Back to امام جعفر الصادق ع

کیا امام جعفر صادقؑ نے “عاریۃ الفرج” کو جائز قرار دیا؟

کیا امام جعفر صادقؑ نے “عاریۃ الفرج” کو جائز قرار دیا؟
کیا امام جعفر صادقؑ نے “عاریۃ الفرج” کو جائز قرار دیا؟
کیا امام جعفر صادقؑ نے “عاریۃ الفرج” کو جائز قرار دیا؟
کیا امام جعفر صادقؑ نے “عاریۃ الفرج” کو جائز قرار دیا؟
کیا امام جعفر صادقؑ نے “عاریۃ الفرج” کو جائز قرار دیا؟

✨ کیا امام جعفر صادقؑ نے “عاریۃ الفرج” کو جائز قرار دیا؟ ✨

 

🔴 اعتراض:

بعض افراد یہ اعتراض کرتے ہیں کہ کتاب الاستبصار (جلد 3، صفحہ 138) میں “عاریۃ الفروج” (شرمگاہ کو عاریہ دینا) کے جواز کا ذکر ہے، اور امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے کہ اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔

 

🔻 جواب:

اس روایت کو سیاق و سباق کے ساتھ سمجھنا ضروری ہے۔ اہلِ تشیع کے علماء کے مطابق یہ مسئلہ آزاد عورت کے بارے میں نہیں بلکہ لونڈی (کنیز) کے بارے میں ہے، جس کی شرعی حیثیت “مملوکہ مال” کی ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے اس کے احکام آزاد عورت سے مختلف ہوتے ہیں۔

 

شریعت میں جس طرح مخصوص شرائط کے ساتھ نکاح کے ذریعے ایک اجنبی عورت مرد پر حلال ہوتی ہے، اسی طرح مملوکہ کنیز کے بارے میں بھی بعض خاص صورتوں میں مالک کی طرف سے اجازت (تحلیل) دی جاتی تھی، جیسے:

“أحللت لك جاريتي”

(میں نے اپنی کنیز تمہارے لیے حلال کی)

 

یہ ایک قدیم فقہی مسئلہ ہے جس پر مختلف مکاتبِ فکر میں بحث پائی جاتی ہے، اور اسے اس کے تاریخی و فقہی تناظر میں ہی سمجھنا چاہیے۔

 

🔶 اہلِ سنت کے بعض مصادر میں بھی اس نوعیت کے مسائل کا ذکر:

 

🎗 البحر الرائق میں مذکور ہے:

“اگر کوئی شخص اپنی کنیز کسی کو دے اور حالت نکاح پر دلالت کرے تو وہ نکاح شمار ہوگا، ورنہ وہ ملکیت میں منتقل ہو جائے گی۔”

📚 حوالہ: البحر الرائق، جلد 3، صفحہ 86

 

🔻 تبصرہ:

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مملوکات (کنیزوں) کے متعلق فقہی احکام مختلف انداز میں بیان کیے گئے ہیں، اور یہ موضوع صرف ایک مکتب فکر تک محدود نہیں۔

 

🔶 مزید بعض فقہی مسائل:

 

🔥 فتاویٰ عالمگیری میں ایک مسئلہ ذکر ہوا ہے:

“اگر ایک کنیز چند افراد میں مشترک ہو اور سب اس کے بچے کا دعویٰ کریں تو نسب سب کی طرف منسوب کیا جائے گا۔”

📚 حوالہ: فتاویٰ عالمگیری، جلد 6، صفحہ 173

 

🔻 تبصرہ:

یہ بھی ایک پیچیدہ فقہی مسئلہ ہے جس کی تشریح اہلِ علم کے ہاں مختلف انداز سے کی جاتی ہے۔

 

🔶 امام ابو حنیفہ سے منسوب بعض اقوال:

 

🔥 “اگر کسی عورت کو زنا کے لیے اجرت پر لیا جائے تو اس پر حد جاری نہیں ہوگی۔”

📚 حوالہ: فتاویٰ قاضیخان، کتاب الحدود، صفحہ 38

 

🔥 “زنا کی اجرت امام ابو حنیفہ کے نزدیک حلال قرار دی گئی ہے، کیونکہ اجرت اپنی ذات میں مال ہے، چاہے سبب ناجائز ہو۔”

📚 حوالہ: شرح وقایہ مع حاشیہ چلپی، صفحہ 298

 

🔥 “زانیہ عورت سے نکاح جائز ہے۔”

📚 حوالہ: در المختار، جلد 2، صفحہ 25

 

🔻 تبصرہ:

یہ تمام مسائل فقہی اختلافات کا حصہ ہیں، اور مختلف مکاتبِ فکر میں ان کی مختلف تعبیرات اور توجیہات پیش کی جاتی ہیں۔

 

🔻 خلاصہ:

“عاریۃ الفروج” کا مسئلہ ایک مخصوص فقہی و تاریخی پس منظر رکھتا ہے، جسے آزاد عورتوں کے بارے میں سمجھنا درست نہیں۔ اسی طرح دیگر فقہی مسائل بھی اپنے اپنے اصول و دلائل کے تحت بیان کیے گئے ہیں۔ ان موضوعات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ تعصب سے ہٹ کر تحقیق، سیاق و سباق اور اہلِ علم کی آراء کو مدنظر رکھا جائے۔

 

🔸 نوٹ:

اس طرح کے مباحث کا مقصد کسی کی توہین نہیں بلکہ علمی نکات کی وضاحت ہے۔ اختلافی مسائل کو سنجیدہ اور باوقار انداز میں سمجھنا ہی بہتر طرزِ عمل ہے۔

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5