Back to ائمۂ اربعہ (اہلِ سنت کے چار امام)

ابو حنیفہ اپنے بڑے شاگرد عبداللہ بن مبارک کی نظر میں

ابو حنیفہ اپنے بڑے شاگرد عبداللہ بن مبارک کی نظر میں
ابو حنیفہ اپنے بڑے شاگرد عبداللہ بن مبارک کی نظر میں
ابو حنیفہ اپنے بڑے شاگرد عبداللہ بن مبارک کی نظر میں

💥 ابو حنیفہ اپنے بڑے شاگرد عبداللہ بن مبارک کی نظر میں 👌

 

ابو حنیفہ کے چاہنے والوں کے لیے پیشکش 😘😘😘

 

🔰 خطیب ابو بکر احمد بن علی بن ثابت البغدادی اپنی کتاب تاریخ میں متعدد اسناد کے ساتھ عبداللہ بن مبارک سے نقل کرتے ہیں:

 

 

🔵🖋 پہلی روایت: (شواہد کے مطابق معتبر)

میں نے ابنِ مبارک کو کہتے ہوئے سنا:

"میں نے ابو حنیفہ سے چار سو احادیث لکھی ہیں، جب میں عراق واپس جاؤں گا تو ان شاء اللہ انہیں مٹا دوں گا۔" 👈 ان شاء اللہ 😂😂

 

📙 تاریخ بغداد، ج 15، ص 573

 

 

🔵🖋 دوسری روایت: (صحیح سند کے ساتھ) 👍

ابراہیم بن شماس کہتے ہیں: میں نے ابن مبارک کو کہتے ہوئے سنا:

"ابو حنیفہ کی حدیث کو چھوڑ دو (اس سے پرہیز کرو)!" 😆😜

 

👈 اس کی سند صحیح ہے۔

 

📙 تاریخ بغداد، ج 15، ص 573

 

 

🔵🖋 تیسری روایت: (شواہد کے مطابق معتبر)

حسن بن ربیع کہتے ہیں:

"عبداللہ بن مبارک نے اپنی وفات سے چند دن پہلے ابو حنیفہ کی حدیث کو ترک کر دیا تھا۔"

 

📙 تاریخ بغداد، ج 15، ص 573

 

 

🔵🖋 چوتھی روایت: (صحیح سند کے ساتھ) 👍

میں نے عبداللہ بن مبارک کو کہتے ہوئے سنا:

"زہری (محمد بن شهاب الزہری) کی ایک حدیث مجھے ابو حنیفہ کی تمام باتوں سے زیادہ محبوب ہے۔" 😳

 

👈 اس کی سند صحیح ہے۔

 

📙 تاریخ بغداد، ج 15، ص 574

 

 

 

✍ دیکھو بات کہاں تک پہنچ گئی کہ عبداللہ بن مبارک اپنے استاد کے بارے میں اس طرح بات کرتے ہیں 😂😂😎😎

اب تو ابو حنیفہ کے حال پر رونا چاہیے 😁😅

 

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3