Back to شیعہ خیر البریہ

امت 73 فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی

✅ امت 73 فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی، اور ان میں سے سب نجات پانے والے نہیں ہوں گے۔ ان میں ایک گروہ ایسا ہے جو سب سے بڑا ہے، اور وہ قیاس کرنے والے ہیں، جو اللہ کے حلال کو حرام اور حرام کو حلال کر دیتے ہیں۔

 

📜 ہم سے یحییٰ بن عثمان بن صالح نے روایت کی، کہا ہم سے نعیم بن حماد نے، کہا ہم سے عیسیٰ بن یونس نے، انہوں نے حریز بن عثمان سے، انہوں نے عبدالرحمن بن جبیر بن نفیر سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے عوف بن مالک سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"میری امت تہتر کے قریب فرقوں میں بٹ جائے گی، ان میں سب سے بڑا فتنہ وہ لوگ ہوں گے جو اپنے رائے کے ذریعے معاملات کو قیاس کرتے ہیں، پھر حرام کو حلال اور حلال کو حرام قرار دیتے ہیں۔"

 

🔹عوف بن مالک کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت ستر سے کچھ اوپر فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی، اور ان میں سب سے بڑا گروہ وہ ہوگا جو دینی امور کو اپنی رائے سے قیاس کرتے ہیں، اور اللہ کے حلال کو حرام اور حرام کو حلال کر دیتے ہیں۔

 

📚 (معجم الکبیر، طبرانی، جلد 18، صفحہ 50)

 

▪️اس روایت کی تصحیح ہیثمی نے کی ہے:

 

✅ اسے طبرانی نے "المعجم الکبیر" میں اور بزار نے روایت کیا ہے، اور اس کے تمام راوی صحیح (یعنی قابل اعتماد) ہیں۔

 

✅ حاکم نیشاپوری نے بھی "المستدرک" میں اس کی سند کو بخاری و مسلم کی شرط کے مطابق صحیح قرار دیا ہے۔

 

💠 روایت کی سند کا جائزہ:

 

یحییٰ بن عثمان بن صالح: مقبول

نعیم بن حماد: بخاری کے راوی، صدوق

عیسیٰ بن یونس: ثقہ، امانت دار

حریز بن عثمان: ثقہ

عبدالرحمن بن جبیر: ثقہ

جبیر بن نفیر: ثقہ

عوف بن مالک: صحابی

 

👈 اسلامی مذاہب میں صرف شیعہ مذہب ایسا ہے جو رسول اللہ ﷺ کے فرمان یعنی کتابِ خدا اور اہلِ بیت کی پیروی کرتا ہے اور قیاس و رائے کا قائل نہیں ہے 👌

 

⁉️ اب دیکھتے ہیں کہ اہل سنت کے مذہب کی بنیاد کیا ہے؟

 

▪️امام شافعىؒ(م204ھ) كہتے ہيں:

 

📜 ولم يجعل الله لأحد بعد رسول الله أن يقول إلا من جهة علمٍ مضى قبله وجهةُ العلمِ بعدُ الكتابُ والسنةُ والإجماعُ والآثارُ وما وصفتُ من القياس عليها

 

📃 رسول اللہ ﷺ کے زمانے کے بعد اللہ تعالی نے کسی کو یہ اجازت نہیں دی کہ وہ دینی علم کے بارے میں کوئی رائے پیش کرے سوائے اسکے کہ وہ علم کی بنیاد پر ہو اور علم کی بنیاد کتاب، سنت، اجماع اور جیسا کہ میں نے عرض کیا، ان کے کسی حکم پر قیاس ہے۔

 

📚 [الرسالة للشافعي:1468 ص508].

 

▪️امام شافعیؒ اپنے شیخ امام محمد شیبانی حنفیؒ(م189ھ) سے نقل کرتے ہیں کہ

 

📜 أن الحجة هي الكتاب ‌والسنَّة ‌والإجماع والقياس۔

 

📃 بیشک حجت(دلیل)ہے کتاب، اور سنت، اور اجماع اور قیاس۔

 

📚 [الأصل للشيباني ط قطر: ص181 ]

 

▪️ثناء اللہ امرتسری صاحب نے لکھا ہے:

 

اہلِ حدیث کا مذہب ہے کہ دین کے اصول چار ہیں:

(۱)قرآن

(۲)حدیث

(۳)اجماعِ اُمت

(۴)قیاسِ مجتہد۔

سب سے مقدم قرآن شریف ہے.......‘‘

 

📚 [اہلِ حدیث کا مذہب ص۵۸]

 

📌 یعنی اہل سنت کے اصولِ دین:

 

1. قرآن

2. سنت

3. اجماع

4. قیاس

 

👈🏻 نوٹ کریں: اہل بیتؑ کا کہیں ذکر نہیں ہے!

 

😂 یہ خود سب سے بڑی دلیل ہے کہ ان کے دین کا اہل بیتؑ سے کوئی تعلق نہیں۔

 

کیا اس روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ کے فرمان کی روشنی میں حنفی اور دیگر چار سنی مذاہب، جو قیاس کے قائل ہیں، فرقہ ناجیہ میں شامل ہو سکتے ہیں؟

 والسلام۔

 

بدر علی