منصور دوانیقی اور ابو حنیفہ کا امام جعفر صادقؑ کے مقابلے میں علمی عاجز ہونا
┅➵✺𖣐﴾﷽﴿𖣐✺➵━┅
✍ منصور دوانیقی اور ابو حنیفہ کا امام جعفر صادقؑ کے مقابلے میں علمی عاجز ہونا
📜 ابْنُ عُقْدَةَ الحَافِظُ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بنُ مُحَمَّدِ بنِ حُسَيْنِ بنِ حَازِمٍ, حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيْمُ بنُ مُحَمَّدٍ الرُّمَّانِيُّ أَبُو نَجِيْحٍ, سَمِعْتُ حَسَنَ بنَ زِيَادٍ, سَمِعْتُ أَبَا حَنِيْفَةَ, وَسُئِلَ مَنْ أَفْقَهُ مَنْ رَأَيْتَ? قَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَداً أَفْقَهَ مِنْ جَعْفَرِ بنِ مُحَمَّدٍ لَمَّا أَقدَمَهُ المَنْصُوْرُ الحِيْرَةَ بَعَثَ إِلَيَّ فَقَالَ: يَا أَبَا حَنِيْفَةَ إِنَّ النَّاسَ قد فتنوا بجعفر ابن محمد فهيىء لَهُ مِنْ مَسَائِلِكَ الصِّعَابِ فَهَيَّأْتُ لَهُ أَرْبَعِيْنَ مَسْأَلَةً ثُمَّ أَتَيْتُ أَبَا جَعْفَرٍ وَجَعْفَرٌ جَالِسٌ، عَنْ يَمِيْنِه فَلَمَّا بَصُرتُ بِهِمَا دَخَلَنِي لِجَعْفَرٍ مِنَ الهَيْبَةِ مَا لاَ يَدْخُلُنِي لأَبِي جَعْفَرٍ فَسَلَّمتُ وَأَذِنَ لِي فَجَلَستُ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ جَعْفَرٌ فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ اللهِ تَعْرِفُ هَذَا قَالَ: نَعَمْ هَذَا أَبُو حَنِيْفَةَ ثُمَّ أَتْبَعَهَا قَدْ أَتَانَا ثُمَّ قَالَ: يَا أَبَا حَنِيْفَةَ هَاتِ مِنْ مَسَائِلِكَ نَسْأَلُ أَبَا عَبْدِ اللهِ فَابتَدَأْتُ أَسْأَلُه فَكَانَ يَقُوْلُ فِي المَسْأَلَةِ: أَنْتُم تَقُوْلُوْنَ فِيْهَا كَذَا وَكَذَا, وَأَهْلُ المَدِيْنَةِ يَقُوْلُوْنَ كَذَا وَكَذَا, وَنَحْنُ نَقُوْلُ كَذَا وَكَذَا فَرُبَّمَا تَابَعَنَا وَرُبَّمَا تَابَعَ أَهْلَ المَدِيْنَةِ وَرُبَّمَا خَالَفَنَا جَمِيْعاً حَتَّى أَتَيْتُ عَلَى أَرْبَعِيْنَ مَسْأَلَةً مَا أَخْرِمُ مِنْهَا مَسْأَلَةً ثُمَّ قَالَ أَبُو حَنِيْفَةَ: أَلَيْسَ قَدْ رَوَيْنَا أَنَّ أَعْلَمَ النَّاسِ أَعْلَمُهم بِاخْتِلاَفِ النَّاسِ؟.
ترجمہ
ابنِ عقدہ حافظ روایت کرتے ہیں:
حسن بن زیاد کہتے ہیں کہ میں نے ابو حنیفہ سے سنا، ان سے پوچھا گیا:
“آپ نے جن لوگوں کو دیکھا، ان میں سب سے بڑا فقیہ کون تھا؟”
انہوں نے کہا:
“میں نے جعفر بن محمد (امام جعفر صادق علیہ السلام) سے زیادہ فقیہ کسی کو نہیں دیکھا۔”
جب منصور (دوانیقی) نے امام صادقؑ کو حیرہ بلوایا تو اس نے مجھے پیغام بھیجا اور کہا:
“اے ابو حنیفہ! لوگ جعفر بن محمد کی طرف بہت مائل ہوگئے ہیں، لہٰذا اپنے مشکل ترین مسائل میں سے کچھ سوالات تیار کرو۔”
میں نے چالیس مشکل مسائل تیار کیے۔ پھر میں ابو جعفر (منصور) کے پاس حاضر ہوا، جبکہ امام جعفر صادقؑ اس کے دائیں جانب تشریف فرما تھے۔ جب میں نے دونوں کو دیکھا تو امام جعفر صادقؑ کی ایسی ہیبت میرے دل میں پیدا ہوئی جو منصور کے لیے کبھی محسوس نہ ہوئی۔
میں نے سلام کیا، اجازت ملی اور بیٹھ گیا۔ پھر امام جعفر صادقؑ نے میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا:
“اے ابو عبداللہ! کیا تم اسے پہچانتے ہو؟”
کہا گیا: “جی ہاں، یہ ابو حنیفہ ہیں۔”
پھر فرمایا: “یہ ہمارے پاس آئے ہیں۔”
اس کے بعد فرمایا:
“اے ابو حنیفہ! اپنے مسائل پیش کرو تاکہ ہم ابو عبداللہ (امام صادقؑ) سے پوچھیں۔”
میں نے سوالات شروع کیے۔ امامؑ ہر مسئلے کے جواب میں فرماتے:
“تم لوگ اس بارے میں یہ کہتے ہو، اہلِ مدینہ یہ کہتے ہیں، اور ہم یہ کہتے ہیں۔”
کبھی وہ ہماری رائے کی تائید فرماتے، کبھی اہلِ مدینہ کی رائے اختیار کرتے، اور کبھی ہم سب کی مخالفت کرتے ہوئے ایک نئی رائے بیان فرماتے۔
یہ سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ میں نے تمام چالیس سوالات پوچھ لیے اور کوئی سوال باقی نہ چھوڑا۔
پھر ابو حنیفہ نے کہا:
“کیا یہ روایت نہیں کی گئی کہ سب سے بڑا عالم وہ ہے جو لوگوں کے اختلافات کو سب سے زیادہ جانتا ہو؟”
📚 سیر اعلام النبلاء، جلد 6، صفحہ 364
📚 الکامل فی ضعفاء الرجال، جلد 2، صفحہ 358
📚 تہذیب الکمال، جلد 5، صفحہ 79۔
Invisibleislam.com
#بدر_علی
#تعلیمات_اہلبیتؑ
#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد
Gallery
Tap any image to view full screen