ابن مبارک نے ابو حنیفہ سے رکوع کے وقت ہاتھ اٹھانے (رفع الیدین) کے بارے میں سوال کیا۔
🖌 صرف ہنسی مذاق کے لیے 😅😆 ابو حنیفہ کی طرف سے اپنے پیروکاروں کے لیے:
تکبیر کے وقت ہاتھ اٹھانا // نمازی اس حالت میں گویا اڑنا چاہتا ہے۔ 🕊😂😂
✅ خطیب بغدادی نے اپنی سند کے ساتھ وکیع سے نقل کیا ہے:
ہم سے ابراہیم بن شماس نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے وکیع کو کہتے ہوئے سنا کہ:
ابن مبارک نے ابو حنیفہ سے رکوع کے وقت ہاتھ اٹھانے (رفع الیدین) کے بارے میں سوال کیا۔
تو ابو حنیفہ نے کہا:
"کیا نمازی اس وقت اڑنا چاہتا ہے کہ اپنے ہاتھ اٹھائے؟" 😐
وکیع کہتے ہیں:
"ابن مبارک ایک عقلمند آدمی تھے، تو ابن مبارک نے کہا:
اگر نمازی پہلی مرتبہ (تکبیرِ تحریمہ کے وقت) اڑ گیا تھا، تو دوسری مرتبہ (رکوع کے لیے تکبیر کہتے وقت) بھی اڑ جائے گا۔"
👈 ابو حنیفہ خاموش ہوگئے 😷 اور کچھ نہیں کہا۔ 🤐
✍ ڈاکٹر بشار عواد معروف کا تبصرہ:
"اس کی سند صحیح ہے۔" 👌
📕 تاریخ بغداد، تحقیق بشار عواد، جلد 15، صفحہ 535۔
Gallery
Tap any image to view full screen