صبرِ محمد وآل محمد ص
🔴 صبر محمد وآل محمد 🔴
📜 عن أبي جعفر (عليه السلام)، قال: جمع رسول الله (صلى الله عليه وآله) أمير المؤمنين علي بن أبي طالب وفاطمة والحسن والحسين (عليهما السلام)، فأغلق عليهم الباب، فقال: يا أهلي وأهل الله، إن الله عز وجل يقرأ عليكم السلام، وهذا جبرئيل معكم في البيت، ويقول: إن الله عز وجل يقول: إني قد جعلت عدوكم لكم فتنة، فما تقولون؟ قالوا: نصبر يا رسول الله لأمر الله، وما نزل من قضائه، حتى نقدم على الله عز وجل، ونستكمل جزيل ثوابه، وقد سمعناه يعد الصابرين الخير كله؛ فبكى رسول الله (ص) حتى سمع نحيبه من خارج البيت، فنزلت هذه الآية: {وجعلنا بعضكم لبعض فتنة أتصبرون وكان ربك بصيرا} أنهم سيصبرون، أي سيصبرون كما قالوا (ع).
📃 امام ابو جعفرؑ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے امیرالمؤمنین علی بن ابی طالبؑ، فاطمہؑ، حسنؑ اور حسینؑ کو جمع کیا، اور دروازہ بند کر دیا۔
پھر فرمایا:
“اے میرے اہلِ بیت، اور اللہ کے اہل! اللہ عزّوجل تمہیں سلام بھیجتا ہے، اور یہ جبرائیل بھی گھر میں تمہارے ساتھ ہے۔
وہ کہتا ہے کہ اللہ عزّوجل فرماتا ہے:
‘میں نے تمہارے دشمنوں کو تمہارے لیے آزمائش بنا دیا ہے۔
تو تم کیا کہتے ہو؟’”
انہوں نے کہا:
“اے رسول اللہ! ہم اللہ کے حکم پر صبر کریں گے، اور جو اس کی طرف سے فیصلہ نازل ہوا ہے، اس پر بھی صبر کریں گے، یہاں تک کہ اللہ عزّوجل کی بارگاہ میں پہنچ جائیں، اور اس کا عظیم ثواب پورا حاصل کر لیں۔
اور ہم نے سنا ہے کہ اللہ نے صبر کرنے والوں سے ہر بھلائی کا وعدہ کیا ہے۔”
پس رسول اللہ ﷺ رو پڑے، یہاں تک کہ ان کے رونے کی آواز گھر کے باہر تک سنی گئی۔
تب یہ آیت نازل ہوئی:
﴿وَجَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً أَتَصْبِرُونَ وَكَانَ رَبُّكَ بَصِيرًا﴾
یعنی: “اور ہم نے تم میں سے بعض کو بعض کے لیے آزمائش بنایا کیا تم صبر کرو گے؟ اور تمہارا رب خوب دیکھنے والا ہے۔”
یعنی اللہ نے خبر دی کہ وہ صبر کریں گے، جیسا کہ انہوں نے کہا تھا۔
📚 تأویل الآیات ص 368
📚 البرهان ج 4 ص 117
📚 بحار الأنوار ج 24
#تعلیمات_اہلبیتؑ
#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد