ابو حنیفہ کے نزدیک جوتے (👞) کی عبادت بھی کی جا سکتی ہے
🔴 ابو حنیفہ کے نزدیک جوتے (👞) کی عبادت بھی کی جا سکتی ہے
▪ یعقوب بن سفیان نے کتاب المعرفة والتاریخ میں لکھا ہے:
📜حدثني علي بن عثمان بن نفيل حدثنا ابو مسهر حدثنا يحي بن حمزة - وسعيد يسمع-: أن أبا حنيفة قال: لو أن رجلا 👈عبد هذه النعل👉 يتقرب بها إلى الله لم أر بذلك بأسا.‼️
👈فقال سعيد: هذا الكفر صراحا» 😷
📃 یحییٰ بن حمزہ اور سعید بن عبدالعزیز نے یہ بات ابوحنیفہ سے نقل کی کہ ابوحنیفہ نے کہا:
"اگر کوئی شخص اس جوتے 👞 کو خدا کے نزدیک ہونے کے لیے عبادت کرے تو میں اس میں کوئی قباحت نہیں دیکھتا۔"
سعید جب یہ بات سنی تو کہنے لگا:
"یہ صاف اور واضح کفر ہے!" 😂
📚 المعرفة والتاریخ، ج2، ص784
✅ نکات:
یہ خبر بالکل صحیح ہے۔
ابو مسہر نے روایت کی ہے کہ:
1⃣ یحییٰ بن حمزہ
2⃣ سعید نے یہ بیان کیا۔ یہاں ایک وثوق والا شخص کافی ہے۔
سعید بن عبدالعزیز التنوخی ثقة امام ہیں۔
▪مصنف کتاب: یعقوب بن سفیان الفسوی
✅ ثقة حافظ
▪علی بن عثمان النفیلی
✅ ثقة
▪ عبد الأعلى بن مسہر الغسانی (ابو مسہر)
✅ ثقة
▪ سعید بن عبدالعزیز التنوخی
✅ ثقة امام
❓ سوال: ابوحنیفہ کے لیے اس پر کیا حکم دیا جائے؟
#بدر_علی
#تعلیمات_اہلبیتؑ
#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد
invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen