امامت عہدہ الہی
امامت عہدہ الہی
امامت عہدہ الہی
امامت عہدہ الہی
امامت عہدہ الہی
امامت عہدہ الہی
امامت عہدہ الہی
امامت عہدہ الہی

🎖 امامت عہدہ الہی 🕋

 

قرآن

 

📜 وَإِذِ اِبْتَلى إِبْراهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِماتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قالَ إِنِّي جاعِلُكَ لِلنّاسِ إِماماً قالَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي قالَ لا يَنالُ عَهْدِي الظّالِمِينَ (١٢٤)

 

📃 اور جب ابراہیم کو اس کے رب نے چند باتوں (احکام و آزمائشوں) میں آزمایا تو اس نے انہیں پورا کر دکھایا، فرمایا: "میں تمہیں لوگوں کے لیے امام بنانے والا ہوں"۔ ابراہیم نے کہا: "اور میری اولاد میں سے بھی؟" فرمایا: "میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچے گا"۔ (124)

 

📗 سوره بقرہ 

 

🔴 اس آیت کی تفسیر میں محدثین و مفسرین اہل سنت لکھتے ہیں کہ 

 

▪ علامہ شوکانی نے لکھا

 

📜 وَاخْتُلِفَ فِي الْمُرَادِ بِالْعَهْدِ فَقِيلَ: الْإِمَامَةُ وَقِيلَ: النُّبُوَّةُ وَقِيلَ:عَهْدُ اللَّهِ: أَمْرُهُ. وَقِيلَ: الْأَمَانُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ، وَرَجَّحَهُ الزَّجَّاجُ، وَالْأَوَّلُ أَظْهَرُ كَمَا يُفِيدُهُ السِّيَاقُ

 

📃 اور "عہد" سے مراد کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے:

کہا گیا ہے کہ اس سے مراد امامت ہے،

اور کہا گیا ہے کہ اس سے مراد نبوت ہے،

اور کہا گیا ہے کہ "اللہ کا عہد" یعنی اس کا حکم ہے،

اور کہا گیا ہے کہ اس سے مراد آخرت کے عذاب سے امان ہے اور اسی کو زجاج نے راجح قرار دیا ہے 

👈🏼 مگر پہلا معنی زیادہ ظاہر ہے جیسا کہ سیاق سے معلوم ہوتا ہے۔ 👉🏻

 

📚 فتح القدیر ج۱ ص۱۶۰

 

▪ ابن جوزی لکھتا ہے کہ

 

📜 وفي العهد هاهنا سبعة أقوال أحدها أنه الإمامة رواه أبو صالح عن ابن عباس وبه قال مجاهد وسعيد بن جبير والثاني أنه الطاعة رواه الضحاك عن ابن عباس ابن عباس والثالث الرحمة قاله عطاء وعكرمة والرابع الدين قاله أبوالعالية والخامس النبوة قاله السدي عن أشياخه والسادس الأمان قاله أبو عبيدة والسابع الميثاق قاله ابن قتيبة والأول أصح

 

📃 اور یہاں "عہد" کے بارے میں سات اقوال ہیں:

 

1. یہ امامت ہے — اسے ابو صالح نے ابن عباسؓ سے روایت کیا ہے، اور اسی کے قائل مجاہد اور سعید بن جبیر ہیں۔

2. یہ اطاعت ہے — اسے ضحاک نے ابن عباسؓ سے روایت کیا ہے۔

3. یہ رحمت ہے — عطاء اور عکرمہ کا قول ہے۔

4. یہ دین ہے — ابو العالیہ کا قول ہے۔

5. یہ نبوت ہے — سدّی نے اپنے شیوخ سے بیان کیا ہے۔

6. یہ امان ہے — ابو عبیدہ کا قول ہے۔

7. یہ میثاق ہے — ابن قتیبہ کا قول ہے۔

 

👈🏼 اور پہلا قول امامت کا سب سے زیادہ درست ہے۔ 👉🏻

 

📚 زاد المسیر فی علم التفسیر ج۱ ص۱۴۰، ۱۴۱

 

▪ ابن کثیر ناسبی اپنی تفسیر قرآن میں لکھتا ہے کہ 

 

📜 فهذه أقوال مفسري السلف في هذه الآية، على ما نقله ابن جرير وابن أبي حاتم رحمهما الله تعالى واختار ابن جرير أن هذه الآية وإن كانت ظاهرة في الخبر، أنه لا ينال عهد الله بالإمامة ظالما، ففيها إعلام من الله لإبراهيم الخليل ﵇، أنه سيوجد من ذريتك من هو ظالم لنفسه كما تقدم عن مجاهد وغيره.

 

📃 یہ ہیں سلف مفسرین کے اقوال اس آیت کے بارے میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابن جریر نے یہ رائے اختیار کی کہ اگرچہ یہ آیت بظاہر اس خبر میں ہے کہ 👈🏼 اللہ کا عہد امامت 👉🏻 کسی ظالم کو نہیں ملے گا، لیکن اس میں اللہ کی طرف سے ابراہیم خلیلؑ کو یہ اطلاع بھی ہے کہ👈🏼 تیری اولاد میں ایسے لوگ بھی ہوں گے جو اپنے آپ پر ظلم کرنے والے ہوں گے، 👉🏻 جیسا کہ مجاہد وغیرہ سے پہلے بیان ہوا ہے۔

 

📚 تفسیر القرآن العظیم ابن کثیر دمشقی ج۱ ص۴۱۲

 

یعنی کچھ ایسے ظالمین بھی ہوں گے جن کے پاس کوئی واضح حکم نہیں ہوگا اللہ و رسول ﷺ کی طرف سے امت کے امام بننے کا مگر وہ پھر بھی زور زبردستی اور عوامی سپورٹ سے امت کے ظالم امام بن جائیں گے 

 

#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد 

 

#بدر_علی #التماس_دعا 

 

#تعلیمات_اہلبیتؑ #تبدیلی_ممنوع #invisibleislam

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8