شجاعت کا اصل مفہوم
🔴 شجاعت کا اصل مفہوم
شجاعت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ہر جگہ تلوار اٹھا لے، مار دے اور قتل کرے۔
ہم مسلمان چاہے شیعہ ہوں یا سنی سب اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ
👈 رسولِ خدا ﷺ، امیرالمؤمنین علی علیہالسلام سے زیادہ شجاع تھے۔
خود امیرالمؤمنین علیہالسلام فرماتے ہیں:
📜 "جب کبھی جنگوں میں ہمارے لیے میدان تنگ ہو جاتا تھا، تو ہم رسولِ خدا ﷺ کے سائے میں پناہ لیتے تھے۔"
لیکن وہی رسولِ اکرم ﷺ جب مکہ میں تھے اور ان کے اصحاب و یاران قریش کے ہاتھوں سخت اذیت میں تھے،
تو باوجود اپنی شجاعت کے کوئی دفاعی اقدام نہیں کرتے تھے۔
❓ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ایسا کرنا رسولِ خدا ﷺ کی شجاعت کی کمی تھی؟
❌ ہرگز نہیں۔
✅ حقیقی شجاعت یہ ہے کہ انسان کسی کام کے انجام دینے سے پہلے اس کے نتائج پر غور کرے کہ اس کا انجام کیا ہوگا۔
رسولِ خدا ﷺ کا یہ منصب نہیں تھا کہ وہ ہر کام معجزے کے ذریعے کریں۔
اگر سب کچھ معجزے سے ہونا ہوتا تو جیسا قرآن کہتا ہے:
📜 "وَلَوْ شَاءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدَىٰ"
📃 یعنی: اگر اللہ چاہتا تو سب لوگوں کو ہدایت پر جمع کر دیتا۔
لہٰذا رسولِ خدا ﷺ نے امور کو قدرتی اور تدریجی طریقے سے آگے بڑھایا۔
جب تک ان کے پاس طاقت اور نصرت موجود نہ تھی، دشمن کے مقابلے میں قیام نہیں کیا۔
اور جب طاقت و مددگار حاصل ہوئے، تب قیام فرمایا۔
اسی طرح امیرالمؤمنین علی بن ابیطالب علیہالسلام نے بھی نہج البلاغہ اور دیگر مقامات پر فرمایا ہے:
📜 "اگر میرے پاس قوت اور مددگار ہوتے تو میں ان لوگوں کے خلاف قیام کرتا جنہوں نے میرا حق غصب کیا۔"
🔴 معاویہ کا خط اور امیرالمؤمنینؑ کا جواب
معاویہ نے امام علی علیہالسلام کو خط لکھا اور کہا:
📜 "اے علی! تمہیں بیعت کے لیے ایسے کھینچ کر لے جایا گیا جیسے نکیل ڈالے ہوئے اونٹ کو کھینچا جاتا ہے۔"
▪️امیرالمؤمنین علیہالسلام نے جواب میں فرمایا:
📜 "تم نے لکھا کہ مجھے بیعت کے لیے اونٹ کی طرح کھینچ کر مسجد لے جایا گیا
خدا کی قسم! تم نے چاہا کہ مجھے ذلیل کرو، مگر دراصل میری تعریف کی۔
تم نے چاہا کہ مجھے رسوا کرو، مگر خود رسوا ہوئے۔
مظلوم ہونا کسی مسلمان کے لیے عیب نہیں،
بلکہ عیب ان پر ہے جو ظلم کرتے ہیں۔
جو لوگ مجھے زبردستی کھینچ کر لے گئے، وہ قابلِ مذمت ہیں
نہ کہ میں جو مظلوم تھا۔"
📚 نہج البلاغہ، خط نمبر 28
📚 شرح نہج البلاغہ، ابن ابیالحدید، ج 15، ص 183
🔴 اہل سنت کے تاریخی ماخذ سے تصریحات:
1⃣ نوَیری (متوفیٰ 737ھ): نہایة الأرب، ج7، ص236:
📜 بیان کرتا ہے کہ امیرالمؤمنینؑ کو بیعت کے لیے زبردستی اور کھینچ کر مسجد میں لایا گیا۔
2⃣ قلقشندی: (متوفیٰ 821ھ) صبح الأعشاء، ج1، ص276:
📜 اسی واقعہ کو واضح الفاظ میں ذکر کرتا ہے۔
3⃣ جوهری: السقیفة و فدک، ص73:
کہتا ہے:
📜 "انہوں نے علیؑ کی چادر ان کی گردن میں لپیٹ دی اور انہیں زبردستی کھینچ کر مسجد میں لے گئے تاکہ ابوبکر سے بیعت لی جائے۔"
4⃣ بلاذری: أنساب الأشراف، ج1، ص587 (بعض طبعات میں
ص253):
نقل کرتا ہے کہ ابوبکر نے عمر کو حکم دیا:
📜 "ائتنی به بأعنف العنف"
📃 یعنی: "علیؑ کو میرے پاس انتہائی سختی سے لے آؤ۔"
5⃣ اسی واقعہ کو ابن قتیبہ دینوری (الامامة و السياسة، ص31)
اور اعلام النساء، ج4، ص114 میں بھی بیان کیا گیا ہے۔
⭕ نتیجہ:
امیرالمؤمنین علیہالسلام کا صبر کرنا کمزوری نہیں بلکہ حکمت تھی۔
جیسے رسولِ خدا ﷺ نے طاقت حاصل ہونے تک صبر فرمایا،
ویسے ہی علیؑ نے بھی دین کی بقا کے لیے خاموشی کو شجاعت میں بدل دیا
تاکہ اسلام کی جڑیں باقی رہیں اور حق ایک دن اپنے وقت پر ظاہر ہو۔
بدر علی
تصویر کا ترجمہ
🔴 رسولِ خدا ﷺ کی امام علیؑ کو ایک وصیت:
📜 اے علی!
اگر دنیا کی قدر و قیمت اللہ تعالیٰ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی،
تو وہ کسی کا/فر کو اس میں سے پانی کا ایک گھونٹ بھی نہ پینے دیتا۔
📖 من لا يحضره الفقيه
#بدر_علی
#تعلیمات_اہلبیتؑ
#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد
Gallery
Tap any image to view full screen