امیر المؤمنین ع کو پیغمبر اسلام ص کی وصیت (شیعہ کتب)
امیر المؤمنین ع کو پیغمبر اسلام ص کی وصیت (شیعہ کتب)
امیر المؤمنین ع کو پیغمبر اسلام ص کی وصیت (شیعہ کتب)
امیر المؤمنین ع کو پیغمبر اسلام ص کی وصیت (شیعہ کتب)
امیر المؤمنین ع کو پیغمبر اسلام ص کی وصیت (شیعہ کتب)

🔴 *امیر المؤمنین ع کو پیغمبر اسلام ص کی وصیت*

 

*پیغمبر اسلام ص کے بعد فتنے کے دوران امیر المؤمنین ع کو کیا کرنا چاہیے تھا؟*

 

📜 قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص فِي وَصِيَّتِهِ لِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ ع يَا عَلِيُّ إِنَّ قُرَيْشاً سَتَظَاهَرُ عَلَيْكَ وَ تَجْتَمِعُ كَلِمَتُهُمْ عَلَى ظُلْمِكَ وَ قَهْرِكَ فَإِنْ وَجَدْتَ أَعْوَاناً فَجَاهِدْهُمْ وَ إِنْ لَمْ تَجِدْ أَعْوَاناً فَكُفَّ يَدَكَ وَ احْقِنْ دَمَكَ فَإِنَّ الشَّهَادَةَ مِنْ وَرَائِكَ لَعَنَ اللَّهُ قَاتِلَكَ‌.

 

📃 اے علی! قریش تمہارے خلاف متحد ہو جائیں گے اور سب ایک ہو کر تم پر ظلم اور جبر کریں گے۔ پس اگر تمہیں مددگار مل جائیں تو ان سے جہاد کرنا، اور اگر مددگار نہ پاؤ تو اپنے ہاتھ کو روکے رکھنا اور اپنا خون محفوظ رکھنا، کیونکہ تمہاری شہادت تمہارے سامنے ہے۔ خدا لعنت کرے تمہارے قاتل پر۔

 

📚 شیخ طوسی رہ، الغیبة، ن: دار المعارف الاسلامية قم، ص: 193

 

 

۔

 

🔴 رسول اکرم ﷺ کی جانب سے امیرالمؤمنین امام علیؑ کو صبر کی تلقین کرنے سے متعلق روایات

 

🔻 امیرالمؤمنین امام علیؑ نے فرمایا:

 

رسول اللہ محمد ﷺ کے صحابہ میں سے جو لوگ دین کی حفاظت کے لیے قابلِ اعتماد تھے، وہ یقیناً جانتے ہیں کہ ان میں کوئی ایسا شخص نہیں جس کی کوئی فضیلت ہو اور اس میں، میں اس کے ساتھ شریک نہ ہوں اور اس فضیلت میں اس سے بڑھ کر نہ ہوں۔ میری ایسی ستر فضیلتیں ہیں جن میں ان میں سے کوئی بھی میرے ساتھ شریک نہیں ہے۔

 

... اور اٹھائیسویں فضیلت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

 

’’بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمہارے بارے میں مجھ سے ایک ایسا وعدہ کیا ہے جس کی وہ ہرگز خلاف ورزی نہیں کرے گا۔ اس نے مجھے نبی بنایا اور تمہیں میرا وصی قرار دیا۔ میرے بعد تمہیں میری امت کی جانب سے وہی کچھ پیش آئے گا جو حضرت موسیٰؑ کو فرعون کی طرف سے پیش آیا تھا۔ پس صبر کرنا اور اللہ سے اجر کی امید رکھنا، یہاں تک کہ تم مجھ سے آ ملو۔ پھر میں اس شخص سے محبت کروں گا جو تم سے محبت کرتا ہوگا، اور اس شخص سے دشمنی رکھوں گا جو تم سے دشمنی رکھتا ہوگا۔‘‘

 

📚 حوالہ: الخصال، جلد 2، صفحہ 575؛ بحار الأنوار، جلد 31، صفحات 432 تا 437۔

 

🔻 امیرالمؤمنین امام علیؑ نے مزید فرمایا:

 

’’اے ابنِ قیس! رسول اللہ ﷺ نے مجھے بتایا تھا کہ ان کے بعد امت کیا کچھ کرے گی۔ چنانچہ جب میں نے ان کے کیے ہوئے اعمال کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تو مجھے ان کے بارے میں اس سے زیادہ علم یا یقین حاصل نہیں ہوا جتنا پہلے ہی رسول اللہ ﷺ کی خبر کی وجہ سے تھا۔ بلکہ رسول اللہ ﷺ کے فرمان پر میرا یقین، ان واقعات کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے اور ان کا مشاہدہ کرنے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط تھا۔

 

میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جب ایسا وقت آئے گا تو آپ مجھے کیا ہدایت فرمائیں گے؟

 

آپ ﷺ نے فرمایا:

 

’’اگر تمہیں مددگار مل جائیں تو ان کے مقابلے میں کھڑے ہو جانا اور ان سے جہاد کرنا۔ اور اگر تمہیں مددگار نہ ملیں تو اپنے ہاتھ روک لینا اور اپنا خون محفوظ رکھنا، یہاں تک کہ تمہیں دین قائم کرنے اور اللہ کی کتاب اور میری سنت پر عمل کرنے کے لیے مددگار میسر آ جائیں۔‘‘

 

آپ ﷺ نے مجھے یہ بھی بتایا تھا کہ امت مجھے بے یار و مددگار چھوڑ دے گی اور میرے علاوہ کسی دوسرے کی بیعت کر لے گی۔

 

آپ ﷺ نے مجھے یہ بھی بتایا کہ تمہیں مجھ سے وہی نسبت حاصل ہے جو ہارونؑ کو موسیٰؑ سے حاصل تھی۔ اور میرے بعد امت کی حالت یہ ہوگی کہ کچھ لوگ ہارونؑ اور ان کی پیروی کرنے والوں کی مانند ہوں گے، جبکہ کچھ لوگ بچھڑے اور اس کی پیروی کرنے والوں کی مانند ہوں گے۔

 

جس طرح حضرت موسیٰؑ نے حضرت ہارونؑ سے فرمایا تھا:

 

’’اے ہارون! جب تم نے انہیں گمراہ ہوتے دیکھا تو کس چیز نے تمہیں اس بات سے روکا کہ تم میرے پیچھے آتے؟ کیا تم نے میرے حکم کی نافرمانی کی؟‘‘

 

حضرت ہارونؑ نے جواب دیا:

 

’’اے میری ماں کے بیٹے! میری داڑھی اور میرے سر کے بال نہ پکڑو۔ مجھے اندیشہ تھا کہ تم کہو گے کہ تم نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میری بات کا لحاظ نہیں رکھا۔‘‘

 

(سورۂ طٰہٰ، آیات 92 تا 94)

 

اس کا مطلب یہ ہے کہ جب حضرت موسیٰؑ نے حضرت ہارونؑ کو اپنی جگہ قوم کا جانشین مقرر کیا تھا تو انہیں ہدایت دی تھی کہ اگر قوم گمراہ ہو جائے اور انہیں مددگار مل جائیں تو وہ ان کے خلاف جہاد کریں، اور اگر مددگار نہ ملیں تو اپنے ہاتھ روک لیں، اپنا خون محفوظ رکھیں اور لوگوں میں تفرقہ نہ ڈالیں۔

 

مجھے بھی اندیشہ تھا کہ میرے بھائی رسول اللہ ﷺ مجھ سے کہیں گے: تم نے امت میں تفرقہ کیوں ڈال دیا اور میری وصیت کا لحاظ کیوں نہیں رکھا، جبکہ میں نے تمہیں ہدایت دی تھی کہ اگر تمہیں مددگار نہ ملیں تو اپنے ہاتھ روک لینا، اور اپنا خون، اپنے اہلِ بیت اور اپنے شیعوں کا خون محفوظ رکھنا۔

 

چنانچہ جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو لوگ ابوبکر کی طرف مائل ہو گئے اور انہوں نے اس کی بیعت کر لی، جبکہ میں رسول اللہ ﷺ کو غسل دینے میں مشغول تھا۔‘‘

 

📚 حوالہ: کتاب سلیم، صفحہ 129 (تحقیق شدہ ایڈیشن، جلد 2، صفحات 664–665، حدیث 12)؛ بحار الأنوار، جلد 29، صفحہ 467؛ مستدرک الوسائل، جلد 11، صفحہ 75۔

 

🔻 رسول اللہ ﷺ نے امام علیؑ سے فرمایا:

 

’’اے میرے بھائی! تم میرے بعد زندہ رہو گے اور قریش کی طرف سے تمہیں مشکلات اور تم پر ظلم کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پس اگر تمہیں ان کے مقابلے میں مددگار مل جائیں تو ان سے جہاد کرنا اور ان لوگوں سے لڑنا جو تمہاری مخالفت میں شدت اختیار کریں اور اپنے موافق لوگوں کے ساتھ مل کر تمہارے خلاف متحد ہو جائیں۔

 

اور اگر تمہیں مددگار نہ ملیں تو صبر کرنا، اپنے ہاتھ روک لینا اور خود کو ہلاکت میں نہ ڈالنا، کیونکہ تمہیں مجھ سے وہی نسبت حاصل ہے جو ہارونؑ کو موسیٰؑ سے حاصل تھی۔

 

تمہارے لیے ہارونؑ میں بہترین نمونہ ہے، جب ان کی قوم نے انہیں کمزور و بے بس کر دیا تھا اور قریب تھا کہ انہیں قتل کر ڈالتی۔ لہٰذا قریش کے تم پر ظلم کرنے اور تمہارے خلاف متحد ہونے پر صبر کرنا، کیونکہ تم ہارونؑ اور ان کی پیروی کرنے والوں کے مرتبے میں ہو، جبکہ وہ لوگ بچھڑے اور اس کی پیروی کرنے والوں کے مانند ہیں۔‘‘

 

رسول اللہ ﷺ نے مزید فرمایا:

 

’’اے علی! بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس امت کے لیے اختلاف اور تفرقے کا فیصلہ کر دیا ہے۔ اگر اللہ چاہتا تو تمام لوگوں کو ہدایت پر جمع کر دیتا، یہاں تک کہ اس امت کے دو افراد کے درمیان بھی اختلاف نہ ہوتا، کوئی شخص اللہ کے حکم کے بارے میں جھگڑا نہ کرتا اور کم مرتبہ شخص کسی صاحبِ فضیلت کی فضیلت کا انکار نہ کرتا۔

 

اور اگر اللہ چاہتا تو عذاب جلد نازل کر دیتا اور حالات کو بدل دیتا، یہاں تک کہ ظالم جھوٹا ثابت ہو جاتا اور حق اپنی منزل اور مقام کے ساتھ واضح ہو جاتا۔ لیکن اللہ نے دنیا کو عمل کی جگہ اور آخرت کو دائمی قرار گاہ بنایا ہے، تاکہ:

 

’جو لوگ برے اعمال کرتے ہیں، اللہ انہیں ان کے اعمال کا بدلہ دے، اور جن لوگوں نے نیک اعمال کیے ہیں، انہیں بہترین جزا عطا فرمائے۔‘

 

اس پر امام علیؑ نے فرمایا:

 

’’تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں؛ اس کی نعمتوں پر شکر اور اس کی آزمائشوں پر صبر ہے۔‘‘

 

📚 حوالہ: کمال الدین، صفحہ 264؛ ارشاد القلوب، صفحہ 420؛ کتاب سلیم؛ الغیبۃ، شیخ طوسی، صفحہ 193؛ الاحتجاج، جلد 1، صفحہ 157؛ بحار الأنوار، جلد 28، صفحہ 54 اور دیگر مقامات؛ مستدرک الوسائل، جلد 11، صفحہ 74۔

 

🔻 جابر نے امام باقرؑ سے، اور انہوں نے اپنے والد بزرگوارؑ سے روایت کی کہ:

 

رسول اللہ ﷺ نے امام علیؑ سے فرمایا:

 

’’اے علی! تمہارا کیا حال ہوگا جب میرے بعد فلاں شخص کو خلافت سونپ دی جائے گی؟‘‘

 

امام علیؑ نے عرض کیا:

 

’’یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو ان کے اور اس (خلافت) کے درمیان حائل ہو جائے گا۔‘‘

 

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

 

’’یا تم صبر کرنے والے اور اللہ سے اجر کی امید رکھنے والے بنو گے؟ یہ تمہارے لیے اس (خلافت) سے بہتر ہے۔‘‘

 

امام علیؑ نے عرض کیا:

 

’’اگر یہی میرے لیے بہتر ہے تو میں صبر کروں گا اور اللہ سے اجر کی امید رکھوں گا۔‘‘

 

📚 حوالہ: المناقب، جلد 3، صفحہ 203؛ بحار الأنوار، جلد 24، صفحہ 228 اور جلد 28، صفحہ 69؛ تأویل الآیات، صفحہ 419؛ شواہد التنزیل، جلد 1، صفحہ 565۔

 

۔

 

🔴 حضرت امام علی علیہ السلام نے اپنے مخالفین سے جنگ کیوں نہیں کی تھی۔

 

ہیثم بن عبد اللہ رمانی بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت امام علی رضا علیہ السلام سے سوال کیا کہ :

آپ مجھے یہ بتائیں کہ حضرت امام علی علیہ السلام نے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آ لہ وسلم کی وفات کے بعد پورے پچیس سال تک اپنے دشمنوں سے جنگ کیوں نہیں کی اور پھر اپنے دور حکومت میں جنگ کیوں کی تھی۔

امام علیہ السلام نے فرمایا:

حضرت امام علی علیہ السلام نے پچیس سال تک جنگ نہ کر کے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آ لہ و سلم کی تیرہ سالہ مکی زندگی اور انیس ماہ مدنی زندگی کی پیروی کی (اور) حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آ لہ و سلم کے پاس اس عرصہ میں مددگار نہیں تھے اسی لئے آپ نے کفار اور مشرکین سے جنگ نہیں کی تھی (اور) اسی طرح سے پچیس سال تک حضرت امام علی علیہ السلام کے پاس بھی مددگار نہیں تھے اسی لئے آپ نے بھی اپنے مخالفین سے جنگ نہیں کی تھی (اور) جب مکہ کے تیرہ سال اور مدینہ کے انیس ماہ تک حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آ لہ و سلم نے جنگ نہیں کی اور ان کی نبوت میں کوئی فرق نہیں آیا تو حضرت امام علی علیہ السلام کی پچیس سالہ خاموشی سے بھی ان کی امامت میں کوئی فرق نہیں آتا ہے کیونکہ جنگ نہ کرنے کی وجہ دونوں کے لئے ایک ہی تھی۔

 

📚 عیون اخبار الرضا،جلد:۲،صفحہ:۱۷۷،شیخ صدوق

 

اگر ہمارے مخالفین یہ سوال کرتے ہیں کہ حضرت امام علی علیہ السلام بہت بہادر تھے تو انہوں نے اپنے مخالفین سے جنگ کیوں نہیں کی تو ہم بھی ان سے یہ سوال کریں گے کہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آ لہ و سلم بھی بہت بہادر تھے تو وہ کفار اور مشرکین کے خوف کی وجہ سے غار میں کیوں چھپ گئے اور کفار اور مشرکین سے جنگ نہ کر کے مکہ سے ہجرت کیوں کی؟

حکمت عملی اور تدبر کو سمجھیں۔

 

🔴 " امیر المومنین علی۴ کا ہاتھ روکنا اور امام زمانہ۴ کا انتقام لینا "

معلی بن خنیس نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے پوچھا کہ :

حضرت علی ابن_ابی طالب علیہ السلام نے اپنے حق میں تلوار کیوں نہ اٹھائی اور قائم _آل_محمد کیوں تلوار اٹھائیں گے ؟؟

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ :

حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام نے اس لئے دشمنوں پر تلوار نہ اٹھائی کیونکہ انہیں علم تھا کہ میرے بعد میرے شیعوں پر دشمن غالب آئیں گے - میرے ان احسانات کے بدلے میں شاید ہمارے دشمن ہمارے شیعوں سے نرمی برتیں - مگر جب قائم_آل_محمد (عج) ظہور کریں گے اور انہیں اپنی گرفت میں لیں گے تو انہیں علم ہوگا کہ اب یہ دشمن تا ابد ہمارے شیعوں پر غالب نا آ سکیں گے -

 

{ علل الشرائع، صفحہ_١٦٠ }

 

بدر علی

 

Invisibleislam.com

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5