Back to امام جعفر الصادق ع

امام جعفر صادقؑ کا فرمان: ہمارا شیعہ فاحش عمل میں مبتلا نہیں ہوتا

امام جعفر صادقؑ کا فرمان: ہمارا شیعہ فاحش عمل میں مبتلا نہیں ہوتا
امام جعفر صادقؑ کا فرمان: ہمارا شیعہ فاحش عمل میں مبتلا نہیں ہوتا
امام جعفر صادقؑ کا فرمان: ہمارا شیعہ فاحش عمل میں مبتلا نہیں ہوتا
امام جعفر صادقؑ کا فرمان: ہمارا شیعہ فاحش عمل میں مبتلا نہیں ہوتا
امام جعفر صادقؑ کا فرمان: ہمارا شیعہ فاحش عمل میں مبتلا نہیں ہوتا
امام جعفر صادقؑ کا فرمان: ہمارا شیعہ فاحش عمل میں مبتلا نہیں ہوتا
امام جعفر صادقؑ کا فرمان: ہمارا شیعہ فاحش عمل میں مبتلا نہیں ہوتا
امام جعفر صادقؑ کا فرمان: ہمارا شیعہ فاحش عمل میں مبتلا نہیں ہوتا
امام جعفر صادقؑ کا فرمان: ہمارا شیعہ فاحش عمل میں مبتلا نہیں ہوتا
امام جعفر صادقؑ کا فرمان: ہمارا شیعہ فاحش عمل میں مبتلا نہیں ہوتا
امام جعفر صادقؑ کا فرمان: ہمارا شیعہ فاحش عمل میں مبتلا نہیں ہوتا
امام جعفر صادقؑ کا فرمان: ہمارا شیعہ فاحش عمل میں مبتلا نہیں ہوتا

✨ امام جعفر صادقؑ کا فرمان: ہمارا شیعہ فاحش عمل میں مبتلا نہیں ہوتا ✨

 

🔴 ناصبی اعتراض (بطورِ مذاق):

بعض لوگ طنزاً کہتے ہیں کہ “اصل شیعہ کی نشانی یہ ہے کہ اس کی دبر کبھی استعمال نہ ہو سکے۔”

 

🔻 جواب:

الحمدللہ! اگر اس سے مراد یہ ہے کہ ہمارے فقہ میں لواطت جیسے فاحش عمل کی کوئی گنجائش نہیں، تو یہ ہمارے لیے باعثِ اعزاز ہے۔ البتہ جو لوگ اس بات کا مذاق اڑاتے ہیں، ان کے اپنے مصادر میں ایسے امور کے متعلق کیا کچھ مذکور ہے، وہ بھی قابلِ توجہ ہے۔ اس سے پہلے ہم ایک اصولی بات رسولِ اکرم ﷺ کی حدیث سے واضح کرتے ہیں:

 

✍️ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“مومن نہ طعنہ دینے والا ہوتا ہے، نہ لعنت کرنے والا، نہ بےحیاء اور نہ بدزبان۔”

📚 حوالہ: سنن ترمذی، حدیث 1977

 

🔻 تبصرہ:

اس حدیث کے مطابق مومن کی صفات میں پاکیزگیِ زبان اور حسنِ اخلاق شامل ہیں۔ اب بعض تاریخی روایات میں ایسے اقوال بھی منقول ہیں جن میں سخت اور نامناسب الفاظ یا لعنت کا ذکر آتا ہے، جنہیں اہلِ تحقیق کے نزدیک جانچنا اور ان کی حیثیت متعین کرنا ضروری ہے۔

 

✍️ بعض روایات میں ابوبکر سے سخت کلام منقول ہے:

📚 حوالہ: صحیح بخاری، احادیث 2731، 2732

 

✍️ اسی طرح بعض روایات میں حضرت عائشہ سے بعض افراد پر لعنت کا ذکر بھی ملتا ہے:

📚 حوالہ: صحیح مسلم، روایت 2931

📚 المستدرک، جلد 5، روایت 6744

 

🔻 تبصرہ:

یہ روایات اہلِ علم کے ہاں بحث و تحقیق کا موضوع رہی ہیں، اور ان کی تشریح و توجیہ مختلف انداز سے کی گئی ہے۔

 

🔶 اب لواطت کے مسئلے پر بعض کتب میں عمومی معاشرتی حالات کا ذکر:

 

🔥 ایک مؤلف لکھتے ہیں کہ:

“لواطت جیسی بری خصلت میں صرف عام لوگ ہی نہیں بلکہ بعض حکمران، امراء، فقہاء اور دیگر طبقات بھی مبتلا رہے۔”

📚 حوالہ: البدایہ والنہایہ، جلد 9، صفحہ 186

 

🔥 محمد بن سیرین سے ایک روایت نقل کی گئی ہے جس میں عمر بن خطاب سے ایک جاہلی عادت کے باقی رہنے کا ذکر ہے:

📚 حوالہ: کنز العمال، جلد 16، صفحہ 534

📚 الطبقات الکبیر، جلد 3، صفحہ 269

 

🔻 تبصرہ:

ایسی روایات کی تعبیر و تشریح میں اہلِ علم کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے، اور ان کو سیاق و سباق کے ساتھ سمجھنا ضروری ہے۔

 

🔥 ایک روایت میں یہ بھی ذکر ہے کہ بعض ادوار میں قومِ لوط کے عمل (لواطت) کا پھیلاؤ بڑھ گیا تھا:

📚 حوالہ: کتاب مساوئ الأخلاق للخرائطي، صفحہ 207

 

🔶 فقہی مسئلہ:

 

🔥 امام ابو حنیفہ کے فقہی موقف کے متعلق بعض کتب میں ذکر ملتا ہے کہ:

“اگر کسی مرد یا عورت کے ساتھ لواطت کا فعل کیا جائے تو اسے زنا کی تعریف میں شامل نہیں کیا جاتا، اور اس پر حد (مقررہ سزا) نہیں ہے۔”

📚 حوالہ: بدائع الصنائع، جلد 9، صفحہ 184

 

🔻 تبصرہ:

یہ ایک فقہی اختلافی مسئلہ ہے جس میں مختلف مکاتبِ فکر کے درمیان آراء پائی جاتی ہیں۔

 

🔥 مزید بعض کتب میں بعض اہلِ علم کی طرف ایسے اقوال بھی منسوب کیے گئے ہیں جن میں جنت کے بارے میں غیر معمولی اور متنازع تصورات بیان کیے گئے:

📚 حوالہ: مناقب امام اعظم ابوحنیفہ، جلد 1، صفحہ 125

📚 الجواہر المضیة، جلد 2، صفحہ 465

 

🔻 خلاصہ:

یہ تمام مباحث تاریخی و فقہی مصادر میں مذکور ہیں، جنہیں سمجھنے کے لیے تحقیق، سیاق و سباق اور علمی دیانت ضروری ہے۔ کسی بھی روایت یا قول کو حتمی نتیجہ بنانے سے پہلے اس کی سند، مفہوم اور اہلِ علم کی آراء کو مدنظر رکھنا چاہیے۔

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8
Gallery Image 9
Gallery Image 10
Gallery Image 11
Gallery Image 12