9 صفر شہادت جلیل القدر صحابی رسول صل اللہ علیہ وآلہ وسلم و محب اہل بیت نبوة حضرت عمار یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ
حضور اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا اے عمار رض تجھے ایک باغی (سرکش) گروہ قتل کرےگا وہ تمہیں جہنم کی طرف بلا رہے ہونگے جبکہ تو انہیں جنت کی طرف دعوت دے رہا ہوگا
وہ باغی گروہ جنگ صفین میں مولا علی علیہ السلام کے مخالف معاویہ کا لشکر تھا۔
حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے ایک روایت پیش خدمت قارئین ہے
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’جو مجھ پر ایمان لایا اور میری تصدیق کی اُسے میں ولایتِ علی کی وصیت کرتا ہوں، جس نے اُسے ولی جانا اُس نے مجھے ولی جانا اور جس نے مجھے ولی جانا اُس نے اللہ کو ولی جانا، اور جس نے علی ع سے محبت کی اُس نے مجھ سے محبت کی، اور جس نے مجھ سے محبت کی اُس نے اللہ سے محبت کی، اور جس نے علی سے بغض رکھا اُس نے مجھ سے بغض رکھا، اور جس نے مجھ سے بغض رکھا اُس نے اللہ سے بغض رکھا۔‘‘
1. هيثمي، مجمع الزوائد، 9 : 108، 109
2. ابن عساکر، تاريخ دمشق الکبير، 45 : 181، 182
3. حسام الدين هندي، کنز العمال، 11 : 611، رقم : 32958
عکرمہ نے بیان کیا کہ حضرت ابن عباس رض نے مجھ سے اور اپنے بیٹے علی سے فرمایا : تم دونوں حضرت ابوسعید رض کے پاس جائو اور ان سے حدیث کا سماع کرو، پس ہم دونوں گئے ، اس وقت حضرت ابوسعید رض اپنے باغ کی اصلاح کر رہے تھے ، انہوں نے اپنی چادر کے ساتھ کمر اور گھٹنوں کو باندھ دیا ، پھر ہمیں حدیث سنانے لگے حتیٰ کہ مسجد کی تعمیر کا ذکر آیا تو انہوں نے کہا : ہم ایک ایک اینٹ اٹھا کر لارہے تھے اور حضرت عمار دو دو اینٹیں اٹھا کر لا رہے تھے ۔ نبی کریم ع نے انہیں اس حال میں دیکھا تو اُن سے مٹی جھاڑی اور فرمایا :
"عمار پر افسوس ہے ! اس کو ایک باغی جماعت قتل کرے گی ، یہ ان کو جنت کی طرف بلائے گا اور وہ اس کو دوزخ کی طرف بلائیں گے "
حضرت ابوسعید رض نے کہا : حضرت عمار رض کہتے تھے : میں فتنوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتا ہوں ۔
صحیح البخاری // حدیث : 447 ، 2812 // باب : التعاون فی بناء المسجد // کتاب الصلاۃ
نبی کریمؐ نے فرمایا تھا: «افسوس! عمار کو ایک باغی جماعت قتل کرے گی» (صحيح البخاري: 2812)
بعض نادان لوگ صحیح بخاری میں اِس فرمانِ رسول کو سن کر بھی پوچھتے ہیں کہ کیا سَلف میں سے کسی بزرگ نے اِس حدیثِ رسول کی روشنی میں معاویہ کو "باغی" قرار دیا ہے؟
تو عرض ہے کہ صحابیِ رسول عبداللہ بن عَمْروؓ نے معاویہ کے سامنے کھڑے ہوکر کہا کہ نبی کریمؐ کی پشین گوئی کے مطابق تم لوگ باغی ہو۔ اور معاویہ نے یہ سن غصہ کیا اور عبداللہ بن عمروؓ جیسے عظیم صحابی کو "مجنون"، یعنی دیوانہ اور پاگل تک کہہ دیا۔
یہ روایت کسی شیعہ کی کتاب سے نہیں ہے، بلکہ یہ امامِ اہلِ سنت امام احمد بن حنبل اور امام نسائی کی روایت ہے۔
اور اہلِ سنت کے محدثین الذہبی، الہَیثمی، اور شعیب الارنووط نے اِس روایت کو صحیح کہا ہے۔
یاد رہے کہ یہ عبداللہ بن عَمْروؓ زاہد و عابد صحابی مشہور تھے، اور اُن چند صحابہ میں شامل ہیں جنہوں نے سب سے زیادہ حدیثیں روایت کی ہیں۔
کیا معاویہ کی خطا "اِجتہادی خطا" تھی؟
اول تو قاتلینِ عثمان کوجان بوجھ کر نہ پکڑنے کا بہتان لگاکر خلیفۂ برحق حضرت علی ع کے خلاف تلوار اٹھانا معاویہ کی "خطا" تھی، اِس خطا کو "اجتہادی خطا" کے خوبصورت لفظ میں پرونا کسی طرح بھی درست نہیں ہے۔ لیکن اگر یہ معاویہ کا اجتہاد تھا بھی تو جب عبداللہ بن عمروؓ نے معاویہ کو عمار بن یاسرؓ کے قتل کے بارے میں نبی پاک کی واضح پشین گوئی سنادی تو اُس وقت معاویہ کے لیے اجتہاد کا موقع ختم ہوچکا تھا۔ نَصّ کی موجودگی میں کوئی اجتہاد نہیں ہوتا۔ حدیثِ رسول سنتے ہی معاویہ کو اپنا اجتہاد ختم کرکے علی ع کی بیعت کرلینی چاہیے تھے۔ نبی پاک ص کی حدیث کے آگے معاویہ کو سر جھکا دینا چاہیے تھا۔ مگر افسوس، معاویہ حدیثِ رسول کے آگے ڈٹ گئے، اور حدیثِ رسول سنانے والے صحابی کو "مجنون" اور پاگل کہنا شروع کردیا۔ اس لیے معاویہ کی خطا کو "اجتہادی خطا" کہہ کر اسے اِس خطا پر ایک اجر کا مستحق ٹھیرانا لفظِ اجتہاد کو بدنام کرنا ہے۔ اس لیے کہ اجتہاد تو یہ ہوتا ہے کہ کسی مسئلے کے بارے میں نبی پاک کا واضح حکم موجود نہ ہو تو وہاں اپنی عقل سے کوئی بہتر رائے اپنا لی جائے۔ معاویہ کے علاوہ باقی صحابہ کے بارے میں ایسے شواہد موجود ہیں کہ ان میں سے کسی نے اگر اپنے اجتہاد سے کوئی فتوٰی دیا بھی تو جب انہیں اپنی رائے کے خلاف حدیثِ رسول پہنچی تو انہوں نے فورًا اپنا اجتہاد ترک کردیا۔
سب سے پہلا سر جو زمانۂ اسلام میں کاٹ کر لےجایا گیا وہ عمار بن یاسرؓ کا سَر تھا۔ جنگِ صِفِّین میں ان کا سر کاٹ کر معاویہ کے پاس لایا گیا۔
امام احمد بن حنبلؒ کی روایت:
حنظلہ بن خُوَیلِد کہتے ہیں کہ میں معاویہ کے پاس کھڑا تھا، ان کے پاس دو آدمی عمار بن یاسرؓ کے سَر کے بارے میں جھگڑ رہے تھے، ہر ایک (معاویہ سے انعام کے لالچ میں) دعویٰ کررہا تھا کہ عمار کو میں نے قتل کیا ہے۔
پاس کھڑے عبداللہ بن عَمْروؓ فرمانے لگے:
تم دونوں میں سے ہرایک کو چاہیے کہ وہ اِس قتل کو خوشی سے اپنے ساتھی کے لیے چھوڑدے، کیونکہ میں نے رسولُ اللہؐ کو یہ فرماتے ہوے سنا ہے کہ: «عمار کو ایک باغی جماعت قتل کرے گی»۔
فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: أَلَا تُغْنِي عَنَّا مَجْنُونَكَ يَا عَمْرو؟ فَمَا بَالُكَ مَعَنَا؟
یہ بات سُن کر معاویہ بولے: اے عَمْرو، کیا تم اپنے اِس پاگَل بیٹے سے ہمارا پیچھا نہیں چُھڑا سکتے؟ اگر ہم باغی ہیں تو پھر تم ہمارے ساتھ کیا کررہے ہو؟
عبداللہ بن عَمْروؓ نے معاویہ کو جواب دیا:
ایک مرتبہ میرے والد نے رسولُ اللہؐ سے میری شکایت کی تھی اور آپؐ نے مجھ سے فرمایا تھا کہ: «زندگی بھر اپنے باپ کی اطاعت کرنا، اس کی نافرمانی نہ کرنا»۔ اِس لیے میں آپ لوگوں کے ساتھ تو ہوں لیکن میں لڑائی میں شریک نہیں ہوتا۔
(مسند أحمد: 6929 إسناده صحيح)
الذہبی اور الہَیثمی دونوں نے مسند احمد کی اس روایت کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔
(المعجم المختص للذهبي: ص 96، مجمع الزوائد: 12063)
غور کیجیے کہ عبداللہ بن عَمْروؓ تو معاویہ کو سمجھا رہے ہیں کہ فرمانِ رسول کی روشنی میں حضرت علی ع کے ساتھ جنگ کرنے میں تم لوگ "باغی" ہو، حق پر نہیں ہو، مگر معاویہ حدیثِ رسول سن کر ندامت محسوس کرنے کی بجائے اُلٹا صحابیِ رسول کو "مجنون"، یعنی دیوانہ اور پاگل کہہ رہے ہیں۔ یہ تھا معاویہ کے دل میں اِتنے بڑے عالِم، محدّث، اور زاہد و عابد صحابی کا احترام، اور حدیثِ رسول کا احترام!!
یاد رہے کہ یہ روایت میں نے کسی شیعہ کی کتاب سے نقل نہیں کی ہے۔ پہلی حدیث صحیح بخاری کی ہے، اور یہ دوسری روایت امامِ اہلِ سنت امام احمد بن حنبلؒ کی کتاب "مسند احمد" سے ہے، اور اِس کی سند کو اہلِ سنت کے دو مُستند ماہرِ اَسماءُ الرِجال الذَہبی اور الہَیثمی نے صحیح قرار دیا ہے۔
مسند احمد کی یہ روایت اس بات کا ثبوت ہے کہ عمار بن یاسرؓ کو معاویہ کے فوجیوں نے قتل کیا، اور ان کا سر کاٹ کر اپنے سربراہ معاویہ کے پاس لے کر گئے۔
امام نسائی نے بھی اس روایت کا ابتدائی حصہ درج کیا ہے جس میں عمار کا سر کاٹ کر معاویہ کو پیش کرنے کا ذکر ہے۔
(النسائی فی خصائص علي: 164)
مولانا زکریاؒ جو مشہور کتاب "فضائل اعمال" کے مولف ہیں، ان کی یہ کتاب "اوجز المسالک" عربی زبان میں موطا مالک کی شرح ہے۔ جو بھائی یہ کتاب لینا چاہے مجھ سے لے سکتا ہے۔
جنگِ صِفِّین میں ایک طرف جلیل القدر صحابہ تھے، اور دوسری طرف چند "طُلَقاء" تھے، یعنی مکہ کے وہ مشرک جو آٹھ سال تک اسلام کو مٹانے کی بھرپُور کوشش میں لگے رہے، لیکن جب نبی کریمؐ نے مکہ فتح کرلیا اور یہ لوگ مغلوب ہوگئے تو اُس وقت یہ لوگ مسلمان ہوگئے، یعنی جب مسلمان ہونے کے علاوہ کوئی اور راستہ ہی نہ تھا۔
اگرچہ شیخ الحدیث مولانا زکریاؒ نے اپنی اس کتاب میں معاویہ کے نام کے ساتھ بھی بعض جگہ رضی اللہ عنہ کے الفاظ لکھے ہیں، مگر اِس خاص موقع پر غالبًا حضرت علی کے خلاف جنگ کی وجہ سے شیخ زکریاؒ نے علی کے نام کے ساتھ تو مکمل رضی اللہ عنہ کے الفاظ لکھے ہیں، مگر معاویہ کے نام کے ساتھ کچھ نہیں لکھا۔ اس پوسٹ میں مَیں نے جو عکس دیا ہے اُس کو غور سے دیکھو۔
حدیث: عمار رض کا قاتل جہنم میں جائے گا:
امام احمد بن حنبل نے مسند احمد میں روایت کی ہے کہ رسولُ اللہؐ نے فرمایا:
«إِنَّ قَاتِلَ عَمَّارٍ وَسَالِبَهُ فِي النَّارِ»
«اَللّٰهُمَّ أُولِعَتْ قُرَيْشٌ بِعَمَّارٍ، إِنَّ قَاتِلَ عَمَّارٍ وَسَالِبَهُ فِي النَّارِ»
«بیشک عمار کا قاتل اور اُس کا سامان چھیننے والا جہنم میں جائے گا»۔
«اے اللہ، قریش کو عمارکے بارے میں خبردار کردیا گیا! بیشک عمار کا قاتل اور اُس کا سامان چھیننے والا جہنم میں جائے گا»۔
(مسند أحمد: 17776، المستدرك للحاكم: 5661، سلسلة الصحيحة: 2008)
اِس حدیث کو صحیح قرار دینے والے:
(1)۔ شیخ البانی نے مسند احمد کی اس روایت کی سند کو "صحیح" کہا ہے۔
(2)۔ مسند احمد کے محقق شعیب الارنووط نے اس روایت کی سند کو "قوی" کہا ہے۔
(3، 4)۔ امام حاکم اور الذہبی دونوں نے اس حدیث کو "بخاری و مسلم کی شرط پر" صحیح کہا ہے۔
(5)۔ الہَیثمی نے "مجمع الزوائد" میں اس روایت کے راویوں کو ثِقہ قرار دیا ہے۔ لکھتے ہیں:
وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.
مسند احمد کے راوی ثِقہ ہیں۔
(مجمع الزوائد: 12064)
میں نے یہاں اِس حدیث کو صحیح قرار دینے والے اہلِ سنت کے پانچ معروف و مشہور محدثین کے نام دیے ہیں۔
عمار کا قاتل "ابوالغادیہ" صحابی تھا:
عمار بن یاسر کا قاتل ((ابوالغادیہ)) صحابی تھا، اِس بارے میں محدّثین و مورّخین میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔
چند اقوال ہم یہاں درج کرتے ہیں (عربی متن اور ترجمہ):
(1)۔ امام بخاری کے الفاظ ہیں:
يَسار بْن سَبُع، أَبو غادِيَة، الجُهَنِيُّ. سَمِعَ النَّبيَّ ﷺ. (+) كُلْثُومَ بْنَ جَبْرٍ، يَقُولُ كُنْتُ بِوَاسِطَ عِنْدَ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ فَجَاءَ آذِنٌ فَقَالَ قَاتِلُ عَمَّارٍ بِالْبَابِ.
ابوالغادیہ الجُہَنی کا نام یَسار بن سَبع تھا۔ اس نے نبیؐ سے حدیث کی سماعت کی ہے۔ کُلثوم بن جَبْر روایت کرتے ہیں کہ میں واسِط میں عَمْرو بن سعید کے پاس تھا کہ دربان نے آکر بتایا کہ باہر کوئی عمار کا قاتل ملاقات کے لیے آیا ہے۔
(التاريخ الكبير لِلبخاري: 3557، التاريخ الأوسط لِلبخاري: 728)
راوی کے الفاظ پر غور کیجیے۔ یعنی جب کبھی یہ ابوالغادیہ معاویہ یا ان کے کسی گورنر وغیرہ کے پاس اپنی کسی حاجت کے لیے جاتا تو وہاں دربان کو اپنا نام بتانے کی بجائے یہ کہتا کہ اندر جاکر بتاؤ "عمار کا قاتل آیا ہے"۔ اِس طرح وہ معاویہ سے اپنی حاجت پوری ہونے اور اِنعام و اِکرام کی امید رکھتا تھا۔
اِس کی یہ حرکت بتاتی ہے کہ اِس ظالم کو توبہ کی بھی توفیق نصیب نہیں ہوئی، اور ہوتی بھی کیسے کہ نبی پاک فرماگئے تھے کہ عمار کا قاتل جہنم میں جائے گا۔
(2)۔ امام مسلم لکھتے ہیں:
أَبُو الغَادِيَة يَسَار بن سَبع، قَاتِل عَمَّار، لَهُ صُحْبَة.
ابوالغادیہ یَسار بن سَبع قاتلِ عمار صحابی تھا۔
(الكُنٰى والأسماء لِلإمام مسلم: 2/ 669/ 2708)
(3)۔ یحیٰ بن معین کہتے ہیں:
أَبُو الغَادِيَة الجُهَنِيّ قَاتِل عَمَّار لَهُ صُحْبَة.
ابوالغادیہ الجُہَنی قاتلِ عمار صحابی تھا۔
(الإصابة لِابن حجر: 7/ 258/ 10371)
(4)۔ الدارقُطنی کہتے ہیں:
أَبُو الغَادِيَة، يَسَار بْن سَبع، لَهُ صُحْبَة، رَوَى عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، وَهُوَ قَاتِلُ عَمَّارَ بْن يَاسِر، رَحِمَهُ اللهُ، بِصِفِّين.
ابوالغادیہ یَسار بن سَبع صحابی تھا، اس نے نبیؐ سے حدیث بھی روایت کی ہے، وہ عمار بن یاسرؓ کا قاتل تھا جنگِ صِفِّین میں۔
(موسوعة أقوال أبي الحسن الدارقطني: 2/ 724/ 3938)
(5)۔ ابن عبدالبر (م463ھ) لکھتے ہیں:
أَبُو الغَادِيَة الجُهَنِي. أَدْرَكَ النَّبِيَّ ﷺ وَهُوَ غُلَامٌ، وَلَهُ سَمَاع مِنَ النَّبِيّ ﷺ، وَهُوَ قَاتِلُ عَمّارَ بْن يَاسِر.
ابوالغادیہ الجُہَنی ، اس نے نبیؐ کو پایا ہے جبکہ یہ نوجوان تھا، اور اس نے نبیؐ سے حدیث کی سماعت بھی کی ہے، اور یہ عمار بن یاسرؓ کا قاتل ہے۔
(الاستيعاب لابن عبد البر: 4/ 1725/ 3113)
(5)۔ الذہبی (م748ھ) لکھتے ہیں:
أَبُو الغَادِيَة الجُهَني: يَسَار بْن سَبُع، لَهُ صُحْبَة، وَهُوَ قَاتِلُ عَمَّار.
ابوالغادیہ الجُہَنی یَسار بن سَبع صحابی تھا، اور وہ عمار کا قاتل تھا۔
(المقتنى في سرد الكنى لِلذهبي: 2/ 3/ 4885)
(6)۔ ابن کثیر (م774ھ) لکھتے ہیں:
أَبُو غَادِيَة الجُهَنِي، يَسَار بْن سَبع، أَدْرَكَ النَّبِيَّ ﷺ، وَهُوَ قَاتِلُ عَمَّارَ بْن يَاسِر.
ابوالغادیہ الجُہَنی یَسار بن سَبع نے نبیؐ کو پایا ہے اور وہ عمار بن یاسر کا قاتل تھا۔
(التكميل في الجرح والتعديل لِابن کثیر: 3/ 365/ 2299)
(7)۔ شارحِ بخاری حافظ ابن حجر (م852ھ) لکھتے ہیں:
أَبُو الغَادِيَة الْجُهَنِي، اسْمُهُ يَسَار بْن سَبع، أدْرَكَ النَّبِيَّ ﷺ وَسَمِعَ مِنْهُ، وَهُوَ الَّذِي قَتَلَ عَمَّارَ بْن يَاسِر.
ابوالغادیہ الجُہَنی، اس کا نام یَسار بن سَبع تھا، اس نے نبیؐ کو پایا ہے اور آپ سے حدیث کی سماعت بھی کی ہے، اور اس نے عمار بن یاسر کو قتل کیا ہے۔
(تعجيل المنفعة لِابن حجر: 2/ 519/ 1364)
(8)۔ ابن عبدالبَر، ابن الاثیر، اور حافظ ابن حجر لکھتے ہیں:
وَهُوَ قَاتِلُ عَمَّارَ بْن يَاسِر، وَكَانَ إذَا اسْتأْذن عَلَى مُعَاوِيَةَ وَغَيرَهُ يَقُوْلُ: قَاتِل عَمَّار بِالْبَاب، وَكَانَ يَصِفُ قَتْلَهُ إِذَا سُئِلَ عَنْهُ لَا يُبَالِيه.
ابوالغادیہ عمار بن یاسر کا قاتل تھا، اور جب کبھی معاویہ وغیرہ کے پاس جاتا تو کہتا: "دروازے پر عمار کا قاتل آیا ہے"۔ وہ پوچھنے پر لوگوں کو قتل کی تفصیل بتاتا اور اس میں کوئی شرم محسوس نہ کرتا۔
(الاستيعاب لِابن عبد البر: 4/ 1725/ 3113، أسد الغابة لِابن الثیر: 5/ 237/ 6140، تعجيل المنفعة لابن حجر: 2/ 519/ 1364)
(9)۔ ابوالغادیہ نے خود اعتراف کیا ہے کہ عمار بن یاسر کو میں نے قتل کیا ہے۔ وہ قتل کی یہ سٹوری اپنے ایک کارنامے کے طور پر سنایا کرتا تھا کہ جنگِ صِفِّین میں عمار نے پورے جسم پر زِرہ پہن رکھی تھی، صرف گُھٹنے کے پاس کچھ جگہ ننگی تھی، میں نے تاک کر نشانہ مارا اور اسے ڈھیر کردیا۔
(الطبقات الكبرٰى لِابن سعد: 3/ 260، مسند أحمد: 16698 إسناد حَسن، سلسلة الصحيحة: 2008 إسناد صحيح)
شیخ البانی نے مسند احمد اور ابن سعد کی اِس روایت کی سند کو "صحیح" کہا ہے۔
شعیانِ معاویہ سے سوال:
اب شیعانِ معاویہ جو کہتے ہیں کہ "کسی بھی صحابی کو بُرا نہ کہو" وہ بتائیں کہ جس بدبخت صحابی کو اللہ کے نبی نے "جہنمی" قرار دیا ہے اُس کے بارے میں بھی آپ لوگ یہی کہیں گے کہ اِس کو جہنمی نہ کہو، ورنہ توہینِ صحابہ ہوجائے گی، کیونکہ اس کا بہت بڑا کارنامہ ہے کہ اس نے نبی پاک کو دیکھا ہوا ہے؟ اِس کا مطلب تو پھر یہ ہوا کہ شیعانِ معاویہ کے نزدیک توہینِ صحابہ نہیں ہونی چاہیے، نبی پاک کی توہین ہوتی ہے تو ہوتی رہے، معاذ اللہ۔
نیک نیتی کے ساتھ اجتہاد:
اللہ کے نبی نے قتلِ عمار کی اِس خبر میں یہ نہیں فرمایا تھا کہ اِس فعلِ قبیح کا مُرتکب اگر کوئی "صحابی" ہوا تو پھر خیر ہے، اور نہ آپ نے یہ فرمایا تھا کہ اگر اُس نے یہ حرکت نیک نیتی کے ساتھ "اِجتہاد" کرکے کی تو پھر بھی خیر ہے، آپ نے تو امت کو صاف صاف خبردار کردیا تھا کہ بچ جانا، جو بھی یہ حرکت کرے گا اُس کا ٹھکانہ جہنم میں ہوگا۔ کامَن سَنس کی بات ہے کہ جب ایک جُرم کا مُرتکب عام شخص کی بجائے کوئی "صحابی" ہو تو اس کے جرم کی نوعیت کم ہونے کی بجائے مزید بڑھے گی۔
ابن حجرؒ کی توجیہ باطل ہے:
حافظ ابن حجر نے ((ابوالغادیہ)) کے ترجمہ میں لکھا ہے کہ وہ صحابی تھا اور وہ عمار بن یاسرؓ کا قاتل تھا۔
پھر ابنِ حجر نے اِس قتل کو ایک صحابی کی "اجتہادی خطا" قرار دیتے ہوے لکھا ہے کہ:
"صحابہ کے بارے میں حُسنِ ظن یہ ہے کہ آپس کی اِن لڑائیوں میں وہ اجتہاد کی بنا پر شریک تھے، اور مجتہد کا اجتہاد اگر غلط بھی ہو تو پھر بھی اسے (دو اجر کی بجائے) ایک اجر ملتا ہے۔ جب یہ بات عام مجتہد کے لیے ثابت ہے تو پھر صحابہ کے لیے تو بدرجۂ اولیٰ ثابت ہے۔"
(الإصابة في تمييز الصحابة 7/ 260)
حافظ ابن حجر کی اِس سوچ پر اَستغفراللہ ہی کہا جاسکتا ہے۔ ابن حجر کا مقام و مرتبہ اپنی جگہ صحیح، اللہ اُن کو اُن کی خدمات کا ضرور اجر عطا فرمائے گا۔ مگر یہاں انہوں نے جو کچھ کہا ہے اُس پر ہم افسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتے۔ اور ابنِ حجر سے پہلے آٹھ صدیوں تک کسی نے ایسی بات کہنے کی جرأت نہیں کی۔
ابن حجر ایک شخص کو ایک ایسے فعل پر مستحقِ اجر بنا رہے ہیں جس کے بارے میں اللہ کے رسولؐ نے فرمایا تھا کہ اِس فعلِ قبیح کا مرتکب جہنم میں جائے گا۔
رسولُ اللہؐ نے مطلقًا یہ فرمایا تھا کہ جو بھی عمار کو قتل کرنے کا جرم کرے گا وہ جہنم میں جائے گا، صحابی یا غیرصحابی کی بات آپؐ نے نہیں کی، اور نہ آپ نے کسی نام نہاد اجتہاد کی بات کی تھی۔
"اجتہاد" تو حق تک پہنچے کے لیے جد و جہد کا نام ہے۔ نبی کریمؐ نے اپنے جس ساتھی کے قتل سے جہنم کی بشارت دے کر سختی سے ڈرایا ہو اُس فعل کو اجتہاد کا نام دینا "اجتہاد" کے پاکیزہ لفظ کو بدنام کرنا ہے۔
یاد رکھیں کہ ہم نے صحابہ کا احترام کرنا ہے، ان کی پوجا نہیں کرنی۔
ابن حجر کو شیخ البانی کا جواب:
چنانچہ شیخ البانیؒ نے ابن حجر کی اس توجیہ کا رَد یوں فرمایا ہے:
"ابن حجر نے لکھا ہے کہ:
"ا بوالغادیہ عمار کا قاتل تھا۔ صحابہ کے بارے میں حُسنِ ظن یہ ہے کہ آپس کی اِن لڑائیوں میں وہ اجتہاد کی بنا پر شریک تھے، اور مجتہد کا اجتہاد اگر غلط بھی ہو تو پھر بھی اسے (دو اجر کی بجائے) ایک اجر ملتا ہے۔ جب یہ بات عام مجتہد کے لیے ثابت ہے تو پھر صحابہ کے لیے تو بدرجۂ اولیٰ ثابت ہے۔"
میں (البانی) کہتا ہوں: اجتہاد پر اجر کا یہ قول ہے تو صحیح، مگر اِس قاعدہ کو ہر صحابی پر لاگو کرنا مشکل ہے کیونکہ اس طرح یہ قاعدہ حدیثِ صحیح سے ٹکراتا ہے۔ ابوالغادیہ جو عمار کا قاتل ہے یہ قول اُسے اجتہاد کی بنا پر اجر کا مستحق بنا رہا ہے جبکہ رسولُ اللہؐ فرمارہے ہیں کہ: «عمار کا قاتل جہنم میں جائے گا»۔ پس درست بات یہ ہے کہ یہ قاعدہ صرف وہاں لاگو ہوگا جہاں کسی صحابی کے کسی مسئلہ میں اجتہاد کرنے کے واضح دلائل موجود ہوں۔"
(سلسلة الصحيحة: 5/ 19/ 2008)
اے اللہ، ناس ہو اِس ملوکیت کا کہ تیرے نبی نے جس فعلِ قبیح کے مُرتکب کو جہنم کی بشارت سنائی تھی، تیرے یہ ملوکیت کے بندے اُسی فعل پر اُس ظالم کو اجر کی بشارت سنا رہے ہیں!!
اے اللہ، تُو گواہ رہ، ہم اِن مُلوک کی بندگی کرنے والوں کے مقابلے میں تیرے نبی کی دی ہوئی خبر پر ایمان لائے!
بشکریہ: سید حسنی و محمد نواز