Back to امام علیؑ نے تلوار کیوں نہیں اٹھائی؟

امیر المؤمنین (علیہ السلام) کے قیام نہ کرنے کی علت (شیعہ کتاب)

امیر المؤمنین (علیہ السلام) کے قیام نہ کرنے کی علت:

 

📜 سليم بن قيس الهلالي في كتابه, أن الأشعث بن قيس (لعنه الله) قال لأمير المؤمنين عليه السلام: "ما منعك يابن أبي طالب حين بويع أخو تيم بن مرة وأخو بني عدي بن كعب وأخو بني أمية بعدهما؛ أن تقاتل وتضرب بسيفك؟ وأنت لم تخطبنا خطبة - منذ كنت قدمت العراق - إلا وقد قلت فيها قبل أن تنزل عن منبرك: "والله إني لأولى الناس بالناس وما زلت مظلوما منذ قبض الله محمدا صلى الله عليه وآله" فما منعك أن تضرب بسيفك دون مظلمتك؟ فقال له علي عليه السلام: يابن قيس! قلت فاسمع الجواب: لم يمنعني من ذلك الجبن ولا كراهية للقاء ربي، وأن لا أكون أعلم أن ما عند الله خير لي من الدنيا والبقاء فيها، ولكن منعني من ذلك أمر رسول الله صلى الله عليه وآله وعهده إلي، أخبرني رسول الله صلى الله عليه وآله بما الأمة صانعة بي بعده، فلم أك بما صنعوا - حين عاينته - بأعلم مني ولا أشد يقينا مني به قبل ذلك، بل أنا بقول رسول الله صلى الله عليه وآله أشد يقينا مني بما عاينت وشهدت، فقلت: يا رسول الله؛ فما تعهد إلي إذا كان ذلك؟ قال: إن وجدت أعوانا فانبذ إليهم وجاهدهم، وإن لم تجد أعوانا فاكفف يدك واحقن دمك حتى تجد على إقامة الدين وكتاب الله وسنتي أعوانا".

 

📃 سلیم بن قیس ہلالی نے اپنی کتاب میں نقل کیا ہے کہ اشعث بن قیس (لعنہ اللہ) نے امیر المؤمنین علیہ السلام سے کہا:

"اے ابن ابی طالب! جب تیم بن مرہ (ابوبکر)، بنی عدی بن کعب (عمر)، اور ان کے بعد بنی امیہ (عثمان) کے بھائی کی بیعت کی گئی تو تم نے ان سے قتال اور تلوار چلانا کیوں چھوڑ دیا؟ حالانکہ تم نے عراق آنے کے بعد ہمیں جو بھی خطبہ دیا، اس میں منبر سے اترنے سے پہلے فرمایا:

'خدا کی قسم! میں ہی لوگوں پر سب سے زیادہ حق رکھتا ہوں، اور جب سے اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ کو اپنے پاس بلایا ہے، میں مسلسل مظلوم ہوں۔'

تو پھر تم نے اپنی مظلومیت کے مقابلے میں تلوار کیوں نہ اٹھائی؟"

 

تو علی علیہ السلام نے فرمایا:

"اے ابن قیس! تُو نے پوچھا ہے، اب سن جواب:

مجھے نہ تو بزدلی نے روکا، نہ اپنے رب سے ملاقات کی ناگواری نے، اور نہ یہ کہ میں اس بات سے بے خبر ہوں کہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ دنیا اور اس میں باقی رہنے سے بہتر ہے۔

بلکہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کے فرمان اور ان کی وصیت نے روکا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے مجھے خبر دی تھی کہ ان کے بعد امت میرے ساتھ کیا سلوک کرے گی۔

پس جب وہ وقت آیا، تو میں ان کے عمل سے پہلے جتنا یقین رکھتا تھا، اس سے زیادہ یقین میرے دل میں تھا۔

بلکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کے قول پر اس چیز سے زیادہ یقین رکھتا تھا جو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھی۔

میں نے عرض کیا:

"اے اللہ کے رسول! جب یہ وقت آئے تو آپ مجھے کیا وصیت کرتے ہیں؟"

تو فرمایا:

"اگر تمہیں مددگار ملیں تو ان سے جنگ کرو اور ان کے خلاف قیام کرو،

اور اگر مددگار نہ ملیں تو اپنے ہاتھ کو روکے رکھو اور اپنا خون محفوظ رکھو، یہاں تک کہ دین، کتابِ خدا، اور میری سنت کے قیام کے لیے تمہیں مددگار مل جائیں۔"

 

📚 کتاب سلیم بن قیس ہلالی صفحہ 664،

📚 مستدرک الوسائل جلد 11 صفحہ 74،

📚 بحار الانوار جلد 29 صفحہ 467،

 

#بدر_علی #تعلیمات_اہلبیتؑ #التماس_دعا #اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد