ابوجہل کا ابوبکر کی بیٹی کو تھپڑ مارنا
💠 ابوجہل کا ابوبکر کی بیٹی کو تھپڑ مارنا 💠
ابن ہشام، جو اہل سنت کے قدیم علما میں سے ہیں، اپنی کتاب السیرة النبویة میں نقل کرتے ہیں:
📜 قَالَ ابْنُ إسْحَاقَ : فَحُدِّثْتُ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهَا قَالَتْ : لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَتَانَا نَفَرٌ مِنْ قُرَيْشٍ ، فِيهِمْ أَبُو جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ ، فَوَقَفُوا عَلَى بَابِ أَبِي بَكْرٍ ، فَخَرَجْتُ إلَيْهِمْ ، فَقَالُوا : أَيْنَ أَبُوكَ يَا بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ ؟ قَالَتْ : قُلْتُ : لَا أَدْرِي وَاَللَّهِ أَيْنَ أَبِي ؟ قَالَتْ : فَرَفَعَ أَبُو جَهْلٍ يَدَهُ ، وَكَانَ فَاحِشًا خَبِيثًا ، فَلَطَمَ خَدِّي لَطْمَةً طُرِحَ مِنْهَا قُرْطِي
ابن اسحاق نے کہا: مجھے اسما بنت ابوبکر سے روایت ملی کہ انہوں نے کہا: "جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ باہر نکلے تو قریش کے چند لوگ ہمارے پاس آئے، جن میں ابوجہل ابن ہشام بھی تھا، اور وہ ابوبکر کے گھر کے دروازے پر رکے۔ میں ان کے پاس گئی۔ انہوں نے پوچھا: 'آپ کے والد کہاں ہیں اے ابوبکر کی بیٹی؟' میں نے کہا: 'میں نہیں جانتی، بخدا نہیں معلوم کہ میرے والد کہاں ہیں۔' پھر ابوجہل، جو بے حیائی اور فحش کاری میں معروف تھا، نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور میرے گال پر سخت تھپڑ مارا، جس سے میری بالیاں بھی گر گئیں۔"
📚 سیرت نبویہ ابن ہشام
❓ سوالات:
کیا ابوبکر نے بعد میں گھر اور ناموس پر حملہ کرنے والوں سے انتقام لیا؟ انکی غیرت کہاں گئی ؟
کیا اہل سنت کوئی روایت پیش کر سکتے ہیں (چاہے ضعیف ہی کیوں نہ ہو) کہ ابوبکر نے اس واقعے میں اپنی بیٹی کا دفاع کیا یا بعد میں انتقام لیا؟
کیا ابوبکر کے لیے رسول اللہ کی طرف سے کوئی وصیت تھی کہ اس طرح کے معاملے میں، جب اس کی ناموس کو کفار نے مارا، صبر کرے؟
کیا ابوبکر پر واجب نہیں تھا کہ اپنی بیٹی کا بدلہ لیتا اور تلوار اٹھاتا
▪️ . امید ہے آئندہ امام علی ع پر بنائے جانے والے سوالات پر بھی اتنی ہی عقل مندی دیکھائیں گے
Invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen