ابو حنیفہ کی تکفیر کا ذکر۔
💢 ابو حنیفہ پر وارد کی گئی جرحیں:
💢 اس بار اہلِ سنت کے علماء کے کلمات میں ابو حنیفہ کی تکفیر کا ذکر۔
عبداللہ بن احمد بن حنبل نے اپنی کتاب میں صحیح سند کے ساتھ نقل کیا ہے:
محمد بن عبدالعزیز بن ابی رزمہ نے بیان کیا، کہا: میں نے اپنے والد کو کہتے ہوئے سنا: ہم حماد بن سلمہ کے پاس تھے، ایک مسئلے کا ذکر ہوا، تو کہا گیا کہ ابو حنیفہ اس کے قائل ہیں۔ تو انہوں نے کہا:
"خدا کی قسم! یہ اس شخص کا قول ہے جو دین سے نکل جانے والا (مارق) ہے۔"
اس روایت کی سند صحیح ہے۔
یعنی:
حماد بن سلمہ کے پاس ایک مسئلے کے بارے میں گفتگو ہو رہی تھی، کسی نے کہا کہ ابو حنیفہ کا بھی یہی قول ہے، تو انہوں نے کہا:
"اللہ کی قسم! یہ اس شخص کا قول ہے جو دین سے خارج ہو چکا ہے۔"
📚 حوالہ:
السنة لعبد الله بن أحمد بن حنبل، جلد 1، صفحہ 211، حدیث 341۔
---
💢 حماد بن سلمہ بن دینار بصری کا مقام (جنہوں نے ابو حنیفہ پر یہ حکم لگایا):
🔹 امام ذہبی نے ان کے بارے میں لکھا:
"الإمام، القدوة، شيخ الإسلام"
یعنی:
"وہ امام، مقتدا اور شیخ الاسلام تھے۔"
📚 سير أعلام النبلاء، جلد 7، صفحہ 444۔
اور اسلام ویب پر بھی ان کا درجہ:
"ثقة عابد"
یعنی:
"ثقہ اور عبادت گزار۔"
---
💢 مصنف (عبداللہ بن احمد بن حنبل) کا تعارف اور مقام:
امام ذہبی ان کے بارے میں لکھتے ہیں:
"الإمام الحافظ الحجة"
یعنی:
"امام، حافظ اور حجت۔"
📚 تذكرة الحفاظ، نمبر 685۔
اور تاريخ الإسلام میں لکھا ہے:
"كان ثقة ثبتا فهما"
یعنی:
"وہ ثقہ، مضبوط حافظے والے اور سمجھ بوجھ رکھنے والے تھے۔"
جلد 6، صفحہ 762۔
اسلام ویب پر ان کا درجہ:
"ثقة حجة"
یعنی:
"ثقہ اور حجت۔"
(مضمون کے آخر میں مصنف نے لکھا ہے:)
"یہ تحریر علمدار کی طرف سے ہے، اور میں اب بھی منتظر ہوں کہ وہابی جو جاہل اور بے علم ہیں، آ کر ابو حنیفہ کا دفاع کریں۔"
Gallery
Tap any image to view full screen