قیام نہ کرنے پر عمریوں کے اعتراضات کے جوابات post-2
قیام نہ کرنے پر عمریوں کے اعتراضات کے جوابات post-2
قیام نہ کرنے پر عمریوں کے اعتراضات کے جوابات post-2
قیام نہ کرنے پر عمریوں کے اعتراضات کے جوابات post-2
قیام نہ کرنے پر عمریوں کے اعتراضات کے جوابات post-2
قیام نہ کرنے پر عمریوں کے اعتراضات کے جوابات post-2
قیام نہ کرنے پر عمریوں کے اعتراضات کے جوابات post-2
قیام نہ کرنے پر عمریوں کے اعتراضات کے جوابات post-2
قیام نہ کرنے پر عمریوں کے اعتراضات کے جوابات post-2
قیام نہ کرنے پر عمریوں کے اعتراضات کے جوابات post-2
قیام نہ کرنے پر عمریوں کے اعتراضات کے جوابات post-2
قیام نہ کرنے پر عمریوں کے اعتراضات کے جوابات post-2
قیام نہ کرنے پر عمریوں کے اعتراضات کے جوابات post-2
قیام نہ کرنے پر عمریوں کے اعتراضات کے جوابات post-2
قیام نہ کرنے پر عمریوں کے اعتراضات کے جوابات post-2
قیام نہ کرنے پر عمریوں کے اعتراضات کے جوابات post-2
قیام نہ کرنے پر عمریوں کے اعتراضات کے جوابات post-2
قیام نہ کرنے پر عمریوں کے اعتراضات کے جوابات post-2
قیام نہ کرنے پر عمریوں کے اعتراضات کے جوابات post-2
قیام نہ کرنے پر عمریوں کے اعتراضات کے جوابات post-2
قیام نہ کرنے پر عمریوں کے اعتراضات کے جوابات post-2
قیام نہ کرنے پر عمریوں کے اعتراضات کے جوابات post-2
قیام نہ کرنے پر عمریوں کے اعتراضات کے جوابات post-2
قیام نہ کرنے پر عمریوں کے اعتراضات کے جوابات post-2

مولا علیؑ نے تلوار کیوں نہیں اُٹھائی ؟

 

🖋 عبداللہ الإمامی

 

2⃣ پوسٹ نمبر

 

1⃣ پہلا مرحلہ

 

٢: حضرتِ علیؑ کو رسولﷺ وآلہ کی طرف سے صبر کا حکم تھا ۔

 

قارئین: پہلے باب میں ہم یہ بات ثابت کر چُکے ہیں کہ سُنی حضرات کو ہم سے سوال پوچھنے کا حق ہی نہیں ، لیکن یہ شیعوں کا طُرَّۂ اِمْتِیاز ہے کہ ہم ہر عنوان سے جواب دیتے ہیں تاکہ مخالف کو کوئی بہانہ ہاتھ نہ آئے، اب ہم دوسرے باب میں یہ ثابت کریں گے کہ جنابِ امیر المومنین سید المسلمین سلام اللہ علیہ نے جنابِ ختم مرتبتﷺوآلہ کے بعد جو سکوت اختیار کیا اِس کی وجہ حکم خدا و رسولﷺ وآلہ تھا اس سے پہلے ہم اُن احادیث کو نقل کریں کچھ باتیں آپ کی خدمت میں عرض کرتے ہیں

 

قارئین: اکثر لوگ اپنے خود ساختہ نظریے کے تحت سوال کرتے ہیں جبکہ وہ سوال بھی مذہبی نظریے کے تحت ہوتا ہے، افسوس کے وہ سوال کرتے وقت شریعتِ اسلام کو بھول جاتے ہیں بس یہ راگ آلاپنے لگتے ہیں 

 

"اگر ایسا ہوا تو حضرتِ علیؑ نے ان کو قتل کیوں نہیں کیا درِ خیبر کو اڑانے والے علیؑ کیا کمذور پڑ گئے تھے؟" 

 

جبکہ پہلا سوال ہی یہ ہونا چاہئے کہ اُس وقت حضرتِ علیؑ کی شرعی ذمہ داری کیا تھی؟

 

مثال کے طور پر آپ کے ساتھ کوئی مسئلہ پیش آئے تو آپ کیا کریں گے؟

 

کیا آپ اپنے آبائی رَسِمی نظریے کے تحت فیصلہ کریں گے؟ 

 

یا شریعتِ اسلام کو اہمیت دینگے؟

 

یقیناً سب کا جواب یہی ہوگا کہ ایک مسلمان کو زندگی کے تمام معاملات میں شریعتِ اسلام کے بتائے ہوئے راستے پر چلنا ہوگا!

 

تو کیا وجہ ہے آپ شیعوں سے سوال کرتے وقت یہ بات بھول جاتے ہیں؟ 

 

اور اپنی جذبات کو مبنی بنا کر سوال کرتے ہیں؟

 

ایک عام بندہ عمومی حالات میں بھی ان ساری چیزوں کو مدِ نظر رکھتا ہے لیکن کہاں ہم اور کہاں امیر المومنین علیہ السلام کی ذات جہاں شخصیت خاص و بلند ہوتو وہاں وصیت بھی خاص ہوتی ہے 

 

آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں حضرت امیر المومنین سید المسلمین علیہ السلام نے کیوں تلوار نہ اٹھائی، رسول اللہﷺوآلہ نے اپنی زندگی میں حضرت امیر المومنین سید المسلمین علیہ السلام سے عہد لیا تھا کہ میری امت بہت جلد آپ سے غداری کرے گی آپ کی سلامتی اِسی میں ہے کہ آپ خاموشی اختیار کرنا 

 

حاکم نیشاپوری نقل کرتے ہیں: 

 

📜 حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْجُمَحِيُّ، بِمَكَّةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْأَوْدِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: 

« إِنَّ مِمَّا عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ الْأُمَّةَ سَتَغْدِرُ بِي بَعْدَهُ »

 

حضرت علیؑ نے فرمایا: 

رسولﷺ وآلہ نے جو ہم سے وعدے لیے اُن میں سے ایک یہ بھی تھا کہ اُمت میرے بعد آپ سے غداری کرے گی(١) 

 

پہر فرمایا: 

📜 « فإن استطعتَ أن تكون السَّلْم فافعل ».

اگر آپ کے لیے سلامتی ممکن ہوتو اُسے اختیار کرنا (٢)

 

(١) اس حدیث کے متعلق حاکم نیشاپوری فرماتے ہیں : 

📜 "هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ"

 

✅ اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن بخاری و مسلم نے اِسے نقل نہیں کیا 

 

📚 حوالہ: [ المستدرک علی الصحیحین جلد ٤، ص ٢٧٨ ، کتاب معرفة الصحابة، اردو ]

 

اِسی طرح "المستدرك علی الصحیحین" کی تلخیص میں ذہبی نے بھی اِس حدیث کو صحیح کہا ہے 

 

📚 حوالہ: [المستدرك علی الصحیحین مع تصحیحات الذہبی جلد ٣ ، ص ١٥٠ ، کتاب معرفة الصحابة، طبع دار الکتب العلمیة ]

 

(٢) اِس حدیث کے بارے میں محقق احمد شاکر فرماتے ہیں: 

"إسنادہ صحیح "

اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ 

 

📚 حوالہ: [مسند احمد بن حنبل جلد ١، ص ٤٦٩ ، حدیث نمبر ٦٥٩ عربی طبع دار الحدیث القاھرة۔ اردو جلد ١ ، ص ٣٥٣ ناشر مکتبہ رحمانیہ لاہور ]

 

▪️امیرالمونین علیہ السلام کے ابوبکر و عمر و عثمان کے خلاف قتال نا کرنے کے کئی اسباب ہیں سب سے اول جو سبب ہے وہ یہ کہ 

 

📜 رسول اللہ ص کی حضرت علی ع کو وصیت تھی کہ میرے بعد یے امت آپ سے منہ پھیر لےگی مگر اس صورت میں آپ سکوت اختیار کیجئے گا 

 

حوالہ ملاحظہ ہو۔

 

📚 البخاري - التاريخ الكبير - باب الألف - 1412 - إياس بن عمرو، الأسلمي

- الجزء : ( 1 ) - رقم الصفحة : ( 440 )

 

📜 1412 - إياس بن عمرو الأسلمي ، عن علي بن أبي طالب ، قال : قال لي النبي (ص) : يكون اختلاف أو أمر فإن استطعت أن تكون السلم فافعل ، قاله لي محمد بن أبي بكر ، عن فضيل بن سليمان ، عن محمد بن أبي يحيى ، عن إياس.

 

الرابط :

http://shamela.ws/browse.php/book-12823#page-1431

 

 

▪️قارئین: جب یہ بات سُنی کتب سے ثابت ہوئی کہ رسولﷺ وآلہ نے اپنے بھائی علیؑ کو پہلے ہی بتادیا تھا کہ یہ اُمت آپ سے غداری کرے گی تو پہر سنی حضرات یہ طعن کس پر کرتے ہیں؟

 

❓رسولﷺ وآلہ پر کہ انھوں نے کیوں وصیت کی؟

 

یا علیؑ پر کہ انھوں نے کیوں رسولﷺ وآلہ کے حکم کو مانا اور حکمت سے کام لیا؟ 

 

ہمیں یہ بتایا جائے کہ اصل سوال کس سے ہے؟ درحقیقت یہ سوال شیعوں سے نہیں، یہ اعتراض شیعوں پر نہیں بلکہ رسولﷺ وآلہ پر کہ انھوں نے علیؑ کو صبر کی وصیت کیوں کی 

 

خلاصہ کلام: سابقہ تحاریر کی طرح اِس تحریر میں بھی ثابت ہوا کہ ایسا اعتراض کرنے والا رسولﷺ وآلہ کا مخالف ہے ، نیز امت کی غداری کی آگہی آپﷺوآلہ پہلے ہی اپنے بھائیؑ کو دے دی تھی اب جسے اعتراض کرنا ہے وہ اللہ پر اور اس کے رسولﷺ وآلہ پر کرے کہ انھوں نے کیوں علیؑ کو صبر کی تعلیم دی 

 

⭕ اہم نوٹ: 

 

ان اعتراضات کا ہدف صرف اپنے "بابوں"

کو بچانا ہے اور کچھ نہیں ان شاء اللہ آنے والی تحریر میں ہم بتائیں گے کہ اصل غدر تھا کون؟ غداری کی کس نے تھی طوالت کی وجہ سے ہم ایک عنوان کو دو حصوں میں اپلوڈ کررہے ہیں 

 

۔

 

2⃣ دوسرا مرحلہ 

 

*یہ بہت اہم حصہ ہے سب احباب مطالعہ فرمائیں* 

 

قارئین: گزشتہ تین تحاریر میں ہم نے ثابت دو چیزوں کا اثبات کیا: 

١: سنی حضرات کو شیعہ سوال کرنے کا حق نہیں کہ "مولا علیؑ نے تلوار کیوں نہیں اُٹھائی" 

 

٢: "علیؑ کو نبیؑ نے صبر کی وصیت تھی کہ یہ اُمت آپ سے غداری کرے گی آپ کی سلامتی اسی میں ہے کہ آپ سکوت اختیار کرنا"

 

قارئین: مخالفین کے سارے اعتراضات ہوتے ہی اِسی لیے ہیں تاکہ اپنی من پسند شخصیات بلخصوص (١،٢) کو کسی نہ کسی طریقے سے بچایا جائے، آج کی اِس تحریر میں ہم اس کا جواب عرض کریں گے جن کے دفاع میں ہمارے مخالفین صبح شام لگے رہتے ہیں اصل گنہگار ہی وہی ہے، سابقہ تحریر میں ہم نے ایک حدیث پیش کی تھی اُسی حدیثِ شریف سے بحث کو آگے بڑھاتے ہیں چناچنہ امیر المومنین علیؑ سے مروی ہے جس میں آپؑ فرماتے ہیں: 

 

📜 "رسولﷺ وآلہ نے جو ہم سے وعدے لیے اُن میں سے ایک یہ بھی تھا کہ اُمت میرے بعد آپ سے غداری کرے گی"

 

اِس تحریر کا موضوع بھی یہی ہے کہ: 

         

❓*"غدار ہے کون؟ غداری کی کس نے ہے؟"*

 

سب سے پہلے ہم لفظ "غدار" کے معنی بیان کرتے ہیں چنانچہ مولانا وحید الزمان قاسمی اپنی لغت کی کتاب میں فرماتے ہیں: 

 

📜 *"فُلاناً وبہ غَدراً و غَدرَاناً"     

            

📃 کسی کے ساتھ بے وفائی کرنا عہد شکنی غداری کرنا دھوکا دینا ہو*

 

📚 حوالہ: [القاموس الوحید ص ١١٥٥،١١٥٦ طبع ادارہ اسلامیت ]

 

قارئین: واضح ہوا کہ غدار وہ ہوتا ہے جو وعدہ کرے پہر اُس سے پِہر جائے، اب ہمیں ڈھونڈھا پڑے گا کہ وہ کون سے لوگ ہیں جنھوں نے غداری کی؟ ہمارے مخالفین کہتے ہیں : 

"غداری کرنے والے حضرت ابوبکر و عمر نہ تھے بلکہ معاویہ وغیرہ تھے کیونکہ انھوں نے ہی بغاوت کی تھی"

 

▪️اولا: اگر "بلفرض" تسلیم کیا جائے کہ اس حدیث کے مصداق وہی اشخاص ہیں جنھوں نے امیر المومنینؑ سے جنگ کی جیسے معاویہ وغیرہ تو پہر بھی سُنی حضرات کے نظریات باطل ثابت ہونگے جیسے عدالتِ صحابہ وغیرہ

 

▪️ثانیاً: لیکن اس حدیث کے اَصل مداق وہی ہیں جنھوں نے عہد کرکے غداری کی ہے جیسا کہ غدیر کے دن حضرتِ عُمر بن خطاب کا امیر المومنین علیہ السلام کو مبارک باد دینا چنانچہ احمد بن حنبل حضرتِ عمر بن خطاب کا قول نقل کرتے ہیں: 

 

📜 قال فَلَقِيَهُ عُمَرُ بَعْدَ ذلك فقال له هنياء يا بن أبي طَالِبٍ أَصْبَحْتَ وَأَمْسَيْتَ مولي كل مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ.

 

📃 *"حضرتِ عمر نے کہا: مبارک ہو اے فرزند ابو طالبؑ، اب آپ ہر مؤمن مرد اور مؤمنہ عورت کے مولا و رہبر بن گئے ہیں۔"*

 

📚 حوالہ : [ مسند احمد بن حنبل جلد ۱۴، ص ١٨٥ ،طبع دار الحدیث القاھرة ، محقق حمزہ احمد زین اس کو حسن کہا ہے] 

 

قارئین: یہاں واضح طور پر عمر بن خطاب نے امیر المومنینؑ کو مولاؑ بننے کی مبارکباد دی کہ جب رسولﷺ وآلہ غدیر کے دن سب سے عہد لے رہے تھے، تو اب دیکھئے خود حضرتِ عمر بن خطاب اس سے عہد سے پہر گئے اور غداری کی اور اس کے ساتھ حضرتِ ابوبکر نے بھی غداری کی ہے امیر المومنینؑ سے، یہی وجہ ہے کہ امیر المومنینؑ ان دونوں (ابوبکر و عمر) کو غدار سمجھتے تھے 

 

علیؑ کے سامنے جب ابوبکر نے ایک حدیث (لانورث) پیش کی تو علیؑ ان کو جھوٹا خائن گنہگار عہد شکن سمجھتے تھے جیسا کہ حضرتِ عمر کہتے ہیں: 

 

📜 فَرَأَيْتُمَاهُ كَاذِبًا آثِمًا *"غَادِرًا"* خَائِنًا

 

📃 *(ائے علیؑ) تم نے ابوبکر کو جھوٹا گنہگار "غدار" اور خائن سمجھا* 

 

📚 حوالہ: [صحیح مسلم انٹرنیسشل نمبرنگ کے مطابق حدیث 4577]

 

حضرتِ عمر کو بھی غدار سمجھتے تھے 

 

حضرتِ عمر کہتے ہیں جب میں نے یہی حدیث پڑھی تو آپ نے مجھ بھی: 

 

📜 *فَرَأَيْتُمَانِي كَاذِبًا آثِمًا "غَادِرًا" خَائِنًا           

 

📃 جھوٹا گنہگار "غدار" خائن سمجھا*

 

📚 حوالہ:[صحیح مسلم انٹرنیسشل نمبرنگ کے مطابق حدیث 4577]

 

بزبانِ حضرتِ عمر ثابت ہوا کہ علیؑ کی نظروں میں غدار یہی دونوں حضرات تھے 

 

▪️اب دیکھیں غداری کرنے والے کا انجام کیا ہے

 

البانی اپنی کتاب "سلسلہ الصحیحہ" میں نقل کرتے ہیں: 

 

📜 عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: لِكُلِّ *غَادِرٍ* لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُعْرَفُ بِهِ عِنْدَ اسْتِهِ .

 

📃 *"نبیﷺوآلی نے فرمایا: ہر دھوكہ باز شخص كے لئے قیامت كے دن اس کی دبر (پچھواڑے) پر ایک جھنڈا ہوگا جس كے ذریعے وہ پہچانا جائے گا"*

 

📚 حوالہ : [السلسة الصحیحہ جلد ٢ ص ٢٩٤ حدیث نمبر ١٧٧٤ طبع مکتبہ القدوسیہ ]

 

خلاصہ کلام: قارئین محترم! آپ دیکھ سکتے ہیں کہ مخالفین کا ہدف اور شیوہ اپنے خلفاء اور صحابہ کو ایڑی چوٹی کے زور سے بچانا ہے، حالانکہ خود ان کی اپنی کتب اس کے برخلاف گواہی دیتی ہیں۔ ہم نے اس مختصر بیان میں یہ ثابت کیا ہے کہ امام علی علیہ السلام کے ساتھ امت کی غداری، نبی اکرمﷺوآلہ کی پیشین گوئی تھی، ا، امام علی علیہ السلام کی نگاہ میں دو افراد (١۔٢) غدار تھے، اور بلا شبہ حق امم علی علیہ السلام کے ساتھ رہے گا جیسا کہ حدیث رسولﷺوآلہ ہے، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ غدار کا انجام آخرت میں کیا ہوگا۔ باقی فیصلہ منصف قارئین پر چھوڑتے ہیں۔

 

خاکسار: عبداللہ الإمامي

 

Invisibleislam.com

 

#invisible_islam 

#SharePost #PlzShare #ShareThisPostPlease #ShareThisPost #ShareThisVideo #SHAREIT #ShareThis #talimaat_e_ahlbait #التماس_دعا

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8
Gallery Image 9
Gallery Image 10
Gallery Image 11
Gallery Image 12
Gallery Image 13
Gallery Image 14
Gallery Image 15
Gallery Image 16
Gallery Image 17
Gallery Image 18
Gallery Image 19
Gallery Image 20
Gallery Image 21
Gallery Image 22
Gallery Image 23
Gallery Image 24