ابوحنیفہ — امامِ اعظم یا کافرِ اعظم؟
ابوحنیفہ — امامِ اعظم یا کافرِ اعظم؟
ابوحنیفہ قرآنِ کریم کو مخلوق (پیدا کیا ہوا) مانتے تھے۔
اور اہلِ سنت کے بہت سے بڑے علماء کے نزدیک،
جو شخص یہ عقیدہ رکھے کہ “قرآن مخلوق ہے”،
وہ کافر، مشرک، جَہمی اور بت پرست کے درجے کا ہے۔
---
دائیں جانب کے متن کا ترجمہ:
ابوموسیٰ انصاری نے بیان کیا کہ میں نے اسماعیل بن حماد بن ابی حنیفہ (جو امام ابوحنیفہ کے پوتے تھے) کو یہ کہتے ہوئے سنا:
> “یہ میرے دین، میرے والد کے دین، اور میرے دادا ابوحنیفہ کے دین کا عقیدہ ہے — کہ قرآن مخلوق ہے۔”
📗 حوالہ: السنّة
محققِ کتاب لکھتے ہیں:
> "یہی الفاظ منقول ہیں (یعنی یہ دین میرا، میرے والد اور میرے دادا ابوحنیفہ کا ہے)"
اور فرماتے ہیں: اس کی سند صحیح ہے۔ ✔️
---
بائیں جانب کے متن کا ترجمہ:
غیاث بن جعفر نے روایت کیا کہ میں نے سفیان بن عیینہ (اہل سنت کے معروف محدث) کو کہتے ہوئے سنا:
> “قرآن، اللہ عزّوجلّ کا کلام ہے۔
جو شخص یہ کہے کہ قرآن مخلوق ہے، وہ کافر ہے،
اور جو اس کے کفر میں شک کرے، وہ خود بھی کافر ہے۔”
📗 حوالہ: السنّة
محققِ کتاب لکھتے ہیں: سند حسن ہے۔ ✔️
---
➋ ابوحنیفہ — امامِ اعظم یا کافرِ اعظم؟
دائیں جانب کا ترجمہ:
اسحاق بن عبدالرحمن نے حسن بن ابی مالک سے، اور انہوں نے ابو یوسف سے روایت کی کہ:
> “سب سے پہلا شخص جس نے کہا کہ قرآن مخلوق ہے، وہ ابوحنیفہ تھا۔”
📗 حوالہ: السنّة
محققِ کتاب: سند حسن ہے۔ ✔️
---
بائیں جانب کا ترجمہ:
سویدی نے روایت کیا کہ میں نے وکیع بن جراح (اہل سنت کے مشہور حافظ، فقیہ اور امام) کو کہتے ہوئے سنا:
> “جو شخص کہے کہ قرآن مخلوق ہے، وہ کافر ہو گیا۔”
📗 حوالہ: السنّة
محققِ کتاب: تمام راوی ثقہ ہیں۔ ✔️
---
➌ ابوحنیفہ — امامِ اعظم یا کافرِ اعظم؟
ابا مُسہر کہتے ہیں:
> “سلمہ بن عمرو قاضی نے منبر پر کہا:
اللہ ابوحنیفہ پر رحم نہ کرے، کیونکہ وہ پہلا شخص تھا جس نے کہا کہ قرآن مخلوق ہے۔”
📗 حوالہ: تاریخ ابی زرعہ الدمشقی
اور کتاب السنّة کے محقق نے اس روایت کو حسن السند قرار دیا۔ ✔️
---
➍ ابوحنیفہ — امامِ اعظم یا کافرِ اعظم؟
دائیں طرف:
ابا مُسہر کہتے ہیں:
> “سلمہ بن عمرو قاضی نے منبر پر کہا:
اللہ ابوحنیفہ پر رحم نہ کرے، کیونکہ وہ پہلا شخص تھا جس نے کہا کہ قرآن مخلوق ہے۔”
✔️ (سند حسن ہے)
بائیں طرف:
اسماعیل بن عبید بن ابی کریمہ نے کہا:
> “میں نے شبابة بن سوار اور عبدالعزیز بن أبان قرشی کو یہ کہتے سنا:
قرآن، اللہ عزّوجلّ کا کلام ہے،
اور جو شخص کہے کہ قرآن مخلوق ہے، وہ کافر ہے۔”
📗 حوالہ: السنّة
محققِ کتاب: سند صحیح ہے۔ ✔️
۔
وہابیوں سے متعلق ویب سائٹ اسلام ویب (مرکز الفتویٰ) کہتی ہے:
صحابہ، امام مالک، امام شافعی اور ابن قیم سے منقول ہے کہ قرآن کے مخلوق ہونے کا قول کرنے والا کافر ہے۔
اب دیکھیں کہ بے چارے ابو حنیفہ بھی قرآن کے مخلوق ہونے کے قائل تھے، اور اسی وجہ سے اہلِ سنت کے جو بھی علماء ابو حنیفہ کے پاس سے گزرے انہوں نے انہیں زوردار تھپڑ مارا 😂
محدث ابو نعیم اصفہانی (متوفیٰ 430ھ) ابو حنیفہ کے حالات میں لکھتے ہیں:
> "نعمان بن ثابت ابو حنیفہ بغداد میں سنہ 150ھ میں فوت ہوئے۔ انہوں نے قرآن کے مخلوق ہونے کا قول کیا، اور اپنے برے کلام کی وجہ سے کئی مرتبہ ان سے توبہ کروائی گئی۔ وہ بہت زیادہ غلطیوں اور وہموں والے تھے۔"
📚 الضعفاء لأبي نعيم، ج 1، ص 154، رقم 255
ویب سائٹ کا لنک: http://fatwa.islamweb.net/fatwa/index.php?page=showfatwa&Option=FatwaId&Id=42856
Gallery
Tap any image to view full screen