فقہ حنفیہ اور قیاس سے احادیث کو رد کرنا
فقہ حنفیہ اور قیاس سے احادیث کو رد کرنا
فقہ حنفیہ اور قیاس سے احادیث کو رد کرنا
فقہ حنفیہ اور قیاس سے احادیث کو رد کرنا

اور وہ بھی اسی چیز میں مبتلا ہو گئے جس میں وہ (حنفی علماء اور اہلِ رائے) مبتلا ہوئے تھے۔ انہوں نے ایسی چیزوں کے بارے میں فتوے دیے جن کے خلاف سنت ثابت ہو چکی تھی، لیکن وہ اس سے واقف نہ تھے۔ لہٰذا جب اس قسم کی احادیث ان تک پہنچیں تو انہوں نے ان کی صحت میں اس وجہ سے شک کیا کہ وہ ان چیزوں کے مخالف تھیں جنہیں ان کے بزرگوں نے قبول کیا تھا اور جن پر وہ عمل کرتے آئے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ قیاس ہی عمل کا تقاضا کرتا ہے۔

 

ان احادیث میں سے بعض ایسی تھیں کہ صحت اور صراحت کے اعتبار سے وہ ان پر غالب آ گئیں اور ان کے لیے انہیں قبول کرنے اور ان پر عمل کرنے کے سوا کوئی راستہ نہ رہا۔ لیکن بہت سی احادیث کو انہوں نے رد کر دیا اور ان کے رد کرنے کے لیے بہانے تراشے، حالانکہ ان میں بعض احادیث ایسی تھیں جو ان احادیث کے مقابلے میں جنہیں انہوں نے اختیار کیا تھا، قیاس سے زیادہ قریب اور اعتبار کے لحاظ سے زیادہ مضبوط تھیں۔

 

لیکن وہ حدیث جس پر انہوں نے عمل کیا، اگرچہ وہ ضعیف تھی اور قیاس کے خلاف بھی تھی، صرف اس لیے کہ وہ ان کے مصادر میں پہلے سے موجود تھی، انہوں نے تقلید کی وجہ سے اسے قبول کر لیا۔ جبکہ وہ احادیث جنہیں انہوں نے صحت کے باوجود رد کیا، اس وقت ان تک پہنچیں جب ان کے مخالف قول کو ان کے نزدیک پہلے ہی قبولیت حاصل ہو چکی تھی، اس لیے وہ اسی پر قائم رہے اور ان کے مشائخ بھی اسی پر عمل کرتے رہے۔

 

کبھی ایسا بھی ہوا کہ انہوں نے کسی روایت کے ایک حصے پر عمل کیا، پھر ان کے پاس اس کے خلاف ایک حدیث پہنچی۔ لیکن وہ اہلِ حدیث کے ائمہ کی طرح صحیح و سقیم، درست و غلط، راجح و مرجوح کی تحقیق کرنے سے عاجز رہے، چنانچہ انہوں نے "رائے" کو کافی سمجھ لیا، جیسا کہ فقہی مباحث کے حصے میں، خصوصاً چور کا ہاتھ کاٹنے کے مسئلے میں، ان کا طریقہ اور عادت واضح ہے۔ طحاوی اور دیگر لوگوں نے بھی اسی طریقے پر اعتماد کیا ہے۔

 

اسی وجہ سے تم دیکھتے ہو کہ حنفی حضرات اگرچہ اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ ابو حنیفہ اور عراق کے دیگر فقہاء کا مذہب یہ ہے کہ ضعیف حدیث کو قیاس پر مقدم کیا جائے، جیسا کہ استاد (کوثری) نے تأنيب صفحہ 161 میں ذکر کیا ہے، لیکن اس کے باوجود وہ بہت سی صحیح احادیث کو صرف اس وجہ سے رد کر دیتے ہیں کہ وہ ان کے بزرگوں کی آراء اور ان طریقوں کے خلاف ہوتی ہیں جن پر وہ عمل کرتے آئے ہیں، اور امام شافعی نے اسی وجہ سے ان پر تنقید کی ہے۔

 

۔۔۔

۔۔۔

 

لہٰذا حنفی علماء جانتے ہیں کہ "رائے" کے ذریعے سنت کو رد کرنا ایک ناپسندیدہ عمل ہے، لیکن اس کے باوجود وہ بہانے تراشتے ہیں اور ایسے اصول بنانے کی کوشش کرتے ہیں جن کو اختیار کر کے وہ ان احادیث کے رد کرنے کے لیے عذر پیش کر سکیں جنہیں انہوں نے قبول نہیں کیا۔ کبھی قیاس کے ذریعے اور کبھی اپنے مشائخ کی آراء کے ساتھ سختی سے چمٹے رہنے کے ذریعے۔

 

لیکن ان اصولوں کی کمزوری کے باوجود بھی ان کا مقصد پورا نہیں ہوتا، کیونکہ خود ان کے مشائخ نے بھی بعض جگہ ان اصولوں کے خلاف عمل کیا ہے۔ اسی وجہ سے ان کے تناقضات میں اضافہ ہو جاتا ہے، اور امام شافعی کے مناظروں میں ان کے بہت سے تناقضات بیان کیے گئے ہیں۔

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4