🔴 حضرت عمر اور زمانہ جاہلیت کی عادت
▪️محمد بن سیرین سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب نے کہا:
📜 "مَا بَقِيَ فِيهِ شَيءٌ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ إِلَّا أَنِّي لَسْتُ أُبَالِي إِلَى أَيِّ النَّاسِ أُكِحْتُ وَأَيِّهِمْ أَنْكَحْتُ"
📃 روایت ہے کہ اسحاق بن یوسف الازرق، محمد بن عبد اللہ انصاری اور ہوزہ بن خلیفہ نے بیان کیا، وہ ابن عون سے، وہ محمد بن سیرین سے روایت کرتے ہیں کہ:
عمر بن خطاب نے کہا:
"مجھ میں جاہلیت کی کوئی عادت باقی نہیں رہی، سوائے ایک عادت کے، اور وہ یہ ہے کہ مجھے اس کی کوئی پروا نہیں کہ کون میرے ساتھ یہ عمل کرے یا میں کس کے ساتھ یہ عمل کروں۔"
📚 الطبقات الکبیر (الطبقات الکبریٰ)
مکتبۃ الخانجی، قاہرہ
جلد 3
"الطبقة الأولى من البدريين من المهاجرين والأنصار"
باب: ذکر استخلاف عمر
صفحہ 269
لیکن اہلِ سنت کے بعض حضرات اس روایت کا سامنا کرتے ہوئے اس قدر ناراض ہوئے کہ انہوں نے روایت پر اعتراض کرنے کی کوشش کی۔ اہلِ سنت کی طرف سے اس روایت پر دو اعتراض کیے جاتے ہیں:
1⃣ ۔ روایت کی سند مرسل ہے۔
2⃣ ۔ روایت میں آیا ہے کہ عمر کہتے ہیں: "میں کس سے نکاح کروں یا کون مجھ سے نکاح کرے"، لہٰذا اس سے مراد لواط نہیں بلکہ نکاح ہے۔
✅شیعہ کا جواب ::::::::::::: 👍
✍ اولاً: یہ روایت صحیح سند کے ساتھ نقل ہوئی ہے۔ اہلِ سنت کا واحد اعتراض ابن سیرین پر ہے، وہ کہتے ہیں کہ چونکہ وہ تابعی تھے، اس لیے انہوں نے عمر کو نہیں پایا، لہٰذا ان کی روایت مرسل ہے۔
اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ اگر حضرات ذرا زحمت کرتے اور اپنی کتبِ رجال کا مطالعہ کرتے تو دیکھتے کہ ان کے اپنے اصولِ رجال کے مطابق تابعی کی مرسل روایت جمہور اہلِ سنت کے نزدیک حجت ہے۔
▪️ملا علی قاری اس اعتراض کے جواب میں کہ صحابی کی مرسل روایت قبول نہیں، لکھتے ہیں:
📜 "قلت: مرسل التابعي حجة عند الجمهور، فكيف مرسل من اختلف في صحة صحبته."
میں کہتا ہوں: تابعی کی مرسل روایت جمہور کے نزدیک حجت ہے، تو پھر اس شخص کی مرسل روایت کا کیا کہنا جس کے صحابی ہونے میں اختلاف ہے۔
📚 القاری، علی بن سلطان محمد (وفات 1014ھ)، مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، جلد 9، صفحہ 434، تحقیق: جمال عیتانی، ناشر: دار الکتب العلمیہ، لبنان/بیروت، پہلی اشاعت 1422ھ، 2001ء۔
▪️اسی طرح زرکشی نے اپنی کتاب النکت علی مقدمہ ابن صلاح میں، جو اہلِ سنت کی معتبر کتبِ درایت میں سے ہے، جلد 1 صفحہ 491، مطبوعہ اضواء السلف، ریاض، میں لکھا ہے:
📜 "الجمهور على قبول المرسل ووجوب العمل به إذا كان المرسل ثقة عدلاً، وهو قول مالك وأهل المدينة وأبي حنيفة وأهل العراق وغيرهم."
📃 جمہور اہلِ سنت کا موقف یہ ہے کہ وہ مرسل روایت کو قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرنا واجب سمجھتے ہیں، جب روایت بھیجنے والا (مرسِل) ثقہ اور عادل ہو۔ یہ قول امام مالک، اہلِ مدینہ، ابو حنیفہ، اہلِ عراق اور دیگر علماء کا ہے۔
جیسا کہ آپ نے دیکھا کہ اہلِ سنت کے نزدیک تابعی کی مرسل روایت مطلقاً حجت ہے، صرف یہ شرط ہے کہ روایت نقل کرنے والا ثقہ ہو۔ محمد بن سیرین کی توثیق بھی آگے ذکر کی جائے گی۔
لہٰذا تابعی کی مرسل روایت حجت قرار پائی اور اس پر عمل کرنا بھی لازم ہوا۔
⭕ محمد بن سیرین کا تعارفِ رجال:
تحقیق کرنے والے حضرات جانتے ہیں کہ اہلِ سنت کے ہاں مکتبہ شاملہ نامی سافٹ ویئر موجود ہے، جس میں محمد بن سیرین کے ترجمے میں یہ لکھا ہے:
📜نام: محمد بن سیرین الانصاری، ابو بکر بن ابی عمرہ البصری، مولیٰ انس بن مالک
طبقہ: 3 — متوسط تابعین میں سے
وفات: 110ھ
روایت کرنے والے: بخاری، مسلم، ابو داود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ
▪️ابن حجر کے نزدیک مرتبہ:
📜"ثقہ، ثبت، بلند مرتبہ، اور وہ روایت بالمعنیٰ کو جائز نہیں سمجھتے تھے۔"
▪️ذہبی کے نزدیک مرتبہ:
📜"ثقہ، حجت، بڑے علماء میں سے، بہت زیادہ علم رکھنے والے۔"
اس کے علاوہ بھی ان کی توثیق کے بہت سے اقوال موجود ہیں۔
لہٰذا اہلِ سنت کا پہلا اعتراض درست نہیں۔
👈 دوسرے اعتراض کا جواب :::::::::
✍ حضرات کہتے ہیں کہ عمر کی مراد لواط نہیں بلکہ نکاح ہے۔
❓تو یہ بات بھی باطل ہے اور ظاہرِ روایت کے خلاف ہے۔ کیوں؟
کیونکہ عمر کہتے ہیں کہ "جاہلیت کے امور اور عادات میں سے کوئی چیز مجھ میں باقی نہیں رہی"،
👈 جبکہ نکاح ان امور میں سے ہے جو اسلام میں بھی موجود ہے۔ لہٰذا عمر ایک ایسی عادت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جو جاہلیت میں تھی لیکن اسلام میں نہیں ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ عمر کہتے ہیں: "مجھے اس کی کوئی پروا نہیں"۔
❓ تو کیا نکاح ایسا معاملہ ہے جس کے بارے میں عمر کہیں کہ مجھے اس کے کرنے کی پروا نہیں؟ جبکہ اگر مراد نکاح ہو تو اس میں بے پروائی یا بے باکی کی ضرورت نہیں، نہ ہی یہ کوئی ایسی چیز ہے جس میں بہادری یا جسارت کی ضرورت ہو، بلکہ نکاح سنت ہے اور نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو میری سنت کو چھوڑے وہ مجھ سے نہیں۔
لہٰذا اگر یہاں مراد نکاح لی جائے تو:
اولاً: نکاح صرف جاہلیت کی عادت نہیں بلکہ اسلام میں بھی مشروع ہے۔
ثانیاً: یہ کوئی ایسا معاملہ ہونا چاہیے جس کے بارے میں عمر کہہ رہے ہیں کہ مجھے اس کی پروا نہیں، یعنی مجھے اس کے کرنے میں شرم یا حیا محسوس نہیں ہوتی، جبکہ نکاح ایسی چیز نہیں جس میں حیا کرنے یا شرمندگی کی بات ہو۔
Gallery
Tap any image to view full screen