ابو حنیفہ کے ذریعے شریعت کے ساتھ کھیل
ابو حنیفہ کے ذریعے شریعت کے ساتھ کھیل 😁
اہلِ سنت کے 50 فیصد سے زیادہ افراد کے امام ابو حنیفہ کا یہ موقف ہے کہ وضو میں ترتیب کی رعایت کرنا واجب نہیں ہے 😰
🔻یعنی تم پہلے اپنے پاؤں دھو سکتے ہو،
🔻پھر سر کا مسح کر سکتے ہو،
🔻اس کے بعد ہاتھ دھو سکتے ہو،
🔻اور پھر چہرہ دھو سکتے ہو۔
ابن کثیر لکھتے ہیں:
"یہیں سے ان لوگوں نے وضو میں ترتیب کو واجب قرار دیا ہے، جیسے کہ جمہور کا مذہب ہے، برخلاف ابو حنیفہ کے، کیونکہ انہوں نے ترتیب کو شرط نہیں قرار دیا۔ بلکہ اگر کوئی شخص اپنے دونوں پاؤں دھوئے، پھر اپنے سر کا مسح کرے، پھر اپنے ہاتھ دھوئے، پھر اپنا چہرہ دھوئے، تو یہ بھی اس کے لیے کافی ہوگا۔ کیونکہ آیت نے ان اعضاء کو دھونے کا حکم دیا ہے، اور حرفِ واو ترتیب پر دلالت نہیں کرتا۔ اور جمہور علماء نے اس اعتراض کے جواب میں مختلف طریقے اختیار کیے ہیں..."
📚 تفسیر ابن کثیر — ابن کثیر (وفات 774ھ)، جلد 3، صفحہ 46
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
خلاصہ: یعنی جس طرح بھی وضو کر لو، آخرکار ثواب مل جائے گا 😁
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ