Back to امام علیؑ نے تلوار کیوں نہیں اٹھائی؟

گھر پر حملے کے وقت امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کے قیام نہ کرنے کی علت

🔴 گھر پر حملے کے وقت امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کے قیام نہ کرنے کی علت:

 

📜 ١٣ ـ فس [١] : أحمد بن علي ، عن الحسين بن عبد الله السعدي ، عن الخشاب [٢] ، عن عبد الله بن الحسين ، عن بعض أصحابه ، عن فلان الكرخي قال : قال رجل لأبي عبد الله 7 : ألم يكن علي قويا في بدنه قويا في أمر الله؟ فقال له أبو عبد الله 7 : بلى. قال : فما منعه أن يدفع أو يمتنع؟ قال : قد سألت فافهم الجواب : منع عليا من ذلك آية من كتاب الله. فقال : وأي آية؟ قال : فقرأ : ( لَوْ تَزَيَّلُوا لَعَذَّبْنَا الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ عَذاباً أَلِيماً ) [٣] ، إنه كان لله ودائع مؤمنون في أصلاب قوم كافرين ومنافقين ، فلم يكن علي صلوات الله عليه ليقتل الآباء حتى يخرج الودائع ، فلما خرجت ظهر على من ظهر وقتله ، وكذلك قائمنا أهل البيت لن يظهر أبدا حتى يخرج [٤] ودائع الله فإذا خرجت يظهر على من يظهر فيقتله.

 

ترجمہ

 

روایت ہے کہ ایک آدمی نے امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے پوچھا:

"کیا علی (علیہ السلام) اپنے جسم میں طاقتور نہیں تھے اور اللہ کے امر میں بھی مضبوط نہیں تھے؟"

 

امام (ع) نے فرمایا: "کیوں نہیں، ضرور تھے۔"

 

اس نے پوچھا: "تو پھر انہیں کس چیز نے روکا کہ وہ دفع نہ کرتے یا مقابلہ نہ کرتے؟"

 

امام (ع) نے فرمایا:

 

"تم نے سوال کیا ہے، اب جواب کو سمجھو۔ 

 

علی (علیہ السلام) کو اس سے قرآن کی ایک آیت نے روکا تھا۔"

 

اس نے پوچھا: "کون سی آیت؟"

 

امام (ع) نے یہ آیت تلاوت فرمائی:

 

📜 لَوْ تَزَيَّلُوا لَعَذَّبْنَا الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا

 

📃 اور اگر دونوں فریق (کافر و مومن) الگ الگ ہو جاتے تو جو ان میں کافر تھے انکو ہم دکھ دینے والا عذاب دیتے۔

 

📚 سوره فتح 25

 

پھر فرمایا:

"اللہ کے کچھ امانتی (مومن) لوگ ایسے تھے جو کافروں اور منافقوں کی پشتوں (نسلوں) میں موجود تھے۔

علی (علیہ السلام) ان امانتوں کے ظاہر ہونے سے پہلے ان کے باپوں کو قتل نہیں کر سکتے تھے۔

پس جب وہ امانتیں (مومنین کی نسلیں) ظاہر ہو گئیں، تو امیرالمؤمنین (ع) جس پر غالب آئے، اسے قتل کر دیا۔

 

(جیسا کہ خالد کا بیٹا مومن تھا اور صفین میں امام علی ع کے ساتھ تھا)

 

اسی طرح ہمارا قائم (علیہ السلام) بھی ہرگز ظہور نہیں کرے گا جب تک اللہ کی وہ امانتیں ظاہر نہ ہو جائیں۔

جب وہ ظاہر ہو جائیں گی، تب وہ جس پر غالب آئے گا، اسے قتل کرے گا۔"

 

یہ روایت درج ذیل معتبر شیعہ کتب میں موجود ہے:

 

📚 تفسير القمي، جلد 2، صفحہ 316

📚 تفسير الصافي، جلد 5، صفحہ 43

📚 البرهان في تفسير القرآن، جلد 5، صفحہ 90

📚 الإنصاف في النص على الأئمة، صفحہ 538

📚 بحار الأنوار، جلد 29، صفحہ 428

📚 تفسير نور الثقلين، جلد 5، صفحہ 70

📚 تفسير كنز الدقائق، جلد 12، صفحہ 299

 

اختصاراً یہ روایت ان کتب میں بھی موجود ہے:

 

📚 كمال الدين، جلد 2، صفحہ 641

📚 علل الشرائع، جلد 1، صفحہ 147

📚 إثبات الهداة، جلد 5، صفحہ 106

📚 حلية الأبرار، جلد 2، صفحہ 339

📚 رياض الأبرار، جلد 3، صفحہ 118

 

یعنی علیؑ کا صبر کمزوری نہیں بلکہ اللہ کی حکمت، امت کی امانت اور نبوی مشن کی حفاظت کا حصہ تھا۔ 

 

امام علی ع نے بیشک جناب سیدہ ص کا ہر ممکن دفاع کیا تھا، جب ایک ہجوم دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوا۔ 

 

یہ جب صبر و سکوت و دفاع و مقابلہ و تلوار نہ اٹھانے کی کی بات کی جاتی ہے

👈 یہ حاکم وقت کے خلاف قیام کرنے کے متعلق ہیں۔

 

بدر علی

 

Invisibleislam.com