ابوحنیفہ کی فقاہت

امامِ اہلِ رائے (ابوحنیفہ) کی فقاہت اور انسان کے فضلے (نجاست) کے بارے میں سوال

 

سیف اللہ احمد نقشبندی مجددی دیوبندی حیاتی کہتے ہیں:

"حضرت! ایک مسئلہ جو میرے ذہن میں تھا، یاد آ گیا۔ میں یہ جاننا چاہتا تھا کہ انسان کے فضلے (نجاست) کا ذائقہ کیسا ہوتا ہے؟ کیا وہ کڑوا ہوتا ہے یا میٹھا؟"

 

(مزاحیہ انداز میں نقل کیا گیا)

 

ان کے مطابق امام ابوحنیفہ نے فرمایا:

"اگر انسان کا فضلہ (نجاست) تازہ ہو تو اس میں کچھ مٹھاس ہوتی ہے، اور اگر خشک ہو جائے تو اس میں کڑواہٹ آ جاتی ہے۔"

 

📕 کمالات امام ابوحنیفہ، صفحہ 80

 

۔

 

ایک جگہ فتوی دیا کہ

 

اگر نماز کے دوران بھیڑ یا دھکم پیل کی وجہ سے مقتدی کا ازار (شلوار) گر جائے اور اس کی شرمگاہ ظاہر ہو جائے، تو وہ اسی حالت میں کھڑا رہے یہاں تک کہ امام اپنی نماز مکمل کر لے۔

 

ابن حزم اندلسی اپنی کتاب "المحلى" میں ابو حنیفہ کا قول نقل کرتے ہیں:

 

"اگر مقتدی کو دھکا لگے یہاں تک کہ اس کا ازار گر جائے اور اس کی پوری شرمگاہ ظاہر ہو جائے، اور وہ اسی طرح کھڑا رہے یہاں تک کہ امام کی نماز مکمل ہو جائے، تو اس مقتدی کی نماز مکمل شمار ہوگی۔ لیکن اگر وہ امام کے ساتھ رکوع کرے یا سجدہ کرے تو اس کی نماز باطل ہو جائے گی۔"

 

📕 المحلى، جلد 3، صفحہ 224

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1