قیام نہ کرنے پر عمریوں کے اعتراضات کے جوابات post-1
قیام نہ کرنے پر عمریوں کے اعتراضات کے جوابات post-1
قیام نہ کرنے پر عمریوں کے اعتراضات کے جوابات post-1
قیام نہ کرنے پر عمریوں کے اعتراضات کے جوابات post-1
قیام نہ کرنے پر عمریوں کے اعتراضات کے جوابات post-1
قیام نہ کرنے پر عمریوں کے اعتراضات کے جوابات post-1
قیام نہ کرنے پر عمریوں کے اعتراضات کے جوابات post-1
قیام نہ کرنے پر عمریوں کے اعتراضات کے جوابات post-1
قیام نہ کرنے پر عمریوں کے اعتراضات کے جوابات post-1
قیام نہ کرنے پر عمریوں کے اعتراضات کے جوابات post-1
قیام نہ کرنے پر عمریوں کے اعتراضات کے جوابات post-1
قیام نہ کرنے پر عمریوں کے اعتراضات کے جوابات post-1
قیام نہ کرنے پر عمریوں کے اعتراضات کے جوابات post-1
قیام نہ کرنے پر عمریوں کے اعتراضات کے جوابات post-1
قیام نہ کرنے پر عمریوں کے اعتراضات کے جوابات post-1
قیام نہ کرنے پر عمریوں کے اعتراضات کے جوابات post-1
قیام نہ کرنے پر عمریوں کے اعتراضات کے جوابات post-1
قیام نہ کرنے پر عمریوں کے اعتراضات کے جوابات post-1
قیام نہ کرنے پر عمریوں کے اعتراضات کے جوابات post-1
قیام نہ کرنے پر عمریوں کے اعتراضات کے جوابات post-1
قیام نہ کرنے پر عمریوں کے اعتراضات کے جوابات post-1
قیام نہ کرنے پر عمریوں کے اعتراضات کے جوابات post-1

❓ مولا علی علیہ السلام نے تلوار کیوں نہیں اٹھائی؟

 

🖋 بقلم: عبداللہ الإمامي

 

1⃣پوست نمبر 

 

پہلا مرحلہ 1⃣

 

قارئین: شیعہ مخالفین عموماً ایک اعتراض کرتے نظر آتے ہیں: "اگر خلفاء ثلاثہ (ابوبکر و عمر عثمان) اتنے ہی ظالم تھے تو حضرتِ علی رضی اللہ عنہ نے اُن کے خلاف تلوار کیوں نہیں اٹھائی؟ کیا حضرتِ علی کی تلوار کھو گئی تھی؟ شیرِ خدا کہاں تھے؟ درِ خیبر اُڑانے والے کہاں تھے؟ وغیرہ وغیرہ" 

 

✅ جواب : 

 

قارئین اس کا جواب ہم چھ عنوانات کے تحت دینگے 

 

١: شیعہ مخالفین کو یہ حق ہی نہیں وہ شیعوں پر اعتراض کریں کہ "حضرت علیؑ نے تلوار کیوں نہیں اٹھائی"

 

٢: حضرتِ علیؑ کو رسولﷺ وآلہ کی طرف سے "صبر کا حکم تھا"

 

٣: اِس اعتراض کا جواب "خود آئمہ اہلِ بیت علیہم السلام نے دیا ہے" 

 

٤: قُرآن میں انبیاء علیہم السلام کے "صبر کی مثالیں"

 

٥: عثمان بن عفان کے بارے میں سنی حضرات سے سوال

 

٦: چند جذباتی اعتراضات کے مختصر جواباب

 

اہم نوٹ : ہوتا یہ کہ بعض احباب تحریر کو پڑھے بغیر لائک\شیئر کردیتے ہیں پڑھتے کم ہیں سب احباب سے گزارش ہے آپ فقط اس تحریر کا دقت سے مطالعہ فرمائیں لائک کمنٹس کی ۔۔۔۔۔۔  

 

1⃣ : شیعہ مخالفین کو یہ حق ہی نہیں وہ شیعہ پر اعتراض کریں کہ حضرت علیؑ نے تلوار کیوں نہیں اٹھائی؟

 

✅ جواب: 

 

قارئین یہ اعتراض خلفاء ثلاثہ کے ماننے والوں کی جماعت کے خاص و عام کی زبان پر ہوتا ہے جب ہماری اُن سے مظلومیتِ بنتِ مصطفیٰ ﷺوآلہ کے متعلق بات ہوتی ہے تو فوراً کہا جاتا ہے "اگر ایسا ہے تو پہر علیؑ نے تلوار کیوں نہیں اُٹھائی؟" 

 

قارئین: ان شاء اللہ اس کا جواب ہم تفصیل سے عرض کریں گے لیکن یہاں پر اہم بات یہ ہے کہ 

 

👈 "کسی بھی سُنی کو حاصل نہیں کہ وہ شیعوں سے سوال کرے کہ علیؑ نے تلوار کیوں نہیں اُٹھائی"

 

😱 کیونکہ سُنی مذہب میں ظالم کے خلاف تلوار اٹھانا منع ہے بلکہ اُس کی اطاعت کرنا واجب ہے اور بعض صحابہ کے نزدیک اُس کی اطاعت سے ہاتھ اٹھانا گویا دین سے خارج ہونا ہے اور یہ بات سنیوں کی کُتبِ احادیث میں موجود ہے اور اس بات پر تمام سنی علماء کا اجماع ہے کہ ظالم کے خلاف خروج کرنا (یعنی تلوار اٹھانا) حرام ہے ، 

 

👈 حتی یہاں تک لکھا کہا گیا ہے کہ اُسے برا بھلا بھی نہیں کہنا چاہئے، یوں تو اِس موضوع پر بہت روایات ہیں لیکن ہم فقط تین روایات پر اکتفاء کریں گے اُس کے بعد سنی علماء کے اعتراف کو بھی نقل کریں گے 

 

روایات ملاحظہ فرمائیں

 

▪️سنیوں کی سب سے معتبر اور بلاجماع صحیح ترین کتاب صحیح مسلم میں حدیث ہے: 

 

1⃣ روایت 

 

حذیفہ بن یمانؓ کہتے ہیں: 

میں نے عرض کیا یارسول اللہﷺ وآلہ ہم برائی میں تھے پھر ﷲ تعالیٰ نے بھلائی دی اب اس کے بعد بھی کچھ برائی ہے؟ آپﷺوآلہ نے فرمایا: ہاں۔ میں نے کہا پھر اس کے بعد بھلائی ہے آپ نے فرمایا ہاں میں نے کہا پھر اس کے بعد برائی؟ آپ نے فرمایا ہاں۔ میں نے کہا کیسے؟ 

آپﷺوآلہ نے فرمایا: 

"میرے بعد وہ لوگ حاکم ہوں گے جو میری راہ پر نہ چلیں گے، میری سنت پر عمل نہیں کریں گے اور ان میں ایسے لوگ ہوں گے جن کے دل شیطان کے سے اور بدن آدمیوں کے سے ہوں گے۔ میں نے عرض کیا یارسول ﷲﷺوآلہ اس وقت میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا اگر تو ایسے زمانہ میں ہو تو سن اور مان حاکم کی بات کو اگرچہ وہ تیرے پیٹھ پھوڑے اور تیرا مال لے لے پر اس کی بات سنے جا اور اس کا حکم مانتا رہ۔"

 

📚 حوالہ: [صحیح مسلم حدیث ٤٧٨٥]

 

تبصرہ: قارئین: اس روایت میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ رسولﷺ وآلہ نے حضرتِ حذیفہؓ کو حکم دیا کہ آپ ظالموں کی اطاعت کرتے رہیں چاہے وہ آپ پر کوڑے بھی برسائیں، 

 

بعض سنی حضرات کہتے ہیں کہ یہاں سے مُراد رسولﷺ وآلہ کے بعد آنے والے حکمران (یعنی ابوبکر و عمر عثمان) نہیں بلکہ اُس کے بعد آنے والے حکمران (حجاج بن یوسف وغیرہ) ہیں 

 

اولاً: ہم کہتے ہیں: یہ بات بلادلیل ہے اگر اِس کوئی دلیل ہے تو پیش کریں 

 

ثانیاً: اِس روایت میں رسولﷺ وآلہ سے سوال کرنے والے صحابی حضرتِ حذیفہؓ فرمارہے ہیں کہ اگر میں وہ دور پاؤں تو کیا کروں؟ تو رسولﷺ وآلہ نے فرمایا اطاعت کرو اگر یہ حجاج بن یوسف وغیرہ کے متعلق ہوتا تو آپﷺوآلہ ضرور فرماتے ائے حذیفہؓ یہ وقت آپ پر نہیں آئے گا بلکہ یہ تو بعد کی بات ہے لیکن حضرتِ حذیفہؓ کا پوچھنا اور رسولﷺ وآلہ کا انہیں ہدایت کرنا بتاتا ہے کہ رسولﷺ وآلہ کے فوراً بعد ہی ایسے حاکم آئیں گے 

 

ثالثاً: سب سے اہم بات یہ ہے کہ حضرتِ حذیفہؓ کی وفات بھی اِن تینوں خلفاء (ابوبکر و عمر عثمان) کے بعد ہوئی ہے اور جنابِ امیر المومنین علیہ السلام کی ظاہری خلافت تک یہ صحابی موجود نہ تھے

چنانچہ ان کی وفات عثمان بن عفان کی موت کے بعد محرم الحرام 36ہجری کو مدائن میں ہوئی

 

حوالہ: [بغیۃ الطلب في تاریخ حلبّ ،جلد ٥، ص ٢١٧٦ طبع دار الفکر ، تاریخ خلیفہ بن خیاط وغیرہ] 

 

https://archive.org/details/boghyat-talab-tarikh-halab-ibn-3adim/بغية الطلب في تاريخ حلب - كمال الدين ابن%C2%A0العديم - ج 5/page/n145/mode/1up

 

اِس سے بھی یہی ثابت ہوتا کہ وہ دور یہی دور تھا ناکہ حجاج بن یوسف وغیرہ کا 

 

▪️اِسی طرح صحیح مسلم میں ہے: 

 

اسی طرح کی ایک روایت سنن ابی داؤد میں

 

📜 رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوذر غفاری کو بتایا میرے بعد مال غنیمت کھانے والے افراد حکمران آئینگے تو حضرت ابوذر نے کہا کیا میں ان سے جنگ کروں تو رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا نہیں تو صبر کرنا۔ کیونکہ تیرا صبر کرنا بہتر عمل ہوگا۔

 

📚 کتاب اہلسنت سنن ابی داؤد جلد نمبر 3 حدیث نمبر4132 صفحہ نمبر450

 

2⃣ روایت 

 

📜 ابن عباس سے روایت ہے رسولﷺوآلہ نے فرمایا:

جو شخص اپنے حاکم سے بری بات دیکھے وہ صبر کرے کیونکہ جو کوئی بادشاہ سے بالشت بھر جدا ہو پھر مرے اسی حال میں، اس کی موت جاہلیت کی سی موت ہوگی۔ 

 

📚 حوالہ: [صحیح مسلم حدیث ٤٧٩١]

 

تبصرہ: پہلی روایت میں فقط ظالم حکمران کی اطاعت کا حکم تھا لیکن اِس روایت میں تو "ایک بالشت پیچھے ہٹنے والے کو جاہلیت (ک۔ف۔ر)کی موت مرنے والا کہا جارہا ہے "

 

روایت 3⃣

 

یہ آخری روایت ہے اور یہ بھی صحیح مسلم سے ہے: 

 

📜 نافع سے روایت ہے عبدﷲ بن عمر عبدﷲ بن مطیع کے پاس آیا جب حرہ کا واقعہ ہوا یزید بن معاویہ کے زمانہ میں اس نے مدینہ منورہ پر لشکر بھیجا اور مدینہ والے حرہ میں جو ایک مقام ہے مدینہ سے ملا ہوا قتل ہوئے اس طرح کے ظلم مدینہ والوں پر ہوئے۔ عبداﷲ بن مطیع نے کہا ابو عبدالرحمن ( یہ کنیت ہے عبدﷲ بن عمر کی ) کے لیے تو شک بچھاؤ۔ انہوں نے کہا میں اس لیے نہیں آیا کہ بیٹھوں بلکہ ایک حدیث تجھ کو سنانے کے لیے آیا ہوں جو میں نے رسولﷺوآلہ سے سنی ہے، آپ فرماتے تھے جو شخص اپنا ہاتھ نکال لے اطاعت سے وہ قیامت کے دن خدا سے ملے گا اور کوئی دلیل اس کے پاس نہ ہوگی اور جو شخص مرجاوے اور کسی سے اس نے بیعت نہ کی ہو تو اس کی موت جاہلیت کی سی ہوگی۔ 

 

📚 حوالہ:[ صحیح مسلم حدیث ٤٧٩٣]

 

تبصرہ: سابقہ دو روایات میں اس بات کا ذکر تھا کہ ظلم کرنے والے کی اطاعت اور صبر کیا جائے، لیکن اِس روایت میں تو ابنِ عمر نے اس امر کی تبلیغ کی ہے کہ جب یزید بن معاویہ نے اہلِ مدینہ پر ظلم کیا تو سب لوگ یزید سے برات کرنے لگے اور اُن برات کرنے والوں میں عبداللہ بن مطیع بھی تھے جب ابنِ عمر کو پتا چلا تو اُس نے کہا: ائے عبداللہ! اگر تونے یزید کی اطاعت سے ہاتھ اٹھایا تو تُو جہالت (یعنی کفر) کی موت مرے گا! 

 

🤔 حیرت ہے ہمیں اُن سنی حضرات پر شیعوں کو اِس بات کا طعنہ دیتے ہیں کہ آپ کے آئمہؑ نے ظالموں کے خلاف تلوار کیوں نہیں اٹھائی جبکہ سنی مذہب میں ظالم کی اطاعت واجب، اُس کے ظلم پر صبر کرنا حکمِ خدا، اور اُس کی اطاعت سے ہاتھ اٹھانے کُ۔ف۔ر ہے، تو اگر جنابِ امیر علیہ السلام تلوار اٹھاتے تو آپ کے نزدیک کیا ہوتے؟ یقیناً حکم رسولﷺ وآلہ کی مخالفت کرنے والے! (نعوذباللہ ) 

 

⭕ خلاصہ کلام: سنیوں کو یہ سوال کرنے کا حق نہیں جو بھی سنی یہ سوال کرتا ہے گویا وہ کُ۔ف۔ر کی دعوت دیتا ہے کیونکہ ابنِ عمر کے نزدیک ایسا امر کو انجام دینا کُ۔فر۔ ہے تو اس کی دعوت دینا تو کُ۔ف۔رِ عظیم ٹھرے گا 

 

۔

 

2⃣ دوسرا مرحلہ

 

قارئین: پہلے مرحلے میں ہم صحیح احادیث سے ثابت کرچُکے ہیں کہ سُنی حضرات کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ہم سے سوال کریں کہ " جب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا پر ظلم ہورہا تھا تو علیؑ نے تلوار کیوں نہیں اٹھائی" اب اس امر پر ہم سُنی علماء کے اقوال نقل کریں گے جو تمام سنی حضرات جس میں حنفی، شافعی ، غیر مقلدین کے لیے قابلِ اعتماد ہونگے 

 

▪️سنیوں کے امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں: 

 

📜 "والسمع وَالطَّاعَة للأئمة وأمير الْمُؤمنِينَ الْبر والفاجر وَمن ولي الْخلَافَة وَاجْتمعَ النَّاس عَلَيْهِ وَرَضوا بِهِ وَمن عَلَيْهِم بِالسَّيْفِ حَتَّى صَار خَليفَة وَسمي أَمِير الْمُؤمنِينَ"

 

📃 لوگوں کا امیر جو خلافت پر والی و متمکن ہوجائے اور لوگ اس پر مجتمع ہوکر راضی ہوجائیں یا پہر جو تلوار کے زور پر غالب ہوجائے یہاں تک کہ (اپنے آپ) خلیفہ بن بیٹھے اور مسلمانوں کا امیر کہلایا جانے لگے تو اس کا حکم سننا اور اطاعت کرنا ہے خواہ نیک ہو یا بد 

 

📚 حوالہ [ أُصُولُ السُّنَّةِ ص ١٠]

 

▪️احناف کے عقائد پر مشتمل سب سے اہم کتاب "العقیدة الطحاویة" جس کے مقدمہ میں ابو جعفر طحاوی کہتے ہیں :

 

📜 " ذكر بيان عقيدة أهل السنة والجماعة، على مذهب فقهاء الملة: أبي حنيفة النعمان بن ثابت الكوفي، وأبي يوسف يعقوب بن إبراهيم الأنصاري، وأبي عبدالله محمد بن الحسن الشيباني رضوان الله عليهم أجمعين؛ وما يعتقدون من أصول الدين، ويدينون به رب العالمين."

 

📃 یہ اھلِ السنتہ والجماعتہ کے عقائد کا بیان ہے جِسے ابو جعفر طحاوی نے فقہاء ملت ابو حنیفہ نعمان بن ثابت الکوفی، ابو یوسف یعقوب بن ابراہیم الانصاری اور ابو عبداللہ محمد بن حسن الشیبانی کے طریق پر ذکر کیا ہے، یہی وہ باتیں ہیں جن کا فقہاء ملت دین کے اصول کے طور پر اعتقاد رکھتے ہیں اور رب العالمین کے بارے میں یہی اُن کا دین (وایمان) تھا 

 

📚 حوالہ: [العقیدة الطحاویة ، مقدمہ، ص ٧ دار ابنِ حزم ]

 

▪️اِسی کتاب کے ص ٢٤ پر ظالموں کے خلاف خروج کے متعلق فرماتے ہیں: 

 

📜 "ولا نری الخروج علی أئمتنا وولاة أمورنا وان جاروا ولا ندعوا علیھم ولا ننزع یدا من طاعة ونری طاعتھم فی طاعة اللہ عز وجل فریضة ما لم یأمروا بمعصیة وندعوا لھم بالصلاح والمعافاة.''

 

📃 '' اور ہم اپنے مسلمان حکمرانوں اور امراء کے خلاف خروج کو جائز نہیں سمجھتے اگرچہ وہ ظلم ہی کیوں نہ کریں۔ اور ہم ایسے حکمرانوں کے خلاف بدعا بھی نہیں کرتے اور نہ ہی ان کی اطاعت سے ہاتھ کھینچتے ہیں اور ان کی اطاعت کو اللہ کی اطاعت میں شمار کرتے ہیں کہ جس کو اللہ نے فرض قرار دیا ہے جب تک کہ یہ حکمران کسی گناہ کا حکم نہ دیں اور ہم ان کی اصلاح اور معافی کی دعا کرتے ہیں۔''

 

📚 حوالہ:[ ایضاً ص ٢٤]

 

▪️اِس طرح اشاعرہ کے امام أبو الحسن الاشعری فرماتے ہیں: 

 

📜 ''وأجمعوا علی السمع و الطاعة لأئمة المسلمین وعلی أن کل من ولی شیئا من أمورھم عن رضی أو غلبة وامتدت طاعتہ من بر أو فاجر لا یلزم الخروج علیہ بالسیف جار أو عدل۔"

 

📃 ''علماء کا اس اس بات پر اتفاق ہے کہ مسلمان حکمرانوں کی سمع و طاعت فرض ہے۔ اور جو شخص بھی مسلمانوں کی رضامندی یا زور زبردستی ان کا حکمران بن گیا اور اس کی اطاعت نیک و بد تک پھیل گئی تو ایسے حکمران کے خلاف تلوار سے خروج جائز نہیں ہے' چاہے وہ ظلم کرے یا عدل۔''

 

📚 حوالہ: [رسالة أھل الثغر : ص ٢٩٦۔٢٩٧]

 

قارئین: سنیوں کے یہاں یہ مسئلہ اجماعی ہے جیسا کہ ہم نے پہلے بھی ذکر کر چُکے ہیں اب وہ اقوال ملاحظہ فرمائیں جنھوں نے اس امر کو اجماعی کہا ہے 

 

▪️نووی نے اس مسئلہ پر اجماع نقل کیا ہے کہ فاسق و فاجر حکمران کے خلاف خروج حرام ہے۔ وہ فرماتے ہیں:

 

📜 ''وأما الخروج علیھم وقتالھم فحرام باجماع المسلمین وان کانوا فسقة ظالمین وقد تظاھرت الأحادیث علی ما ذکرتہ وأجمع أھل السنة أنہ لاینعزل السلطان بالفسق.''

 

📃 '' اور جہاں مسلمان حکمرانوں کے خلاف خروج اور ان سے قتال کا معاملہ ہے تو وہ بالاجماع حرام ہے اگرچہ وہ حکمران فاسق وفاجر اور ظالم ہی کیوں نہ ہو۔ اس مسئلے میں وارد شدہ روایات بہت زیادہ ہیں جیسا کہ میں نے ذکر کیا ہے۔اہل سنت کا اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ حکمران فسق و فجور کی وجہ سے امامت سے معزول نہیں ہوتا۔''

 

📚 حوالہ:[ شرح مسلم النووی : جلد۱۲، ص ۲۲۹' دار احیاء التراث العربی' بیروت' الطبعة الثانیة' ١٣٩٢' کتاب الامارة' باب وجوب طاعة الأمراء فی غیر معصیة ]

 

صحیح بخاری کے قدیم شارح ابن بطال نے بھی اس اجماع کو بیان کیاہے۔ وہ فرماتے ہیں:

 

📜 '' فی الحدیث حجة فی ترک الخروج علی السلطان ولوجار وقد أجمع الفقھاء علی وجوب طاعة السلطان المتغلب والجھاد معہ وأن طاعتہ خیر من الخروج علیہ لما فی ذلک من حقن الدماء وتسکین الدھماء.''

 

📃 ''اس روایت میں اس بات کی دلیل ہے کہ حکمرانوں کے خلاف خروج حرام ہے اگرچہ وہ ظالم ہی کیوں نہ ہوں۔ فقہاء کا اس بات پر اجماع ہے کہ تلوار کے زور پر غالب آنے والے حکمران کی اطاعت اس کے ساتھ مل کر جہاد کرنا واجب ہے۔ اور اس کی اطاعت اس کے خلاف خروج سے بہت بہتر ہے کیونکہ اس اطاعت کے ذریعے بہت سا خون گرنے سے بچایا اور باہمی اختلاف کرنے والی جماعتوں کو سکون میں لایا جا سکتا ہے۔''

 

📚 حوالہ: [فتح الباری : جلد۱۳، ص۷' دار المعرفة بیروت' ١٣٧٩ھ' کتاب الفتن ' باب: قول النبیۖ سترون بعدی أمورا تنکرونھا]

 

⭕ خلاصہ کلام: 

 

ان دلائل کی روشنی میں سنی نظریات کے تحت ثابت ہوا 

 

١: سنی حضرات کو شیعوں سے سوال کرنے کا حق ہی نہیں 

 

٢: سنی مذہب میں ظالم کی اطاعت واجب ہے 

 

٣: اُس کے ظلم پر صبر کرنا حُکمِ خدا ہے

 

٤: ابنِ عمر کے نظریہ کے مطابق جو حاکم وقت کہ اطاعت نہیں کرتا وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے چاہے وہ یزید جیسا ظالم ہی کیوں نہ ہو

 

٥: اب جو بھی سُنی شیعوں سے سوال کرے گا گویا وہ ایک حرام کام کرے گا اور کُ۔ف۔ر کی دعوت دے یعنی خود فاسق و ک۔ا۔ف۔ر بنے گا

 

بقلم: عبداللہ الإمامي

 

Invisibleislam.com

 

#invisible_islam 

#talimaat_e_ahlbait 

#SharePost #PlzShare #ShareThisPostPlease #ShareThisPost #ShareThisVideo #SHAREIT #ShareThis #share #التماس_دعا

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8
Gallery Image 9
Gallery Image 10
Gallery Image 11
Gallery Image 12
Gallery Image 13
Gallery Image 14
Gallery Image 15
Gallery Image 16
Gallery Image 17
Gallery Image 18
Gallery Image 19
Gallery Image 20
Gallery Image 21
Gallery Image 22