امام علی ؑ کی اپنی حکومت کے چھن جانے پر صبر اور خاموشی
امام علی ؑ کی اپنی حکومت کے چھن جانے پر صبر اور خاموشی
شیعہ کو طعنہ ذنی کرنے والے ہوش کے ناخن لیں
ابن عبدالبر نے اس روایت کو رفاعة بن رافع کے ترجمہ میں نقل کیا ہے یہ روایت صحیح ہے اگر کوئی ابی مخنف پر جرح کرتا ہے تو وہ جاہل ہے کیونکہ ابی مخنف تاریخی روایات میں مستند شخصیت ہیں
وذكَرَ عُمرُ بنُ شَبَّةَ ، عَنِ المَدائِنِي ، عَن أبي مخنف، عَن جَابِرٍ، عَنِ الشعبي ، قال : لمَّا خَرَجَ طَلْحَةُ والزُّبير كتبت أم الفضل بنتُ
الحارث (٤) إلى عليّ بخروجهم (٥) ، فقال علي : العَجَبُ الطلحة والزُّبَيرِ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وجلَّ لمَّا قَبَضَ رسولَه قُلنا : نَحنُ أهله وأولياؤه
لا يُنازِعُنا سُلطانه أحَدٌ، فأبى علينا قومنا فولوا غيرنا، وايم الله و لولا مَخافَةُ الفُرقَةِ وأن يعودَ الكُفرُ ويَبوء الدین لغیرنا فصبرنا علی بعض الالم
عمر بن شبہ نے، مدائنی سے، وہ ابو مخنف سے، وہ جابر سے، وہ شعبی سے روایت کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں:
جب طلحہؓ اور زبیر ؓ نکل کھڑے ہوئے تو امّ الفضل بنتِ حارثؓ نے ان کے خروج کی خبر ایک خط کے ذریعے علیؑ کو دی۔
تو علیؑ نے فرمایا:
تعجب ہے طلحہ اور زبیر پر!
جب رسول اللہ ﷺ نے رحلت فرمائی تو ہم نے کہا تھا کہ ہم ہی ان کے اہلِ بیت اور ان کے اولیاء ہیں،
ہمارے حقِ حکومت میں کوئی ہم سے جھگڑا نہیں کرے گا۔
مگر ہماری ہی قوم نے ہم سے انکار کیا اور دوسروں کو ہم پر مسلّط کر دیا۔
اللہ کی قسم! اگر فرقہ بندی کے خوف اور اس اندیشے کے سبب نہ ہوتا کہ کفر دوبارہ پلٹ آئے اور دین مٹ جائے، تو ہم ان کے منصوبوں کو الٹ پلٹ کر کے رہتے مگر اسی خوف سے ہم نے صبر اختیار کیا
ملاحظہ ہو الاستعیاب ج 3 ص24 زیر ترجمہ رفاعة بن رافع الانصاری
Gallery
Tap any image to view full screen