Back to امام علیؑ نے تلوار کیوں نہیں اٹھائی؟

مدینہ میں اتنے زیادہ صحابہ اور بنی ہاشم کے ہوتے ہویے یہ واقعہ ہوا کیسے۔؟ ⁉️

🔴 مدینہ میں اتنے زیادہ صحابہ اور بنی ہاشم کے ہوتے ہویے یہ واقعہ ہوا کیسے۔؟ ⁉️

 

🔴 جب گھر كو آگ لگانے كى بات آئى تو بنى عبد المطلب سميت سب جوانانِ بنى ہاشم كہاں تھے؟ ⁉️

 

✅ جواب : 

 

⭕ مختصر یہ کہ جس طرح مدينہ جو اسلامی رياست كا دار الخلافہ تھی میں موجود کم و بیش لاکھوں صحابہ و تابعین کے درمان عثمان کا ق/تل ہو گیا اسی طرح امت کی بے حسی میں مظالم سیدہ ص کا واقعہ پیش آیا

 

اب تفصیل

 

1⃣ اوّلا :  

 

ہاشمى ہى تو جناب زہراء سلام اللہ عليہا كے گھر ميں امامت و خلافت كو حقدار تك پہنچانے كے ليے جمع ہوتے تھے ۔ انہى ميں سے زبير بن عوام سب سے زيادہ جذباتى انداز ميں نكلے تھے۔ اسى طرح حضرت عباس تو ايك طويل مدّت امام على عليہ السلام كو حق كے حصول كے ليے ابھارتے رہے ہيں جيساكہ تاريخى كتب ميں وارد ہوا ہے ۔ 

 

بنى ہاشم ہزاروں كى تعداد ميں نہيں تھے بلكہ چند سو نفر تھے جو ايك محلہ ’’ محلہِ بنى ہاشم ‘‘ ميں مقيم تھے ۔ يعنى ۱۰۰ ميں ۱۰ فيصد لوگ قبيلہ بنى ہاشم تھا ۔ بلا شك و شبہ انہی نے امام على عليہ السلام كا ساتھ ديا ۔

 

2⃣ ثانيًا: 

 

ہزاروں صحابہ كہاں گئے تو يہى سوال شيعہ بھى كرتے ہيں كہ آخر وہ كہاں چلے گئے ؟!! 

 

كيا ہزاروں ميں كوئى نہيں تھا كہ وہ امام على عليہ السلام كى جانفشانى ، قربانى اور جنگ ميں عظيم ايثار كا مظاہرہ كرنے كا صلہ ان كى حمايت كى صورت ميں ديتا ؟!! برادر كا جو شكوہ ہے وہى ہمارا بھى شكوہ ہے كہ مدينہ صحابہ سے بھرا ہوا تھا اور چند نفر كے علاوہ كوئى صحابى بنتِ رسول صلى اللہ عليہا كى نصرت و مدد كے ليے آمادہ نہيں تھا ۔۔ يہاں تك كہ ان صحابہ نے نہ پاک سیدہ سلام اللہ عليہا كا جنازہ پڑھا اور نہ قبر تك رسائى حاصل كى !!

 

 البتہ صحيح السند احاديث اور مضبوط تاريخى واقعات پر دقّت كريں تو يہ كوئى نئى بات نہيں كہ ہزاروں صحابہ ہونے كے باوجود گھرانہِ رسول اللہ صلى اللہ عليہ وآلہ كى مدد كے ليے كوئى نہيں آيا ۔ 

 

⭕ كيونكہ اس سے پہلے متعدد ايسے واقعات ہو چكے ہيں جن ميں صحابہ كى يہى بڑى تعداد مكمل خاموشى اور سكوت ميں رہى ۔ 

 

▪️ان ميں سے بعض كا بيان درج ذيل ہيں جوكہ بخارى و مسلم و ترمذى جيسى كتب ميں صحيح اسانيد كے ساتھ وارد ہوئے ہيں : 

 

1) واقعہ قرطاس جس ميں رحلتِ رسول اللہ صلى اللہ عليہ وآلہ سے دو دن پہلے آپ صلى اللہ عليہ وآلہ كو گروہِ خليفہ ثانى نے اس قدر تنگ كيا كہ 

آپ صلى اللہ عليہ وآلہ ’’ قوموا عنّى ‘‘ كے الفاظ صادر كرنے پر مجبور ہو گئے اور صرف وہى افراد گروہِ خليفہ ثانى كے ان سخت جملات كہ ’’ نعوذ باللہ ! رسول اللہ صلى اللہ عليہ وآلہ بيمارى كى شدت كى وجہ سے بہكى ہوئى باتيں كر رہے ہيں ‘‘ كے خلاف اقدام كيا ۔۔۔ 

 

ليكن مكہ سے ليكر مدينہ تك ۴۸۰ كلو ميٹر تك كا اسلامى معاشرہ جو صحابہ سے بھرا ہوا تھا ان ميں سے كوئى بھى نہيں اٹھا !!!

 

2) اس سے پہلے تبوك كا واقعہ ہوا كہ مدينہ نام لے كر سورہ توبہ ميں اہل مدينہ كى مذمت كى گئى ۔ يہى مدينہ جو ہزاروں صحابہ سے بھرا ہوا تھا ليكن تبوك ميں رسول اللہ صلى اللہ عليہ وآلہ پر جان نثار كرنے كے ليے آمادہ نہيں ہو رہا تھا ۔ سورہ توبہ ۹ ھجرى كو نازل ہوئى ۔ آپ صلى اللہ عليہ وآلہ كے آخرى دور كى صورت ہے ۔ اس ليے سورہ توبہ آيت : ۱۰۱ اور آيت ۱۲۰ كو توجہ سے پڑھيں كہ اس ميں منافقون اور اہل مدينہ كو جدا بيان كيا ہے ۔ 

 

كيونكہ يہ ذہن ميں آ سكتا ہے كہ مدينہ نام لے كر آيت نے جن كا تذكرہ كيا ہے وہ يہودى منافقين ہيں جيساكہ بعض شاذ تاريخى واقعات ميں وارد ہوا ہے 

 

ليكن قرآن كريم نے ’’ واؤ عاطفہ‘‘ كے ذريعے منافقين اور اہل مدينہ كو جدا كر ديا تاكہ يہ بات ذہن ميں نہ آئے ۔ اسى طرح سورہ توبہ آيت ۱۲۰ ميں اعراب (ديہاتى بدو) اور اہل مدينہ كو جدا كيا كيونكہ ذہن ميں يہ آ سكتا ہے كہ يہ آيات مدينہ كے ہزاروں صحابہ كے بارے ميں نہيں بلكہ مدينہ كے اردگر قائم يہودى منافقين اور اعراب كى آباديوں كے بارے ميں ہے ۔ 

ليكن قرآن نے اہل مدينہ ذكر كر كے اس گمان كو باطل قرار دے ديا ۔ 

 

3) اس سے كچھ دن پيچھے چلے جائيں تو غزوہ حنين كے موقع پر يہى ہزاروں سے اوپر صحابہ رسول اللہ صلى اللہ عليہ وآلہ كو تنہا چھوڑ كر بھاگ گئے ۔ آپ صلى اللہ عليہ وآلہ كے اردگرد وہى چند افراد باقى رہ گئے جو جناب فاطمہ سلام اللہ عليہا كے گھر امامت كے مسئلہ كو واپس پلٹانے كے ليے جمع ہوئے تھے ، يعنى امام على عليہ السلام اور جناب زبير ۔۔۔

 

ياد رہے كہ غزوہ حنين كوئى ابتداءِ اسلام ميں نہيں ہوا بلكہ ۸ ھجرى يعنى رحلتِ رسول اللہ صلى اللہ عليہ وآلہ سے ۲ سال پہلے ہوا ، اس وقت بھى صحابہ كرام كى يہى صورت تھى كہ عين موقع پر اردگرد ۔۔۔ لہذا قرآن كريم سورہ توبہ آيت ۲۵ ميں حنين نام لے كر صحابہ كى اس قدر بڑى تعداد كا اقدام بيان كيا ہے ، اس كو ضرور ملاحظہ كريں ۔ بے شك صرف اہل سنت كتبِ تفاسير و احاديث و تواريخ ميں ملاحظہ كريں 

 

4) اسی طرح جب خاندان رسالت شعیب ابی طالب میں مخصور ہو کر زندگی بسر کر رہے تھے تب یہ ہزاروں صحابہ کہاں تھے ۔؟

 

5) يہى صورت غزوہ خندق ميں ہوئى جب عمرو بن عبد ودّ خندق پھلانگ كر آ گيا تو ہزاروں صحابہ سے بھرا ہوا مجمع گم سم ہو گيا سوائے اس گروہ كے جو امامت و خلافت پلٹانے كے ليے آنے والے دنوں ميں جناب زہرا سلام اللہ عليہا كے گھر جمع ہوا ۔۔۔ يہ بھى تاريخ كى كتب ميں ملاحظہ كريں ، شيعہ نہيں بلكہ اہل سنت كتبِ حديث و تاريخ ميں ۔۔

 

🔹 پس يہ تعجب كى بات نہيں ہے كہ ہزاروں صحابہ تھے اور وہ خاموش تماشائى بنے رہے اور بنت رسول اللہ صلى اللہ عليہما كو تنہا بے آسرا چھوڑ ديا ۔۔۔ كيونكہ يہ كام متعدد مرتبہ بذاتِ خود رسول اللہ صلى اللہ عليہ وآلہ كے ساتھ انجام پا چكا ہے ۔ بنتِ رسول صلى اللہ عليہما كے ساتھ تو زندگى ميں صرف ايك مرتبہ ہوا ليكن رسول اللہ صلى اللہ عليہ وآلہ كے ساتھ كئى مرتبہ حتى رحلت سے دو دن قبل بھى ہوا

 

🔴 دوسرا اعتراض 🔴

 

⁉️ يہ شبہ كہ آخر امام على عليہ السلام كى شجاعت كہاں چلى گئى ؟!! ايك غيور و شجاع مرد سے يہ توقع نہيں ہوتى كہ اس كے گھر ميں حملہ ہو جائے اور وہ كچھ نہ كرے ؟!!

 

✅ اعتراض كا جواب ✅

 

جہاں تك امام على عليہ السلام كے اقدام نہ كرنے كى وجہ ہے تو اس كى درج ذيل وجوہات ہيں : 

 

⭕ بعض واقعات ميں وارد ہوا ہے كہ امام على عليہ السلام اس وقت گھر ميں نہيں تھے اور جب اطلاع ملنے پر واپس لوٹے تو جنابِ زہراء سلام اللہ عليہا زخمى حالت ميں تھيں ۔ 

 

اس كى تائيد حديث بھى كرتى ہے كہ جب جناب زہراء سلام اللہ عليہا نے كہا كہ يہ اجتماع ميرے گھر ميں نہ كرو ورنہ خليفہ ثانى اپنى قسم كو ضرور پورا كرے گا اور اس پر وہ لوگ چلے گئے ۔ 

يقينا ان كے ساتھ امام على عليہ السلام بھى چلے گئے ۔ وہ كہاں گئے اس پر تاريخ خاموش ہے ، گويا وہ خفيہ جگہ تھى جس كى مخبرى خليفہ ثانى نے كى ہو گى اور وہ حالت غضب و غيض ميں بنتِ رسول صلى اللہ عليہا كے گھر گئے ۔۔۔ 

 

⭕ بعض واقعات كے مطابق امام على عليہ السلام گھر كے اندر تھے كہ جناب زہراء سلام اللہ عليہا دروازے پر آئيں اور خليفہ ثانى سے ہمكلام ہوئيں ۔۔ اتنے ميں خليفہ ثانى نے حالتِ غصہ ميں دروازہ كو زور سے لات مارى اور آگ لگانے كا حكم جارى كيا ۔۔ 

 

اس كے بعد تاريخ خاموش ہے ۔۔۔ 

 

قرائن سے اندازہ ہوتا ہے كہ خليفہ ثانى كے ساتھ كثير تعداد تھى اور امام على عليہ السلام اس وقت تيزى سے نكلے ليكن انہوں نے آپ عليہ السلام كو گھيرے ميں لے ليا كيونكہ وہ تمام جنگى وسائل اور تيارى كے ساتھ آئے تھے اور انہيں معلوم تھا كہ امام على عليہ السلام مقاومت كريں گے اس ليے اس كا اہتمام كر كے آئے تھے۔

 

⭕ اگر مولا علی ع 'لوگوں کے نزدیک پاکباز' صحابہ کو قتل کرتے تو امّتِ مسلمہ میں بے پناہ تفرقہ پھیل جاتا ۔جس طرح ایک عثمان کے قتل کا بہانہ بنا کر عائشہ نے بھی مولا علی ع سے جنگ کی اور معاویہ نے بھی ان سے جنگ کی ۔ 

 

اگر مولا علی ع عثمان سے پہلے کے دو خلیفوں میں سے کسی ایک کو اپنے حق کیلئے قتل کر دیتے تو اسی طرح ۹۹۔۹۹ فیصد مسلمان مولا علی ع سے ہی فتنہ پھیلانے کی خاطر جنگ کرتے ۔ مولا علی ع چاہتے تو معجزانہ طاقت کے ساتھ ان سب ۹۹۔۹۹ فیصد لوگوں کو بھی قتل کر دیتے ۔ 

 

لیکن پھر آج کوئی مسلمان نہ بچتا ۔ لہٰذا مولا علی ع نے اسلام کی خاطر صبر کیا ، جس طرح انہی وجوہات کی بنا پر رسول ص نے صبر کیا تھا ۔ 

 

بعد میں تاریخ نے ثابت کیا کہ جو لوگ مولا علی ع کے حق کو نہیں پہچانتے تھے، وہی لوگ یا ان کی اولادیں شیعہ ہو گئیں اور وہ مولا علی ع کے ساتھ آ ملے ۔ 

 

جیسا کہ خالد بن ولید کا بیٹا شیعہ تھا

 

⭕ اور پھر اللہ تعالی کے کتنے پیغمبر قتل کئے گئے ۔۔ کبھِی اللہ نے شیطان کو یا اس کے قاتل چیلوں کو قتل کیوں نہیں کر دیا ؟؟؟ 

 

اللہ تو مولا علی ع کا بھی خالق ہے ۔ تو کیا اللہ سارے مخالفین کو قتل نہیں کر سکتا؟؟؟ 

 

اللہ اس لئے یہ نہیں کرتا کیونکہ اس نے انسانوں کو آزاد پیدا کیا ہے اور وہ بالجبر اپنی طاقت یا عظمت کو لوگوں سے منوانا نہیں چاہتا ۔ بلکہ لوگ خود اپنی عقل سے دیکھتے ہیں کہ اللہ والے مظلوم ہیں اور ان کے دشمن ظالم ہیں تو اسی طرح وہ لوگ مظلوموں کا ساتھ دیتے ہیں ۔ 

 

اس لئے مولا علی ع نے صبر کر کے اپنے آپ کو مظلوم ثابت کیا ۔ وہ چاہتے تو سب کچھ کر سکتے تھے لیکن انہوں نے صبر کیا ۔

 

مزید برآں، مولا علی ع کے صبر پر سنی کتب میں بہت سے دلائل نقل ہوئے ہیں

 

جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مولا علی ع کا تلوار نہ اٹھانا صبر کی بنا پر تھا ، نا کہ ڈر کی وجہ سے (نعوذباللہ)۔۔

 

⭕ لہٰذا 

 

جو کوئی کبھی ایسا سوال کرے تو آپ اس سے سوال کیجئے کہ 

 

بالفرض اگر امام علی ع ابوبکر و عمر و عثمان کو قتل کر دیتے تو آپ کیا ابوبکر و عمر و عثمان کا ساتھ دیتے یا مولا علی ع کا ساتھ دیتے ۔ 

 

جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ جب مولا علی ع نے اسی ابوبکر کی بیٹی عائشہ اور معاویہ سے جنگ کی تھی تو آپ لوگوں نے عائشہ اور معاویہ کا ہی تو ساتھ دیا تھا ۔ 

 

لہٰذا مولا علی ع خواہ ابوبکر و عمر و عثمان سے لڑائی کرتے یا نہ کرتے ، آپ لوگ ان کا ساتھ ہر گز نہ دیتے ۔ بلکہ آپ انے کے مخالفین کا ساتھ دیتے ۔ اسی لئے مولا علی ع نے پہلے لوگوں کی کثیر جماعت کو اپنے صبر، مظلومیّت اور اعلی ظرف کے ساتھ اپنا حامی بنایا اور پھر ان ظالمین و قابضین کے مجبور کرنے پر ان سے اپنے دفاع کیلئے جنگیں کر کے انہیں قتل بھی کیا لیکن پھر بھی آپ لوگ اسی عائشہ اور معاویہ کے ہی گن گاتے ہو ۔۔۔ 

 

💯 لہٰذا مولا علی ع کچھ بھی کر لیتے ، مگر شیعہ ، سنّی دونوں کتب میں فرمانِ رسول ص یہ ہے کہ منافق کبھِی ان سے محبّت نہیں کرے گا اور مومن کبھی ان کا ساتھ نہیں چھوڑے گا۔ 

 

⭕ مدينہ اسلامی رياست كا دار الخلافہ كہلاتا تھا اور اس ميں چند ہزار افراد آباد تھے ۔ مكہ تازہ تازہ قبضے ميں آيا تھا جہاں خوف كى بناء پر اكثريت نے اسلام قبول كيا تھا ، اس ليے وہ منتظر رہتے تھے كہ اسلامى رياست خانہ جنگى كا شكار ہو اور ہم دوبارہ لشكر كشى كريں ۔۔۔ 

 

اسى طرح مدينہ كے اطراف يہودى قلعوں اور بستيوں سے پُر تھى جس پر ۲ سے ۳ سال ہوئے تھے كہ قبضہ ہوا تھا ۔۔ 

اس ليے وہ بے تاب تھے كہ مركز كمزور ہو اور ہم بھر پور حملہ كريں ، اس ليے يہودى آئے روز سازشيں كرتے رہتے اور ان كى ايك معقول تعداد اصل مدينہ ميں تھى جو مخبرى كرتى رہتى تھى ۔۔۔ اسى نے خليفہ اول كے دور ميں كئى مسائل بھى كھڑے كيے ۔۔۔ اسى طرح ۱ سال ہوا تھا كہ تبوك جوكہ روم كى سرحد كے ساتھ علاقہ تھا اور اہل روم كے ساتھ سازباز كرتا رہتا تھا كو مسلمانوں نے قابو پايا تھا ۔۔۔ 

 

روم كا لشكر لاكھوں كا تھا اس ليے تبوك كے عيسائى اور مدينہ كے اطراف كى آبادياں روم كو حملے كى بار بار دعوت ديتے تاكہ اسلامى رياست كا خاتمہ كيا جا سكے ۔۔ نيز اعراب اور منافق ين كے ٹولے جنہوں نے آنے والے دنوں ميں ارتداد بھى كيا وہ بھى بے تاب تھے ۔۔۔ 

 

👈 ايسے ميں اگر امام على عليہ السلام بنى ہاشم قبيلے كى وساطت كے ساتھ جنگ كرتے تو ايك بڑى تعداد صحابہ كى اسى طرح مارى جاتى جيسے جنگ جمل و صفين و نہروان ميں ہوئى اور اس كے نتيجے ميں امام على عليہ السلام اور ان كے جانثار اصحاب بھى شہيد ہوئے تھے جيساكہ مستقبل نے وہ ديكھايا جو اس دن ہو جاتا جس كا طعنہ بنا كر بڑے طريقے سے پيش كيا جاتا ہے ۔۔۔ 

 

يعنى امام على عليہ السلام مظلوميت سے شہيد كر ديئے گئے ، 

اصحاب على ع كے جسموں كے اعضاء كاٹ كاٹ كر شہيد كيا گيا ۔۔۔ 

نواسہ رسول امام حسين صلى اللہ عليہما كو انتہائى درد ناك طريقے سے ان كے اہل و عيال سميت فرزندانِ صحابہ نے شہيد كيا

 

 كيونكہ 60 ھجرى ميں صرف ايك نسل آئى تھى اور وہ اولاد صحابہ ۔۔ باقى عالم اسلام ميں اور كوئى نسل ہى نہيں تھى ۔۔۔ پس جو چند سال بعد ہوا وہى اسى دن ہو جاتا ۔۔۔ 

 

اگر يہ ہو جاتا تو تبوك ميں روم كے باڈر سے لے كر مكہ كے ساحل تك يہودى و عيسائى راج ہوتا اور مسلمانوں كو اس قدر فرصت بھى نہ ملتى كہ قرآن كريم كو دنيا ميں نشر كريں ، احاديث رسول ص كى حفاظت كريں ، دينِ الہى بيان كيا جائے ، خالص نسل مومنين وجود دى جائے ۔۔۔ 

 

يہ وہ مصلحت تھى كہ امام على عليہ السلام كو بالكل اسى طرح صبر كرنا پڑا جيسے رسول اللہ صلى اللہ عليہ وآلہ كو مكى زندگى ميں مظلوم فدا كاروں كو تڑپتے ديكھنا پڑا اور صبر كرنا پڑا ۔۔۔ 

 

اگر اعتراض امام على عليہ السلام پر بنتا ہے تو يہى اعتراض رسول اللہ صلى اللہ عليہ وآلہ پر مكى زندگى ميں بنتا ہے خصوصا حضرت ياسر اور سميہ كے قتل اور جناب بلال كو شكنجے ميں ديكھنے كى صورت ميں ۔۔۔ 

 

💯 ليكن نفس رسول امام على صلى اللہ عليہما كو سيرت رسول ص پر عمل كرنا پڑا ۔

 

۔

 

🔴 منافقین سے جنگ نہ کرنے کک وجہ 🔴

 

▪️فتح الباری شرح بخاری جلد ۴ صفحہ ۲۰۴ کی عبارت سے واضح ہو تا ہے کہ حضرت علی ؑ نے اسی طرح چشم پوشی کی جس طرح کفر کے پلٹ آنے کے خوف سے حضرت رسول کریم مناقفوں اورمولفتہ القلوب کے ساتھ کرتے تھے کہ 

 

کنز العمال جلد۶ صفحہ ۳۳ میں ہے کہ آنحضرت منافقوں کے ساتھ اس لیے جنگ نہیں کرتے تھے کہ لوگ کہنے لگیں گے کہ محمد نے اپنے اصحاب کو قتل کر ڈالا۔

 

کتاب معالم التنزیل صفحہ۴۱۲ ، صفحہ۴۱۴، احیاء العلوم جلد۴ صفحہ ۸۸ سیرت محمدیہ صفحہ۳۵۶تفسیر کبیر جلد۴ صفحہ۶۸۶تاریخ خمیس جلد۲ صفحہ ۱۱۳۹سیرت جلبیہ صفحہ۳۵۶ شواہد النبوت اور فتح الباری میں ہے 

 

کہ آنحضرت نے عائشہ سے فرمایا 

 

کہ اے عائشہ ”لوَ لاَ حدَ ثَانِ قَومُک بالکَفرِ لَفَعلتُ “اگر تیری قوم تازی کفر سے مسلمان نہ ہوئی ہوتی تو میں اس کے ساتھ وہ کرتا جو کرنا چاہیے تھا۔

 

👈 حضرت علیؑ اور رسول کریم کے عہد میں کچھ زیادہ بعد نہ تھا۔ جن وجوہ کی بناء پر رسول نے منافقوں سے جنگ نہیں کی تھی انہیں وجوہ کی بناء پر حضرت علیؑ نے بھی تلوار نہیں اٹھائی ۔ 

 

🖋 نامعلوم

 

منقول بدر علی