تلوار کیوں نا اٹھائی؟
⁉️ *تلوار کیوں نا اٹھائی*
✅ جواب ✅
موسیٰؑ نبی کی قوم موسیٰؑ کے کچھ دن بعد ہی مشرک ہو گیئی
اور نبی ہارونؑ جو کہ نائب تھے نبی موسیٰؑ کے وہ کچھ نا کر سکے اور نا ہی تلوار اٹھا سکے موسیٰؑ کی مشرک ہو جانے والی قوم کے خلاف۔ اور قوم کی شرکیہ حرکات خاموشی سے دیکھتے رہے۔
نبی ہارون نے موسیٰ سے فرمایا
📜 قَالَ ابۡنَ اُمَّ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِیۡ وَ کَادُوۡا یَقۡتُلُوۡنَنِیۡ ۫ ۖ فَلَا تُشۡمِتۡ بِیَ الۡاَعۡدَآءَ وَ لَا تَجۡعَلۡنِیۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ
📝 اے میری ماں کے بیٹے! یقینا *اس قوم نے مجھے کمزور اور بے بس کردیا اور قریب تھا کہ مجھے قتل ہی کر دیتے۔* اب آپ دشمنوں کو مجھ پر ہنسنے کا موقع نہ دیجیے ، اور مجھے ان ظالم لوگوں میں شمار نہ کیجیے!
📗 الأعراف:۱۵۰
⚖️ اب ایک صحیح ترین روایت پڑھیں اور فیصلہ کیجئے۔
رسول اکرم (ص) نے علی (ع) سے فرمایا:
📜 "انت مني بمنزلة هارون من موسى"
📝 "آپ کی منزلت میرے لئے وہی ہے جو ہارون (ع) کی موسی (ع) سے تھی"
📚 یہ حدیث حافظ ابی بکر عمرو بن ابی عاصم (متوفی 487 ہجری) کی کتاب "السنہ" میں ہے جس پر عالم اسلام کے نامور محدث، شیخ ناصر البانی (سلفی) نے تحقیق کی ہے اور البانی کے مطابق اس حدیث کی سند حسن ہے۔
Gallery
Tap any image to view full screen