Back to ائمۂ اربعہ (اہلِ سنت کے چار امام)

ابو حنیفہ — وہ امام جو (ان کے دعوے کے مطابق) کافر تھا

ابو حنیفہ — وہ امام جو (ان کے دعوے کے مطابق) کافر تھا
ابو حنیفہ — وہ امام جو (ان کے دعوے کے مطابق) کافر تھا

💥 ابو حنیفہ — وہ امام جو (ان کے دعوے💥 ابو حنیفہ — وہ امام جو (ان کے دعوے کے مطابق) کافر تھا 😱😐

 

عبداللہ بن مبارک، جو ابو حنیفہ کے بڑے شاگرد تھے، اُن روایات سے استغفار کرتے ہیں جو وہ ابو حنیفہ سے نقل کیا کرتے تھے!!!

 

ابو حنیفہ کی روایات اور سنتِ رسول اکرم ﷺ کے ساتھ مخالفت اس حد تک بڑھ گئی کہ امام مالک نے کہا کہ ابو حنیفہ سنتِ نبوی کو توڑتے تھے۔۔

اور یہاں تک کہا: "ما ينبغي لبلدكم أن تسكن" یعنی جس شہر میں ابو حنیفہ کا نام لیا جائے وہ رہنے کے لائق نہیں۔۔

حتیٰ کہ بعض اہلِ سنت علماء نے صاف کہا کہ ابو حنیفہ کا مذہب رسول خدا ﷺ کے آثار کو مٹانے کے لیے قائم کیا گیا تھا... وغیرہ۔

 

🖋 لیکن اس بار ہم ابو حنیفہ کے بڑے شاگرد (عبداللہ بن مبارک) کی رائے پیش کرتے ہیں:

 

📝 خطیب بغدادی ایک معتبر سند کے ساتھ لکھتے ہیں:

علی بن جریر ابیوردی کہتے ہیں: میں عبداللہ بن مبارک کے پاس گیا۔ ایک شخص نے ان سے کہا: ہمارے ہاں دو آدمیوں میں ایک مسئلے پر جھگڑا ہوا، ایک کہتا تھا: ابو حنیفہ نے یہ کہا، اور دوسرا کہتا تھا: رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا۔

تو پہلے شخص نے کہا: ابو حنیفہ اس مسئلے میں رسول اللہ ﷺ سے زیادہ علم رکھتے ہیں!! 😳

 

ابن مبارک نے کہا: دوبارہ بیان کرو! اس نے دوبارہ بیان کیا۔

تو ابن مبارک نے کہا: کفر ہے، کفر ہے۔

 

علی بن جریر کہتے ہیں: میں نے کہا: تمہاری وجہ سے لوگ کافر ہوئے! اور تمہاری وجہ سے لوگوں نے اس (ابو حنیفہ) کافر کو امام بنایا!

ابن مبارک نے کہا: کیسے؟

میں نے کہا: اس وجہ سے کہ تم ابو حنیفہ سے روایات نقل کرتے تھے۔

 

تو عبداللہ بن مبارک نے کہا:

👉 میں ان تمام روایات سے جنہیں میں نے ابو حنیفہ سے نقل کیا، اللہ سے استغفار کرتا ہوں۔ 😔

 

📚 حوالہ: تاریخ بغداد، جلد 15، صفحہ 572

 

کتاب کے محقق ڈاکٹر بشار عواد معروف نے حاشیہ میں اس روایت کو "اسنادہ حسن" (سند اچھی ہے) قرار دیا ہے۔

 

🖋 دیکھیں بات کہاں تک پہنچ گئی کہ عبداللہ بن مبارک اپنے استاد کے بارے میں اس طرح بات کرتے ہیں 😒

 

ہم ان روایات کے نشر کرنے میں کوئی توہین یا تمسخر کا ارادہ نہیں رکھتے، بلکہ مقصد صرف یہ ہے کہ حق اور باطل کی پہچان ہو جائے، ان شاء اللہ۔

 

📖 اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے:

"وَ لا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْباطِلِ وَ تَكْتُمُوا الْحَقَّ وَ أَنْتُمْ تَعْلَمُونَ"

(سورہ بقرہ، آیت 42)

 

ترجمہ:

حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤ، اور جانتے بوجھتے حق کو نہ چھپاؤ۔

 

 

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2