جس شہر میں ابو حنیفہ کا نام لیا جائے، وہ رہنے کے قابل نہیں
🔴 "جس شہر میں ابو حنیفہ کا نام لیا جائے، وہ رہنے کے قابل نہیں۔" 🔴
ولید بن مسلم، امام مالک بن انس (امام مالکیہ) سے نقل کرتے ہیں:
ہمیں ابن رزق نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں محمد بن عبد اللہ بن ابراہیم نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں جعفر بن محمد بن حسن القاضی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمیں ابراہیم بن عبدالرحیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمیں ابو معمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا:
ولید بن مسلم نے بیان کیا:
"مالک بن انس نے مجھ سے کہا: کیا تمہارے شہر میں ابو حنیفہ کی رائے کا ذکر کیا جاتا ہے؟
میں نے کہا: ہاں!
تو انہوں نے کہا:
'تمہارا شہر رہنے کے لائق نہیں جس میں ابو حنیفہ کا نام لیا جاتا ہو۔'"
✍️ ڈاکٹر بشار عواد معروف کا تعلیق:
✅ "اس کی سند صحیح ہے، اس کے راوی ثقہ ہیں۔"
🔵 ترجمہ:
ولید بن مسلم کہتے ہیں کہ مالک بن انس نے مجھ سے پوچھا: کیا تمہارے شہر میں ابو حنیفہ کا ذکر کیا جاتا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، تو انہوں نے کہا:
"جس شہر میں ابو حنیفہ کا نام لیا جاتا ہو، وہ شہر رہنے کے قابل نہیں۔" 😂😂👌
📕 تاریخ بغداد، تحقیق بشار عواد، جلد 15، صفحہ 551، ناشر: دار الغرب الاسلامی، بیروت
نوٹ: یہ عبارت امام مالک کی طرف منسوب ایک قول کا ترجمہ ہے؛ تاریخی کتب میں ائمہ کے درمیان فقہی اختلافات اور بعض سخت تنقیدی اقوال بھی منقول ہیں، جن کی صحت و سیاق پر محدثین کے ہاں بحث پائی جاتی ہے۔