفئة‏ ‏الباغية ‏عمار‏ ‏يدعوهم إلى الله ويدعونه إلى النار» وَهُوَ مِنْ أَصَحِّ الْأَحَادِيْثِ.
📃 امام ابو عمر بن عبد البر نے اپنی کتاب ’’الاستیعاب‘‘ میں حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے حالات زندگی بیان کرتے ہوئے لکھا ہے: حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے متواتر روایات میں وارد ہوا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا عمار تم انہیں جنت کی طرف بلاؤ گے جبکہ وہ تمھیں جہنم کی طرف بلاتے ہوں گے۔ یہ حدیث احادیث میں صحیح ترین حدیث ہے۔
📚 ابن عبد البر في الاستيعاب، 3/1140
۔
۔
۔
🔺 امامِ اہلسنت امام مناویؓ اپنی کتاب پر حدیث عمار کی شرح میں یوں فتوی دیتے ہیں
📜 قال القاضي في شرح المصابيح يريد به معاوية و قومة و هذا صريح في بغي طائفة معاوية الذين قتلوا عمار ا في وقعة صفين وأن الحق مع علي وهو من الاخبار بالمغيبات يدعوهم أي عمار يدعو الفئة وهم اصحاب الذين قتلوه لو قعة صفين في الزمان المستقبل إلى الجنة اى إلى سببها وهو طاعة الإمام الحق و يدعونه إلى سبب النار وهو عصيانه و مقاتلتهقالو وقد وقع ذلك في يوم صفين دعاهم فيه إلى الإمام الحق وقتلوه فهو معجزة للمصطفى وعلم من أعلام نبوته:
📃 الفئة الباغية سے معاویہ اور انکا گروہ مراد ہے اور یہ حدیث معاویہ اور ان کے گروہ کے باغی ہونے پر صریح ہے اس میں کسی تاویل کی کوئی گنجائش نہیں کیوں کہ انہوں نے ہی جنگ صفین میں حضرت عمار کو شہید کیا تھا اس سے ثابت ہوا حق سیدنا علیؑ کی طرف تھا، عمارؓ اس گروہ کو جنت کی طرف بلائیں گے اور اس سے مراد امام حق کی طرف بلانا ہے، اور وہ لوگ (گروہِ معاویہ) انہیں (عمار کو) جہنم کی طرف بلاتے ہوں گے جہنم کی طرف بلانا اس لیے ہے کیونکہ انہوں نے خلیفہ راشد کی نافرمانی کی اور خلیفہ سے جنگ کی، آئمہ نے بیان کیا ہے کہ یہ سب کچھ جنگ صفین میں ہوا حضرت عمار نے ان کو امام حق کی طرف بلایا تھا اور باغیوں نے ان کو شہید کر دیا پس یہ سیدنا محمد مصطفی کا معجزہ اور آپکی نبوت کے دلائل میں سے ہے۔
📚 فيض القدير شرح الجامع الصغير ٣٦٥/٦
۔
۔
۔
🔺 امام اہلسنت امام محمد بزدوی حنفیؓ اپنی کتاب پر لکھتے ہیں
📜 قال اهلسنة والجماعة إن معاوية حال حياة علي بن ابي طالب رضي الله عنه لم يكن إماما بل كان الإمام والخليفة وكان على على الحق و معاوية على الباطل ... والدليل على معاوية كان محق قوله عليه اسلام العمار بن ياسر رضي الله عنه تقتلك افئة الباغية وقتله قوم معاوية و قالت الكرامية إن معاوية كان إمام الحق وكذالك علي رضي الله عنه وهو خلاف قول النبي عليه اسلام حيث جعلهم بغاة وخلاف إجماع الصحابة:
📃 اہلسنت والجماعت کہتے ہیں کہ معاویہ حضرت علیؓ کے زندگی میں امام نہیں تھے بلکہ حضرت علی امام و خلیفہ تھے اور حضرت علی حق پر جبکہ معاویہ باطل پر تھے اسکی دلیل رسول اللہ کا وہ فرمان ہے جس میں رسول اللہ نے حضرت عمار کو فرمایا : اے عمار تمھیں ایک باغی گروہ شہید کرے گا , اور انکو معاویہ کے گروہ نے شہید کیا,
ایک (گمراہ) فرقہ کرامیہ کا عقیدہ ہے کہ علیؓ اور معاویہ دونوں ہی حق پر تھے انکا یہ عقیدہ ارشادِ نبویؐ اور اجماع صحابہ کے خلاف ہے کیونکہ رسول اللہ نے خود انکو (گروہ معاویہ) کو باغی قرار دے دیا
📚 أصول الدين ص ٢٠٢
۔
۔
۔
🔺 امام اہلسنت امام شہاب الدین ابن حمادؓ حدیثِ عمارؓ کے تحت لکھتے ہیں کہ
📜 والإجماع منعقد على إمامته و بغى الطائفة الأخرى و استدل أهل السنة و الجماعة على ترجيح جانب على بدلائل أظهرها وأثبتها قوله عليه السلام لعمار بن ياسر رضي الله عنه تقتلك افئة الباغية و هو حديث ثابت وهو إلزام لا جواب عنه حجة لا اعتراض عليها وكان شبهة معاوية ومن معه الطلب بدم عثمان وكان الواجب عليهم شرعا الدخول في البيعة ثم الطلب وجوهه الشرعية وولى الدم في حقيقة أولاد عثمان :
📃 حضرت علیؓ کی امامت پر اور فریقِ مخالف (لشکرِ معاویہ) کے باغی ہونے پر اہلسنت کا اجماع منعقد ہو چکا ہے اہلسنت دلائل کے ساتھ حضرت علیؓ کے ساتھ ہیں اور انہی کو ترجیع دیتے ہیں اس بات کی دلیل بخاری اور مسلم میں رسول اللہ کا وہ فرمان ہے جس میں رسول اللہ نے حضرت عمار بن یاسرؓ کو فرمایا اے عمارؓ تمھیں ایک باغی جماعت شہید کرے گی. اور یہ حدیث ثابت شدہ ہے, یہاں ایک الزام کا جواب دے دوں کیونکہ وہ (ناسبی) اعتراض کر کے شک و شبہ ڈالتے ہیں اور کہتے ہیں کہ معاویہ تو خونِ عثمان کو طلب کر رہے تھے تو میں کہتا ہوں کہ اُن (معاویہ) پر تو شرعاً واجب تھا وہ انکی (مولا علیؓ) بیعت میں داخل ہوتے جبکہ شریعت کی رو سے قصاص طلب کرتے کے حقیقی وارث تو حضرت عثمان کی اولاد تھے:
۔
۔
۔
🔺 امام اہلسنت امام بیہقی اپنی معروف کتاب میں لکھتے ہیں کہ
📜 وَأَمَّا خُرُوجُ مَنْ خَرَجَ عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ رضی اللہ عنہ مَعَ أَهْلِ الشَّامِ فِي طَلَبِ دَمِ عُثْمَانَ ثُمَّ مُنَازَعَتُهُ إِيَّاهُ فِي الْإِمَارَةِ فَإِنَّهُ غَيْرُ مُصِيبٍ فِيْمَا فَعَلَ، وَاسْتَدْلَلْنَا بِبَرَاءَةِ عَلِيٍّ مِنْ قَتْلِ عُثْمَانَ بِمَا جَرَى لَهُ مِنَ الْبَيْعَةِ، لِمَا كَانَتْ لَهُ مِنَ السَّابِقَةِ فِي الْإِسْلَامِ وَالْهِجْرَةِ وَالْجِهَادِ فِي سَبِيْلِ اللهِ وَالْفَضَائِلِ الْكَثِيرَةِ وَالْمَنَاقِبِ الْجَمَّةِ الَّتِي هِيَ مَعْلُومَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْمَعْرِفَةِ إِنَّ الَّذِي خَرَجَ عَلَيْهِ وَنَازَعَهُ كَانَ بَاغِيًا عَلَيْهِ وَكَانَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَدْ أَخْبَرَ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ رضی اللہ عنہ بِأَنَّ الْفِئَةَ الْبَاغِيَةَ تَقْتُلُهُ، فَقَتَلَهُ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ خَرَجُوا عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيٍّ رضی اللہ عنہ فِي حَرْبِ صِفِّيْنَ.
📃 جس شخص (معاویہ) نے اہل شام کے ساتھ قصاصِ عثمان رضی اللہ عنہ کی طلب کا بہانہ بنا کر امیر المومنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف خروج کیا، پھر اُن کے ساتھ خلافت میں تنازع کیا وہ اپنے عمل میں درست نہیں تھا۔ قتلِ عثمان سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے مبراء ہونے کے ہمارے پاس جو دلائل ہیں اُن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اُن کی بیعتِ خلافت پر اتفاق ہوا، پھر اُن کی اسلام میں سبقت، ہجرت، جہاد فی سبیل اللہ میں پیش پیش ہونا اور اُن کے دیگر فضائل کثیرہ اور مناقبِ جمیلہ جو اہل علم کے ہاں معروف ہیں، سب اُن کی براء ت کے بیّن دلائل ہیں۔ یقینا جس شخص نے اُن کے خلاف خروج کیا اور جھگڑا کیا وہ باغی تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کو آگاہ فرمایا تھا کہ: ’’اُنہیں باغی گروہ قتل کرے گا‘‘، سو اُنہیں اُس گروہ نے قتل کیا تھا جس نے جنگِ صفین میں امیر المومنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف خروج کیا تھا۔
📚 الإعتقاد/374
۔
۔
۔
🔺 قاضی شوکانی اہل شام کی بغاوت پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
"اہل صفین کی بغاوت ظاہر ہے۔ اگر اس کے بارے میں صرف یہ ایک ارشاد نبوی (ص) ہی ہوتا جو آپ (ص) نے عمار سے فرمایا تھا کہ تجھے ایک باغی گروہ قتل کرے گا تو یہی بطور ثبوت کافی تھا پھر معاویہ کو علی (ع) کی مخالفت کا حق نہیں تھا، لیکن انہوں نے ریاست اور دنیا کو طلب کرنے کا ارادہ ایسے لوگوں کے بل پر کیا جو نادان تھے اور منکر و معروف کو نہیں جانتے تھے پس انہیں معاویہ کی جانب سے دھوکا دیا گیا کہ وہ حضرت عثمان کا قصاص چاہتے ہیں یہ تدبیریں ان پر کارگر ہوگئیں اور انہوں نے معاویہ کے لیےجان و مال کی قربانیاں دیں اور ان کے خیرخواہ بن گئے۔ یہاں تک کے علی (ع) اہل عراق سے کہتے تھے کہ میں چاہتا کہ تمھارے دس کے بدلے میں اہل شام کا ایک آدمی لے لوں جس طرح درھم دینار سے بدلہ جاتا ہے۔ شامی عوام پر تو تعجب نہیں تعجب ان حضرات پر ہے جو اہل دین و بصیرت تھے مثلا بعض صحابہ و تابعین جو معاویہ کی جانب مائل تھے۔ میری سمجھ نہیں آتا کہ اس معاملے میں کیا چیز ان سے چھپی رہ گئی تھی کہ انہوں نے اہل باطل (اہل شام) کی مدد کی اور اہل حق (حضرت علی) کا ساتھ چھوڑ دیا جبکہ انہوں نے اللہ کے کلام میں پڑھ رکھا تھس کہ اگر ایک گروہ دوسرے گروہ کے خلاف بغاوت کرے تو باغیوں سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے امر کی جانب لوٹ آئیں اور انہوں نے وہ متواتر احادیث بھی سنی ہوئیں تھیں کہ جب تک صریح کفر کا ارتکاب حاکموں سے نہیں دیکھو ان کی نافرمانی حرام ہے اور پھر انھوں نے رسول اللہ (ص) کا ارشاد بھی سنا تھا جو آپ نے عمار بن یاسر رض سے فرمایا تھا۔ اگر صحابیت کا مرتبہ عظیم نا ہوتا اور خیر القرون کا فضل بلند نہیں ہوتا تو میں کہتا کہ دنیا کے مال و محبت نے اس امت کے سلف کو بھی اسی طرح آزمائش نیں ڈالا جس طرح اس نے خلف کو ڈالا۔"
📚 وبل الغمام على شفاء الأوام قاضی شوكانی جلد:2 صفحہ: 416،417
دوسری جگہ قاضی شوکانی حدیث "عمار یاسر کو باغی گروہ قتل کرے گا" نقل کر نے کے بعد فرماتے ہیں:
📜 اس حدیث میں دلیل ہے کہ حضرت علی ع اور ان کے ساتھی جنگ صفین میں حق پر تھے اور معاویہ اور ان کے ساتھ باطل پر، یہ اک ایسا امر ہے کے جس میں انصاف پسند آدمی شک نہں کرے گا مگر وہ شخص جو منکر ہو۔
📚 نیل الاوطار قاضی شوکانی ص207
۔
۔
۔
🔺 امام اہلسنت امام ابو عبد اللہ قرطبی نے اپنی کتاب وذكره القرطبي في التذكرة/ ٦١٥- فرماتے ہیں
📜 و الإجماع متعقد على أن طائفة الإمام طائفة عدل و الأخرى طائفة بغي، ومعلوم أن عليا كان الإمام وروى مسلم في صحيحه أن رسول الله قال لعمار تقتلك فئة باغية وله طرق غير هذا في صحيح مسلم:
📃 اس بات پر اجماع منعقد ہو چکا ہے کہ امام علی والا گروہ ہی انصاف والا گروہ تھا اور دوسرا گروہ باغی تھا اور اس بات کو سب جانتے ہیں کہ حضرت علی امام برحق تھے جیسا کہ امام مسلم نے اپنی صحیح میں روایت کیا کہ رسول اللہ نے حضرت عمار سے فرمایا تجھے ایک باغی گروہ قتل کرے گا اس حدیث کے صحیح مسلم کے علاوہ بھی بہت سے طرق ہیں
📚 وذكره القرطبي في التذكرة/ ٦١٥
۔
۔
۔
🔺 امام اہلسنت امام حافظ ابن کثیر یوں لکھتے ہیں
📜 وهذا مقتل عمار بن ياسر رضي الله عنه مع أمير المؤمنين علي بن أبي طالب رضي الله عنه قتله اهل شام (معاوية) وبأن وظهر بذلك سر ما أخبر به الرسول من أنه تقتله الفئة الباغية وبأن بذلك أن عليا محق و أن معاوية باغ وما في ذلك من دلائل النبوة:
📃 اور یہ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی قتل گاہ ہے جو امیر المومنین علی بن علی طالب رضی اللہ عنہ کے لشکر میں تھے انہیں اہل شام (گروہ معاویہ) نے قتل کیا اور اس سے حضور نبی اکرم کی اس حدیث کا راز ظاہر ہو گیا جو آپ نے فرمایا تھا کہ عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا اور اس سے یہ حقیقت بھی کھل گئی کہ سیدنا علی حق پر تھے اور معاویہ باغی تھے
📚 في البداية والنهاية، ٥٧٥/٤
ایک جگہ لکھتے ہیں
📜 امیرالمومنین حضرت علی(ع)کےساتھ حضرت عماربن یاسر(رض)بھی تھےجنہیں شامیوں نےقتل کردیاتھاان کےقتل سےاس پیشگوئ کارازواضح ہوگیاجسےآپ(ص)نےبیان کیاتھاکہ انہیں ایک باغی گروہ قتل کرےگا،اس سےواضح ہوا حضرت علی(ع)حق پرتھےاور معاویہ باغی تھےاوراس میں کئ دلائل نبوت پاۓجاتےہیں۔
📚 حوالہ//تاریخ ابن کثیر(البدایہ والنہایہ)//جلدہفتم//صفحہ نمبر350
۔
۔
۔
🔺 امام اہلسنت امام العقیدہ امام ابو منصور اپنی کتاب "في أصول الدين/315" میں لکھتے ہیں کہ
📜 وَقَالَ أَبُوْ مَنْصُوْرٍ الْبَغْدَادِيُّ فِي كِتَابِهِ ‹‹أُصُوْلِ الدِّيْنِ›› مَا نَصُّهُ: أَجْمَعَ أَصْحَابُنَا عَلَى أَنَّ عَلِيًّا رضی اللہ عنہ كَانَ مُصِيْبًا فِي قِتَالِ أَصْحَابِ الْجَمَلِ، وَفِي قِتَالِ أَصْحَابِ مُعَاوِيَةَ بِصِفِّيْنَ، وَقَالُوْا فِي الَّذِيْنَ قَاتَلُوْهُ بِالْبَصْرَةِ: إِنَّهُمْ كَانُوْا عَلَى الْخَطَأِ، وَقَالُوْا فِي عَائِشَةَ رضی اللہ عنہا وَفِي طَلْحَةَ وَالزُّبَيْرِ رضی اللہ عنہما: إِنَّهُمْ أَخَطَؤُوْا وَلَمْ يَفْسُقُوْا، لِأَنَّ عَائِشَةَ رضی اللہ عنہا قَصَدَتِ الْإِصْلَاحَ بَيْنَ الْفَرِيْقَيْنِ فَغَلَبَهَا بَنُوْ ضَبَّةَ وَبَنُو الأَزْدِ عَلَى رَأْيِهَا، فَقَاتَلُوْا عَلِيًّا فَهُمُ الَّذِيْنَ فَسَقُوْا دُوْنَهَا. وَأَمَّا الزُّبَيْرُ رضی اللہ عنہ فَإِنَّهُ لَمَّا كَلَّمَهُ عَلِيٌّ رضی اللہ عنہ يَوْمَ الْجَمَلِ عَرَفَ أَنَّهُ عَلَى الْحَقِّ فَتَرَكَ قِتَالَهُ وَهَرَبَ مِنَ الْمَعْرِكَةِ رَاجِعًا إِلَى مَكَّةَ، فَأَدْرَكَهُ عَمْرُو بْنُ جَرْمُوْزٍ بِوَادِي السِّبَاعِ فَقَتَلَهُ، وَحَمَلَ رَأْسَهُ إِلَى عَلِيٍّ رضی اللہ عنہ، فَبَشَّرَهُ عَلِيٌّ رضی اللہ عنہ بِالنَّارِ. وَأَمَّا طَلْحَةُ رضی اللہ عنہ فَإِنَّهُ لَمَّا رَأَى الْقِتَالَ بَيْنَ الْفَرِيْقَيْنِ هَمَّ بِالرُّجُوْعِ إِلَى مَكَّةَ، فَرَمَاهُ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ بِسَهْمٍ فَقَتَلَهُ، فَهَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةُ بَرِيْئُوْنَ مِنَ الْفِسْقِ، وَالْبَاقُوْنَ مِنْ أَتْبَاعِهِمُ الَّذِيْنَ قَاتَلُوْا عَلِيًّا فَسَقَةٌ، وَأَمَّا أَصْحَابُ مُعَاوِيَةَ فَإِنَّهُمْ بَغَوْا، وَسَمَّاهُمُ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بُغَاةً فِي قَوْلِهِ لِعَمَّارٍ: «تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ يَدْعُوْهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ وَيَدْعُوْنَهُ إِلَى النَّارِ » وَلَمْ يَكْفُرُوْا بِهَذَا الْبَغْيِ
أَجْمَعُوْا أَنَّ عَلِيًّا مُصِيْبٌ فِي قِتَالِهِ أَهْلَ صِفِّيْنَ مُعَاوِيَةَ وَعَسْكَرَهُ بِأَنَّ الَّذِيْنَ قَاتَلُوْهُ بُغَاةٌ ظَالِمُوْنَ لَهُ وَلَـكِنْ لَّا يَجُوْزُ تَكْفِيْرُهُمْ ِببَغْيِهِمْ.
📃 امام ابو منصور البغدادی اپنی کتاب ’’أصول الدین‘‘ میں صراحت فرماتے ہیں کہ ہمارے تمام ائمہ کرام کا اس بات پر اجماع ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اصحابِ جَمل کے ساتھ قتال میں اور صفّین میں معاویہ کے ساتھ قتال میں حق بجانب تھے۔ علماء کرام نے اُن لوگوں کے بارے میں جنہوں نے بصرہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ قتال کیا، کہا ہے کہ وہ خطا پر تھے، اور اُنہوں نے سیدہ عائشہ اور حضرت طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہما کے بارے میں بھی کہا ہے کہ وہ خطا وار تھے مگر وہ فا/سق نہیں تھے، کیونکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فریقین کے مابین اصلاح کا قصد کیا تھا لیکن اُن کی رائے پر قبیلہ بنو ضبّہ اور بنو اَزد غالب آگئے، اور اُنہوں نے فتنہ انگیزی کے طور پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ اچانک جنگ چھیڑ دی تھی، وہ سیدہ کو چھوڑ کر سب فاسق ہو گئے رہے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ تو اُن کے ساتھ جمل کے روز سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بات چیت کی، اُن پر عیاں ہو گیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ حق پر ہیں، وہ اسی وقت ارادہ جنگ سے باز آگئے اور انہوں نے میدان چھوڑ کر مکہ مکرمہ کا رُخ کر لیا، لیکن عمر بن جرموز نے اُنہیں وادئ سباع میں جا لیا اور قتل کر دیا، پھر اُن کا سر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس لے آیا، جس پر آپ نے اُس کو دوزخ کی وعید سنائی باقی رہے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ تو اُنہوں نے بھی جب فریقین کے درمیان جنگ کو دیکھا تو مکہ مکرمہ کی طرف پلٹنے کا ارادہ کیا لیکن مروان بن الحکم نے اُنہیں تیر مار کر شہید کر دیا۔ لہٰذا یہ تینوں حضرات (سیدہ عائشہ طلحہ اور زبیر) فسق سے بری ہیں اور ان کے باقی پیروکار جنہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ کی وہ سب فاسق ہوگئے۔ رہے اصحابِ معاویہ تو وہ باغی تھے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عماربن یاسر رضی اللہ عنہ کو فرمایا «اے عمار تمھیں ایک باغی گروہ شہید کرے گا تم اس کو جنت کی طرف بلاؤ گے جبکہ وہ تمھیں جہنم کی طرف بلاتے ہوں گے» رسول اللہ نے خود اُنہیں باغی قرار دے دیا تھا
آئمہ کا اجماع ہے کہ معاویہ اور اُن کے لشکر کے ساتھ جنگ صفین میں بھی حضرت علی ہی حق پر تھے جنہوں نے سیدنا علی کے ساتھ جنگ کی وہ سب نا انصاف و ظالم اور باغی تھے لیکن اُن کو کا/فر نہیں کہا جائے گا۔
📚 المناوي في فيض القدير، 6/366
۔
۔
۔
🔺 امام العقیدہ امام اہلسنت امام ابو الحسن العشری فرماتے ہیں کہ
📜 ولا أقول في عائشة وطلحة والزبير رضي الله عنهم إلا أنهم رجعوا عن الخطأ إن طلحة والزبير من العشرة المبشرين بالجنة وأقول في معاوية وعمرو بن العاص انهما بغيا على الإمام الحق علي بن أبي طالب فقاتلهما مقاتلة أهل البغي:
📃 اور میں عائشہ ، طلحہ اور الزبیر کے بارے میں سوا اِس کے کچھ نہیں کہتا کہ انہوں نے اپنی خطا سے توبہ کر لی طلحہ اور الزبیر ان دس لوگوں میں شامل ہیں جن سے جنت کا وعدہ کیا گیا تھا اور میں معاویہ اور عمرو بن العاص کے بارے میں کہتا ہوں کہ وہ باغی تھے اور علی بن ابی طالب امامِ حق تھے چنانچہ انہوں نے ان باغیوں سے جنگ کی۔
📚 الخطط الاثار ج ٤ ص ٣٦٠
۔
۔
۔
امام ملا علی قاری نے حدیث عمار بن یاسر بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں
📜 قلت : فإذا كان الواجب عليه أن يرجع عن بغيه بتاعته الخليفة ويترك المخالفة وطلب الخلا فة المنيفة فتبين بهذا انه كان في الباطن باغيه وفي الظاهر متسترا بدم عثمان مراعيا مرائيا هذا الحديث عليه ناعيا و عن عمله
ناهيا:
📃 میں کہتا ہوں اس کے بعد (شہادت عمار کے بعد) تو امیر معاویہ پر واجب تھا کہ وہ بغاوت چھوڑتے ہوئے خلیفہ برحق کی کی اطاعت کی طرف رجوع کرتے اور مخالفت ترک کر دیتے اور خلافت کی طلب سے باز آ جاتے اس سے ظاہر ہوا کہ وہ باطن میں باغی تھے اور ظاہر میں قصاص عثمان کی آڑ لے کر دکھاوا کرنے والے تھے پس یہ حدیث(حدیث عمار) ان پر طعن کرنے والی ہے اور انکی اتباع سے روکنے والی ہے
📚 شرح مشكوة ج ١١ صفه ١٧ تا ١٨
۔
۔
۔
🔺 امام بدر الدین عینی الحنفی لکھتے ہیں
📜 قلت: كيف يقال : كان معاوية مخطئا في اجتهاده، فما كان الدليل في اجتهاده؟ وقد بلغه الحديث الذين قالا: ويح ابن سميه تقتله الفئة الباغية ، وابن سمية هو عمار بن ياسر ، وقد قتله فئة معاوية أفلا يرضى معاوية سواء بسواء حتى يكون له أجر واحد:
📃 میں کہتا ہوں کہ یہ کیسے کہہ دیا جاتا ہے کہ معاویہ نے اپنے اجتہاد میں خطا کی، کیا دلیل ہے انکے اجتہاد پر؟ حالانکہ انہیں وہ حدیث پہنچ چکی تھی جس میں رسول کریم نے فرمایا: ابن سمیہ(عمار) پر رحمت ہو اس کو باغی گروہ قتل کرے گا، ابن سمیہ عمار بن یاسر ہیں اور انہیں معاویہ کے گروہ نے شہید کیا، معاویہ کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ برابر بچ جائیں ناکہ وہ ایک اجر کی امید رکھیں ۔
📚 عمدة القاري، ١٩٢/٢٤ ، الرقم/ ٧٠٨٣
۔
۔
۔
🔺 امام اعظم ابو حنیفہ جنگ صفین کے متعلق یوں فتویٰ دیتے ہیں ۔
📜 روى أبو العلاء صاعد بن محمد في كتاب الاعتقاد و أبو محمد الحارثيُّ في كتاب الكشف و غيرهما
عن الإمام أبي حنيفة أنه قال: "أتدرون لمٓ يبغضنا أهل الشام ، قلنا لا، قال: لأنّا لو حضرنا صفين كنّا مع عليّ على معاوية، فلذلك لا يحبوننا"
📃 امام ابو حنیفہ نے (شاگردوں) سے کہا کیا آپ جانتے ہیں کہ شام کے لوگ ہم سے نفرت کیوں کرتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا نہیں ، انہوں نے کہا اگر ہم جنگ صفین میں ہوتے تو ہم حضرت علی کے ساتھ مل کر معاویہ سے جنگ کرتے اس لیے وہ (اہل شام) ہمیں پسند نہیں کرتے
📚 کتاب الاعتقاد ج١ ص٩٦٣
۔
۔
۔
🔺 امام اہلسنت امام عبدالقاہر لکھتے ہیں
📜 وقال فقهاء الإسلام فيما حكاء الامام عبدالقادر في كتاب الا مامة من تأليف : و اجميح فقهاء الحجاز و العراق و من فريقي الحديث والزي منهم مالك والشافعي و الحنفية والالوزاعي والجمهور الا عظم من المتكلمين أن عليا في مصيب في قتاله الا اهل صفين كما قالو يا ثابته في قتال اصحاب الجمل وقالو أيضأ يا الذين قالوه بفاة تظلمون له ولاكن لا يجوز تكفير بفيلم:
📃 اس بات پر اجماع ہے فقہائے اسلام کا، فقہاء عراق کا ،فقہاء حجاز کا اور فقہاء اکرام کی دونوں طرف کی جماعتیں جن میں امام مالک، امام شافعی، امام ابوحنیفہ، امام اوزاعی اور جمیع متکلمین کا اور جمہور آئمہ اہلسنت کا اجماع ہے
کہ سیدنا علی جنگِ صفین (مولا علی اور معاویہ کے درمیان ہونے والی جنگ) میں حق پر تھے جس طرح آپ جنگ جمل میں حق پر تھے جہنوں نے حضرت علی کے خلاف جنگ کی وہ باغی اور ظالم تھے لیکن ان کو کافر نہیں کہا جائےگا ۔
📚 امام عبدالقاہر جریانی/ کتاب الامامت/ص 1223
📚 امام عبداللہ قرطبی/ کتاب التزکرہ/ص 534
📚 طاہرالقادری/حقیقت خلافت/ص 109
۔
۔
۔
🔺 امام اہلسنت امام ابوبکر الجصاص الرازی حنفی اپنی کتاب "احکام القرآن ج٦ ص٢٨٠ " میں لکھتے ہیں کہ
📜 قال الجصاص باب قتال أهل البغي ما نصه: " وأيضا قاتل علي بن أبي طالب رضي الله عنه الفئة الباغية بالسيف ومعه من كبار الصحابة و أهل بدر من قد علم مكانهم, وكان محقا في قتاله لهم لم يخالف فيه أحد إلا الفئة الباغية التي قابلته و أتباعها, وقال صلى الله عليه و سلم لعمار: " تقتلك الفئة الباغية. وهذا خبر مقبول من طريق التواتر حتی ان معاویہ لم یقدر علی جحدہ لماقال لہ عبداللہ بن عمر فقال : انما قتلہ من جاء بہ فطرحہ بین اسنتنا ، رواہ اھل الکوفہ واھل البصرہ واھل الحجاز واھل الشام وھو علم من اعلام النبوت ، لانہ خبر عن غیب لا یعلم الا من جھت علام الغیوب:
📃 ”امام ابوبکر باغیوں سے قتال کے باب میں لکھتے ہیں کہ حضرت علیؓ نے ہتھیاروں کے ساتھ باغیوں کے خلاف جنگ کی تھی آپ کے ساتھ جلیل القدر صحابہ کرامؓ تھے جن میں بدری صحابہ بھی تھے۔ حضرت علیؓ ان باغیوں کے خلاف جنگ کرنے میں برحق تھے کسی نے آپ کی مخالفت نہیں کی سوائے اس باغی گروہ اور اس کے ہمنوا جن کا آپ نے مقابلہ کیا تھا اس معاملے میں وہ آپ کے مخالف تھے۔ جبکہ حضورﷺ نے حضرت عمارؓ سے فرمایا(تقتلک الفںٔة الباغية، تمھیں باغی گروہ قتل کرے گا)۔ یہ حدیث تواتر کی بنا پر خبر مقبول کا درجہ رکھتی ہے حتیٰ کہ معاویہ کو بھی اس کے انکار کی ہمت نہیں ہوئی۔ جب حضرت عبداللہؓ بن عمرو نے ان سے اسے بیان کیا اس موقع پر معاویہ نے صرف اتنا ہی کہا کہ ”عمارؓ کو دراصل اُس نے قتل کیا جو اُنھیں اپنے ساتھ لے کر آیا تھا(اشارہ حضرت علیؓ کی طرف ہے)اور پھر انھیں ہمارے نیزوں کے درمیان پھینک دیا “ :اس حدیث کو اہلِ کوفہ ،اہل بصرہ ،اہل حجاز اور اہل شام نے روایت کیا ہے یہ حدیث حضورﷺ کی نبوت کی نشانیوں میں سے ایک بڑی نشانی ہے کیونکہ یہ آئندہ رونما ہونے والے واقعہ کے متعلق اطلاع ہے جس کا علم صرف علام الغیوب کی طرف سے اُس کے نبیﷺ کو دیا گیا تھا۔“
📚 احکام القرآن ج٦ ص٢٨٠
۔
۔
۔
امام اہلسنت امام ابن حبان اپنی کتاب پر لکھتے ہیں کہ
📜 عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رضی اللہ عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: «تَقْتُلُ عَمَّارًا الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ». وَفِيْهِ أَيْضًا عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: «وَيْحَ ابْنِ سُمَيَّةَ تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ يَدْعُوْهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ وَيَدْعُوْنَهُ إِلَى النَّارِ». فَالْحَدِيْثُ بِرِوَايَتَيْهِ مِنْ أَصَحِّ الصَّحِيْحِ، فَعَمَّارُ الَّذِي كَانَ فِي جَيْشِ عَلِيٍّ رضی اللہ عنہ دَاعٍ إِلَى الْجَنَّةِ بِقِتَالِهِ مَعَ عَلِيٍّ رضی اللہ عنہ، فَعَلِيٌّ دَاعٍ إِلَى الْجَنَّةِ بِطَرِيْقِ الْأَوْلَى. وَفِي رِوَايَةِ الطَّبَرَانِيِّ زِيَادَةٌ وَهِيَ: «وَيْحَ عَمَّارٍ تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ النَّاكِبَةُ عَنِ الْحَقِّ». وَعَمَّارٌ مَا نَالَ هَذَا الْفَضْلَ إِلَّا بِكَوْنِهِ مَعَ عَلِيٍّ، فَهُوَ وَجَيْشُهُ دُعَاةٌ إِلَى الْجَنَّةِ وَمُقَاتِلُوْهُمْ دُعَاةٌ إِلَى النَّارِ.
📃 امام ابن حبان اپنی ’’الصحیح‘‘ میں بیان کرتے ہیں:
سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا۔‘‘ نیز اِس میں سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’عمار پر رحمت ہو اُسے ایک باغی گروہ قتل کرے گا، یہ اُنہیں جنت کی طرف بلائے گا اور وہ اُسے جہنم کی طرف بلائیں گے۔‘‘ یہ حدیث دونوں روایتوں کے ساتھ صحیح ترین حدیث ہے۔ حضرت عمار رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں تھے، جو معیتِ علی میں داعی إلی الجنۃ تھے، لہٰذا سیدنا علی رضی اللہ عنہ بطریقِ اَولیٰ داعی إلی الجنة تھے، طبرانی کی ایک روایت میں ان الفاظ کا اضافہ ہے: ’’عمار پر رحمت ہو اُسے وہ باغی گروہ قتل کرے گا جو حق سے ہٹ چکا ہو گا۔‘‘ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اس فضیلت کے حامل فقط سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی معیت کی بدولت ہوئے، لہٰذا وہ اور اُن کا لشکر داعی إلی الجنة (جنت کی طرف بلانے والا لشکر) تھے اور اُن کے ساتھ جنگ کرنے والے داعی إلی النار (دوزخ کی طرف بلانے والے) تھے۔
📚 أخرجه ابن حبان في الصحيح، 15/131، الرقم/6736، وأيضًا في 15/553، الرقم/7078،
📚 والطبراني في المعجم الكبير، 23/363، الرقم/852،
📚 وذكره الهيثمي في مجمع الزوائد، 9/ 297،
📚 والمناوي في فيض القدير، 4/359.
۔
۔
۔
🔺 امام حافظ ابن حجر عسقلانی اپنی شرح "فتح الباری" میں حدیث "إن أبني هذا لسيد" کی شرح میں یوں لکھتے ہیں
📜 وَهُوَ قَوْلُ كَثِيرٍ مِنَ الْمُعْتَزِلَةِ إِلَى أَنَّ كُلًّا مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ مُصِيبٌ، وكفي لإثبات ذلك الحديث الصحيح روى حديثا "تقتل عمار الفئة الباغية يدعوهم إلى الجنة و يدعونه إلى النار" جماعة من الصحابة منهم قتادة بن النعمان كما تقدم وام سلمة عند مسلم وابو هريرة عند الترمذي وعبد الله بن عمرو بن العاص عند النسائى وعثمان بن عفان و حذيفة وأبو أيوب وأبو رافع و خزيمة بن ثابت و معاوية و عمرو بن العاص اليسر وعمار نفسة و كلها عند الطبرانى وغيره و غالب طرقها صحيحة أو حسنة و فيه عن جماعة آخرين يطول عندهم وفي هذا الحديث علم من أعلام النبوة و فضيلة ظاهر ة و لعمار ورد على النواصب الزاعمين أن عليا لم يكن مصيبا في حروبه كان قتله بصفين و هو مع علي و الذين قتلوهمع معاوية۔۔۔۔۔وإنما هو وصف النواصب إتباع معاوية صفين:
📃 ایک فرقہ معتزلہ کے کثیر لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ دونوں گروہ (گروہِ علی اور گروہِ معاویہ) درست تھے جب کہ انکی یہ بات غلط ہے کیونکہ ایک گروہ (گروہ علی) کے حق ہونے پر ایک حدیثِ صحیح ہی کافی ہے یہ حدیث "تقتل عمار الفئة الباغية يدعوهم إلى الجنة و يدعونه إلى النار" (اے عمار تم کو ایک باغی گروہ شہید کرے گا تم اس گروہ کو جنت کی طرف بلاؤ گے جبکہ وہ گروہ تمھیں جہنم کی طرف بلائے گا) کو صحابہ اکرام کی جماعت نے روایت کیا ہے ان میں سے قتادہ بن نعمان ام المومنین ام سلمہ نے روایت کیا ہے اور ابو ہریرہ سے مسلم ترمزی نے روایت کیا ہے اور عبداللہ بن عمر بن عمرو بن العاص سے امام نسائی نے روایت کیا اور عثمان بن عفان، خزیفہ، ابو ایوب، ابو رافع، خزیمہ بن ثابت، معاویہ، عمرو بن العاص، ابو الیسر اور خود عمار بن یاسر رضي الله عنه ما نے روایت کیا ہے یہ تمام طریق امام طبرانی اور دوسرے آئمہ کرام کے ہاں پائے جاتے ہیں اور اکثر طریق صحیح حسن ہیں اور اس حدیث کے راویوں میں ایک اور جماعت کا بھی نام ہے جن کی فہرست طویل ہے اور حدیث عمار میں دلائل نبوت میں واضح دلیل ہے اور سیدنا علی اور حضرت عمار کی کھلی فضیلت ہے اور نواصب کی تردید ہے جو گمان کرتے ہیں کہ سیدنا علی اپنی جنگوں میں حق پر نہیں تھے عمار کی شہادت جنگ صفین میں ہوئی اور وہ سیدنا علی کے حامی تھے اور گروہ معاویہ نے انکو شہید کیا ناصبی ان لوگوں کو کہتے ہے جہنوں نے جنگ صفین میں معاویہ کی پیروری کی
📚 فتح الباری
امام ابن حجر عسقلانی حضرت علی کے خلاف بغاوت کرنے والوں کے متعلق ایک اور حدیث اپنی کتاب تلخيص الحبير في تخريج أحاديثِ الرافعيِّ الكبير - كتابَ الإمامةِ وقتالِ البغاة جزء 4 صحيفة 44 پر لکھتے ہیں
📜 قال الحافظُ العسقلانيُّ في كتابهِ تلخيص الحبير في تخريج أحاديثِ الرافعيِّ الكبير - كتابَ الإمامةِ وقتالِ البغاة جزء 4 صحيفة 44 - ما نصُّه :" قولُه ـ يعني الرافعيَّ ـ :" ثَبَتَ في المستدرَك أنَّ أهلَ الجملِ وصِفِّينَ والنَّهْرَوَانِ بُغاة " هو كما قال ويدُلُّ عليه حديثُ عليٍّ :" أُمِرْتُ بقتال الناكثينَ والقاسطينَ والمارقين " ، والحديثُ رَوَاهُ البَزَّارُ والطَّبَرانيُّ ورَوَاهُ النَّسَائِيُّ في الخصائص . والنَّاكثونَ هم أهلُ الجَمَلِ لأنهم نَكَثُوا بَيْعَتَهُ ، والقاسطونَ هم أهلُ الشَّام لأنهم جاروا عن الحقِّ في عَدَمِ مبايعتهِ ، وأمَّا المارقونَ فهم أهلُ النَّهْرَوَانِ وذلك لثبوتِ الخبرِ الصَّحيحِ فيهم أنهم يَمْرُقُونَ من الدِّينِ كما يمرُقُ السَّهْمُ من الرَّمِيَّة "انتهى كلامُ ابنِ حَجَرٍ بحروفه ..
والنَّهْرَوانُ ثلاثُ قُرًى بينَ واسِطَ وبغداد كما في القاموسَ المحيط.
۔
۔
۔
🔺 امام اہلسنت امام سعد الدین تفتازانی لکھتے ہیں ۔
سعد الدين التفتازاني المتوفى سنة 792 هجري
قال لسان أهل السنة الناطق العلامة السعد التفتازاني في كتابه المقاصد الجزء 3\535 ما نصه:
📜 " والقاسطون معاوية وأتباعه الذين اجتمعوا عليه، وعدلوا عن طريق الحق الذي هو بيعة عليّ رضي الله عنه والدخول تحت طاعته". انتهى
و قال: " ولهذا ذهب الأكثرون إلى أن أول من بغى في الإسلام معاوية"
📃 قاسطین سے مراد معاویہ اور اسکے پیرو کار تھے جو انکے (مولا علی) خلاف جمع ہوئے اور سیدھے راستے پر وہ لوگ تھے جو حضرت علی بیعت میں داخل ہو گئے، انہوں نے کہا یہی وجہ ہے کہ اکثر آئمہ کا خیال ہے کہ معاویہ اسلام کا پہلا باغی ہے ۔
۔
۔
۔
امام اہلسنت امام کاسانی فرماتے ہیں۔
📜 وَقَالَ الْإِمَامُ الْكَاسَانِيُّ: وَلَنَا مَا رُوِيَ عَنْ عَمَّارٍ، أَنَّهُ لَمَّا اسْتُشْهِدَ بِصِفِّيْنَ تَحْتَ رَايَةِ عَلِيٍّ رضی اللہ عنہ فَقَالَ: لَا تَغْسِلُوْا عَنِّيْ دَمًا، وَلَا تَنْزِعُوْا عَنِّيْ ثَوْبًا، فَإِنِّيْ أَلْتَقِيْ وَمُعَاوِيَةُ بِالْجَادَةِ، وَكَانَ قَتِيْلَ أَهْلِ الْبَغْيِ، عَلَى مَا قَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: «تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ».
📃 امام کاسانی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی روایت ہی ہماری دلیل ہے کہ جب وہ جنگ صفین میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پرچم تلے (باغیوں کے خلاف لڑتے ہوئے) شہید ہونے لگے تو انہوں نے فرمایا:میرے بدن سے خون دھونا اورنہ میرا لباس اتارنا،کیونکہ میں اورمعاویہ میدانِ محشر میں اِسی حال میں ملیں گے۔ حضرت عمار رضی اللہ عنہ باغیوں کے ہاتھوں قتل ہوئے تھے، کیوں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے(ان کے قاتلوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ) ارشاد فرمایا تھا: ’’(اے عمار!) تجھے باغی گروہ قتل کرے گا‘‘۔
📚 الكاساني في بدائع الصنائع، 1/323
۔
۔
۔
🔺 امام اہلسنت امام کمال الدین حنفی لکھتے ہیں
📜 قَالَ كَمَالُ الدِّيْنِ بْنُ الْهُمَامِ الْحَنَفِيُّ فِي شَرْحِ فَتْحِ الْقَدِيْرِ: (قَوْلُهُ: وَالْحَقُّ كَانَ بِيَدِ عَلِيٍّ رضی اللہ عنہ فِي نَوْبَتِهِ) هَذَا تَصْرِيحٌ بِجَوْرِ مُعَاوِيَةَ، وَالْمُرَادُ فِي خُرُوْجِهِ لَا فِي أَقْضِيَتِهِ،۔ ۔۔۔۔۔ وَاسْتَقْضَى مُعَاوِيَةُ أَبَا الدَّرْدَاءِ بِالشَّامِ وَبِهَا مَاتَ.... وَإِنَّمَا كَانَ الْحَقُّ مَعَهُ فِي تِلْكَ النَّوْبَةِ لِصِحَّةِ بَيْعَتِهِ وَانْعِقَادِهَا فَكَانَ عَلَى الْحَقِّ فِي قِتَالِ مُعَاوِيَةَ بِصِفِّينَ. وَقَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ لِعَمَّارٍ: سَتَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ. وَقَدْ قَتَلَهُ أَصْحَابُ مُعَاوِيَةَ يُصَرِّحُ بِأَنَّهُمْ بُغَاةٌ.
📃 امام کمال الدین بن الہمام الحنفی اپنی کتاب ’’شرح فتح القدیر‘‘ میں لکھتے ہیں: صاحبِِ ھدایہ کا یہ کہنا کہ [حق خلافت کے معاملے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا] یہ معاویہ کے ظالم حکمران ہونے پر تصریح ہے۔ یہاں ظلم سے مراد ان کا خلیفہ راشد (سیدنا علی رضی اللہ عنہ ) کے خلاف خروج کرنا ہے نہ کہ ان کا تمام فیصلوں میں راہِ عدل سے منحرف ہونا۔۔ ۔۔ معاویہ نے حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے شام کا منصبِ قضاء (یعنی چیف جسٹس) کا عہدہ سنبھالنے کی درخواست کی تھی۔ (وہ ایک عادل قاضی تھے، ساری عمر منصبِ قضا پر فائز رہے) اور ان کا وصال ملک شام میں ہی ہوا۔۔ ۔۔ سیدنا علی علیہ السلام کا حق پر ہونے کا معنی یہ ہے کہ خلافت کی (چوتھی) مدت میں سیدنا علی علیہ السلام کی بیعت درست ہونے کے اعتبار سے اِستحقاقِ خلافت سیدنا علی علیہ السلام ہی کا تھا۔ لہٰذا حضرت علی المرتضیٰ علیہ السلام معاویہ مقابلے میں صفین کے معرکہ میں حق پر تھے۔ نیز حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو فرمانا - ’اے عمار! تمہیں باغی گروہ شہید کرے گا‘ - اس معرکے میں حق و باطل کے تعین میں واضح دلیل ہے۔ کیوں کہ انہیں معاویہ کے ساتھیوں نے ہی شہید کیا تھا۔ یہ فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بات کی تصریح کرتا ہے کہ وہ لوگ باغی تھے۔
۔
۔
۔
🔺 امام الزرکشی فرماتے ہیں
📜 قال الزركشي وهذا الحديث احتج به الرافعي لإطلاق العلماء بأن معاوية ومن معه كانوا باغين ولا خلاف أن عمار كان مع علي رضي الله عنه وقتله أصحاب معاوية.
📃 ترجمہ: اس حدیث (حدیثِ عمار) کا اطلاق علماء نے اس پر کیا ہے کہ معاویہ اور جو ان کے ساتھ تھے سب باغی تھے اور عمار رضی اللہ عنہ حصرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور معاویہ کے گروہ نے ان کو شہید کیا۔
📚 توضیح الافکار لمعانی تنقیح الانظار جلد 2 ص257 تحت مسالۃ 63 معرفہ الصحابہ
۔
۔
۔
🔺 امام صفی الرحمان مبارکپوری فرماتے ہیں ۔
📜 الْمُرَادُ بِالْفِئَةِ أَصْحَابُ مُعَاوِيَةَ وَالْفِئَةُ الْجَمَاعَةُ وَالْبَاغِيَةُ هُمُ الَّذِينَ خَالَفُوا الْإِمَامَ وَخَرَجُوا عَنْ طَاعَتِهِ بِتَأْوِيلٍ بَاطِلٍ وَأَصْلُ الْبَغْيِ مُجَاوَزَةُ الْحَد
📃 ترجمہ: جماعت باغیہ سے مراد معاویہ اور معاویہ کے ساتھیوں کی جماعت ہے جنہوں نے امامِ وقت کے خلاف خروج کیا اور وہ بھی باطل تاویل کی بنا پر اور دراصل یہ بغاوت تھی جو اپنی حدود سے تجاوز تھا ۔
📚 تحفہ الاحوذی تحت رقم 3800
۔
۔
۔
🔺 امام ابن عابدین شامی رقطراز ہیں
📜 لولا علي رضي الله عنه ما دربنا القتال مع أهل القبلة،
وكأن علي و من ثبعه من اهل العدل وخصمه من
اهل البغي:
📃 اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ نا ہوتے تو ہم جان نا پاتے کہ اہل قبلہ باغیوں سے جنگ کس طرح کی جاتی ہے حضرت علی اور آپ ساتھی اہل عدل تھے جب کہ آپ کے تمام مخالفین باغی تھے۔
📚 حاشیہ ابن عابدین شامی، کتاب الجھاد، ص 614
۔
۔
۔
🔺 امام آلوسی فرماتے ہیں
📜 الفئة الباغية كما أمرني الله تعالى- يعني بها معاوية ومن معه الباغي
📃 ترجمہ: معاویہ اور ان کے ساتھ باغی گروہ تھا۔
📚 تفسیر روح المعانی تحت آیت 5 سورہ الحجرات
.
🔺 امام المحدثین امام سعدالدین تفتازانی الحنفی تحریر کرتے ہیں
📜 ولهذا ذهب الاكنرون إلى أن أول من بغى فى الإسلام معاوية:
📃 معاویہ اسلام کا پہلا باغی بادشاہ ہے۔
📚 شرح المقاصد ص 309
۔
۔
۔
🔺 امام اعظم ابو حنیفہ کے مایہ ناز شاگردِ رشید امام محمد مسلکِ امام اعظم ابو حنیفہ کی ترجمانی کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
📜 قَالَ محمد بن الحسن یقول لو لم یقاتل معاویة علیا ظالما لھو متعدیا باغیا كنا ال نھتدي لقتال أھل البغي :
📃 امام محمد نے کہا معاویہ اسلام کا پہلا ظالم، جارح اور باغی بادشاہ تھا، اگر معاویہ مولا علی کے خلاف جنگ نہ کرتا تو ہمیں ظالمین کے خلاف جنگ کرنے کا موقع ہی نہ ملتا۔
📚 امام محمد، متوفی 189ھ
📚 امام المستقیم عبدالقادر القرشی الحنفی
📚 الجواھر المضیہ، ج 2 ص 26
۔
۔
۔
🔺 امام ابو شکور السالمی الحنفی تحریر کرتے ہیں ۔
ایک بار امام اعظم ابو حنیفہ نے اپنے اصحاب و تلامذہ سے فرمایا:
کیا تم جانتے ہو کہ اہل شام ہم سے کیوں بغض رکھتے ہیں..؟؟
انہوں نے کہا: نہیں.
امام صاحب نے فرمایا : اس لیے کہ ہم عقیدہ رکھتے ہیں کہ اگر ہم اس زمانہ میں ہوتے تو
معاویہ کے مقابلے میں، حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی مدد کرتے ،
اور سیدنا علی کے ساتھ مل کر معاویہ کے خلاف جنگ کرتے ،
📚 تمہید ابو شکور سالمی، صفحہ 370
🔺 اور امام ابو شکور محمد بن عبد السعید سالمی کشبی ، اپنی اسی کتاب ، میں دوسرے مقام پر فرماتے ہیں:
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی زندگی مبارک میں معاویہ اور ان کے ساتھ جو لوگ تھے وہ سب دعوی امارت اور بیعت میں قصور وار تھے اور
حضرت علی کے ساتھ مقاتلہ میں سب باغی تھے.
📚 تمہید ابو شکور سالمی، صفحہ: 369
۔
۔
۔
🔺 امام الزرکشی فرماتے ہیں
📜 قال الزركشي وهذا الحديث احتج به الرافعي لإطلاق العلماء بأن معاوية ومن معه كانوا باغين ولا خلاف أن عمار كان مع علي رضي الله عنه وقتله أصحاب معاوية.
📃 ترجمہ: اس حدیث (حدیثِ عمار) کا اطلاق علماء نے اس پر کیا ہے کہ معاویہ اور جو ان کے ساتھ تھے سب باغی تھے اور عمار رضی اللہ عنہ حصرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور معاویہ کے گروہ نے ان کو شہید کیا۔
📚 توضیح الافکار لمعانی تنقیح الانظار جلد 2 ص257 تحت مسالۃ 63 معرفہ الصحابہ
۔
۔
۔
🔺 علامہ نواب صدیق خان قنوجی لکھتے ھیں ۔
📜 وأما الكلام فيمن حارب عليا كرم الله وجهه فلا شك ولا شبهة أن الحق بيده في جميع مواطنه أما طلحة والزبير ومن معهم فلأنهم قد كانوا بايعوه فنكثوا بيعته بغيا عليه وخرجوا في جيوش من المسلمين فوجب عليه قتالهم وأما قتاله للخوارج فلا ريب في ذلك والأحاديث المتواترة قد دلت على أنه يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية وأما أهل صفين فبغيهم ظاهر لو لم يكن في ذلك إلا قوله صلى الله عليه وسلم لعمار: "تقتلك الفئة الباغية" لكان ذلك مفيدا للمطلوب ثم ليس معاوية ممن يصلح لمعارضة علي ولكنه أراد طلب الرياسة والدنيا بين قوم أغتام لا يعرفون معروفا ولا ينكرون منكرا فخادعهم بأنه طلب بدم عثمان۔
📃 ۔۔۔۔۔جہاں تک بات ھے ان کی جو علی كرم الله وجهه سے لڑے، اس میں کوئی شک و شبھہ نہیں کہ حق ان کے ہاتھ میں تھا تمام مواقع پر۔ جہاں تک بات ھے طلحة والزبير اور وہ جو ان کے ساتھ تھے، انھوں نے بیعت کی علی کی، اور پھر اس کو توڑ دیا اور مسلمانوں میں سے ایک فوج لے کر آئے، لازم تھا کہ ان سے لڑا جاتا
اور جہاں تک ان جنگوں کا حال ھے جو خوارج سے لڑی گئیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ اس پر متواتر روایات ھیں کہ وہ دین سے خارج تھے جیسے کہ تیر کمان سے نکل جائے۔ اور جہاں تک صفین کے لوگوں کا حال ھے، وہ ظاہری طور پر باغی تھے جیسا کہ رسول اللہ نے عمار سے کہا تھا کہ تم کو باغی گروہ ہلاک کرے گا، اور اس زمن میں یہی مطلوب ھے۔ اور معاویہ علی سے جنگوں میں اصلاح کا خواہشمند نہ تھا، بلکہ ریاست اور دنیا چاہتا تھا، اور وہ ایسی قوم کے ساتھ تھا جو معروف باتوں کا ادراک نہ رکھتے تھے، اور نہ ہی منکر باتوں کا انکار کرتے تھے، سو معاویہ نے انہیں "عثمان کے خون کا بدلہ" کہہ کر دھوکا دیا
📚 الكتاب: الروضة الندية شرح الدرر البهية
المؤلف: أبو الطيب محمد صديق خان بن حسن بن علي ابن لطف الله الحسيني البخاري القِنَّوجي (المتوفى: 1307هـ)
الناشر: دار المعرفة ج 2 ص 360​
۔
۔
۔
🔺 امام صفی الرحمان مبارکپوری فرماتے ہیں ۔
📜 الْمُرَادُ بِالْفِئَةِ أَصْحَابُ مُعَاوِيَةَ وَالْفِئَةُ الْجَمَاعَةُ وَالْبَاغِيَةُ هُمُ الَّذِينَ خَالَفُوا الْإِمَامَ وَخَرَجُوا عَنْ طَاعَتِهِ بِتَأْوِيلٍ بَاطِلٍ وَأَصْلُ الْبَغْيِ مُجَاوَزَةُ الْحَد
📃 ترجمہ: جماعت باغیہ سے مراد معاویہ اور معاویہ کے ساتھیوں کی جماعت ہے جنہوں نے امامِ وقت کے خلاف خروج کیا اور وہ بھی باطل تاویل کی بنا پر اور دراصل یہ بغاوت تھی جو اپنی حدود سے تجاوز تھا ۔
📚 تحفہ الاحوذی تحت رقم 3800
۔
۔
۔
🔺 ملا علی قاری فرماتے ہیں
📜 واستدل به على أحقية خلافة علي، وكون معاوية باغياً لقوله عليه الصلاة والسلام: ويحك يا عمار يقتلك الفئة۔
📃 حدیث عمار سے استدلال کیا ہے علی رضی اللہ عنہ حق پر تھے جبکہ معاویہ باغی ہیں۔
📚 شرح مسند ابی حنیفہ اقتدوا بعد ابی بکر و عمر رضی اللہ عنہما جلد ا ص245
۔
۔
۔
۔
🔺 شیخ عبدالعزیز محدث دہلوی اپنی مایہ ناز کتاب
""تّحفہ اثنا عشریہ"" میں یوں فرماتے ہیں ۔
📜 ""معاویہ نے خلیفہ راشد حضرت علی ع کے خلاف خروج کر کے بغاوت کی فسق کیا اور گناہِ کبیرہ کے مرتکب ہوئے"""
📚 تحفہ اثنا عشریہ اردو ، ص 320
۔
۔