Back to امام علیؑ نے تلوار کیوں نہیں اٹھائی؟

حضرت علی علیہ‌السلام نے علمِ غیب کے باوجود حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی شہادت کیوں نہیں روکی؟

حضرت علی علیہ‌السلام نے علمِ غیب کے باوجود حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی شہادت کیوں نہیں روکی؟
حضرت علی علیہ‌السلام نے علمِ غیب کے باوجود حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی شہادت کیوں نہیں روکی؟
حضرت علی علیہ‌السلام نے علمِ غیب کے باوجود حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی شہادت کیوں نہیں روکی؟

❓ حضرت علی علیہ‌السلام نے علمِ غیب کے باوجود حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی شہادت کیوں نہیں روکی؟ 

 

✅ جواب:

 

در حقیقت، خود رسول اللہ ﷺ نے امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کو ابوبکر اور عمر کے حملے کی خبر دی تھی۔ ابویعلی اور بزاز نے، جس کی سند کو حاکم، ذهبی، ابن حبان اور دیگر معتبر قرار دیتے ہیں، حضرت علی علیہ‌السلام سے روایت کیا کہ رسول خدا ﷺ نے یہ مسئلہ پیشگی خبر دی تھی۔

 

آقای هیثمی اپنی کتاب مجمع الزوائد میں ایک واقعہ نقل کرتے ہیں:

 

📜 امیرالمؤمنین علیہ‌السلام فرماتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مدینہ کی کچھ گلیوں سے گزر رہے تھے، جب ایک باغ آیا۔ علی علیہ‌السلام نے کہا: "اے رسول اللہ! کیا خوبصورت باغ ہے!"

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تمہارے لیے جنت میں اس سے بھی خوبصورت باغ ہے۔"

 

یہ سلسلہ سات باغوں تک جاری رہا۔ جب راستہ خلوت ہوا، رسول اللہ ﷺ نے علی علیہ‌السلام کو اپنی آغوش میں لیا اور رو پڑے۔ علی علیہ‌السلام نے پوچھا: "اے رسول اللہ! آپ کیوں رو رہے ہیں؟"

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اس قوم کے دلوں میں کینہ ہے جو وہ صرف میرے بعد ظاہر کریں گے۔"

علی علیہ‌السلام نے پوچھا: "کیا میرے دین کی حفاظت ہوگی؟"

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "ہاں، تمہارا دین محفوظ ہے۔"

 

📚 ماخذ: مجمع الزوائد و منبع الفوائد، هیثمی، دارالکتب العلمیة، بیروت، ج9، ص118

 

⁉️ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر خود رسول اللہ ﷺ نے یہ پیشگوئی کی تھی، تو پھر ان پر الزام کیسے لگ سکتا ہے؟ 

 

اور پھر 

 

👈 عثمان بن عفان (خلیفہ سوم) کے معاملے میں بھی تو بقول کتب اہل سنت ، انہوں نے کہا کہ "رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے عہد لیا، اس لیے میں صبر کرتا ہوں"۔

 

پس یہ الزامات غلط اور غیر علمی ہیں، کیونکہ نہ عثمان خود اپنی شہادت روک سکتا تھا، نہ رسول اللہ ﷺ اسے روک سکتے تھے، اور نہ ہی اس پر ان کا کوئی قصور تھا۔

 

✅ دوسرا جواب

 

1. سب سے پہلے، یہ مسئلہ علمِ غیب سے تعلق نہیں رکھتا۔

 

2. اہل سنت کے عقیدے کے مطابق، مولاعلی علیہ‌السلام کو علمِ غیب حاصل نہیں تھا۔

 

3. ثالثاً، عمریہ منابع میں متواتر روایات موجود ہیں جن میں رسول اللہ ﷺ نے مخصوص افراد کے نام لے کر ان کی شہادت کی پیشگوئی کی، جیسے کہ عمار کی شہادت باغیوں کے ہاتھوں۔

 

روایات ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عمار سے فرمایا:

📜 "تمہیں باغی گروہ قتل کرے گا"

 

یہ روایت عمار، عثمان، ابن مسعود، حذیفہ اور ابن عباس سے نقل ہوئی ہے۔

 

📚 ماخذ: تهذيب التهذيب، العسقلاني، ج4، ص676

 

⁉️ تشریح:

رسول اللہ ﷺ کو معلوم تھا کہ عمار کو وہ گروہ قتل کرے گا جو معاویہ اور اس کے اصحاب تھے۔ اگر کوئی شخص علمِ غیب رکھتا ہے اور جانتا ہے کہ کوئی مارا جائے گا، تو کیا اسے قصوروار قرار دیا جائے؟

 

لہذا اہلِ مولوی کے استدلال کے مطابق رسول اللہ ﷺ قاتل عمار ہیں! لیکن حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی زندگی میں کئی افراد کی شہادت کی پیشگوئی کی، اور وہی واقعات جنگوں میں پیش آئے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کوئی منصوبہ کیوں نہ بنایا یا قاتل کو کیوں نہ روکا تاکہ کسی کی شہادت روکی جا سکے؟

 

بدر علی

 

#بدر_علی 

#تعلیمات_اہلبیتؑ 

#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد 

 

Invisibleislam.com

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3