شہادتِ حضرت اُمّ البنین post-3
شہادتِ حضرت اُمّ البنین post-3
شہادتِ حضرت اُمّ البنین post-3
شہادتِ حضرت اُمّ البنین post-3

🔴 سیدہ اُمّ البنین سلام اللہ علیہا کی شہادت پر تعزیت

 

📜 جابر سے، امام ابو جعفر علیہ السلام سے روایت ہے کہ:

اُمّ البنین، جو ان چار شہید بھائیوں (حضرت عباس اور اُن کے بھائیوں) کی والدہ تھیں، بقیع میں جایا کرتی تھیں اور اپنے بیٹوں پر نہایت دردناک اور سوز بھرے انداز میں نوحہ کرتی تھیں۔ لوگ اُن کے گرد جمع ہو جاتے اور اُن کا نوحہ سنتے تھے۔ مروان بھی اُن لوگوں میں شامل تھا جو وہاں آتے تھے، وہ اُن کا نوحہ سنتا رہتا اور روتا تھا۔

 

📚 بحار الانوار، جلد 45، صفحہ 40، دار احیاء التراث العربی

 

🔴 ڈاکٹر بنت الشاطی، محققِ مصری: سب سے زیادہ جانسوز نوحے اُمّ البنین ہی کے تھے!

 

📜 بیان کیا گیا ہے کہ اُمّ البنین بنتِ خُزام، جو امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کی زوجہ تھیں، مسلسل قبرستانِ بقیع جایا کرتی تھیں اور اپنے چاروں فرزندوں (عبداللہ، جعفر، عثمان اور عباس) پر رویا کرتی تھیں، جو سب کے سب کربلا میں شہید ہوئے تھے۔

ان کا نوحہ اپنے بیٹوں پر سب سے زیادہ سوزناک اور دل کو چیر دینے والا نوحہ شمار ہوتا تھا

 

۔مروان بن حکم جو بنی طالب کے خاندان کا دشمن تھا بھی اُن لوگوں کے ساتھ وہاں آتا تھا، اور کچھ دیر گزرتی نہیں تھی کہ اُمّ البنین کے نوحے کو سن کر اس کی آنکھیں بھی نم ہو جاتیں اور وہ رونے لگتا تھا۔

 

📚 زینب، بانوی قہرمانِ کربلا، ڈاکٹر عائشہ بنت الشاطی، صفحہ 167

 

تعلیماتِ اہلبیتؑ

 

تعلیمات_اہلبیتؑ

 

 

عظَّمَ اللہُ لنا ولکم الأجر بذكرى رحیل السيدة الطاهرة أم البنین سلام اللہ علیها۔

 

بشر بن حذلم نے کہا: جب ہم مدینہ کے قریب پہنچے تو امام زین العابدین علیہ السلام نے وہاں قیام کیا، اپنا سامان اتارا، خیمہ لگایا اور خواتین کو وہاں ٹھہرایا۔ پھر فرمایا: اے بشر، اللہ تمہارے والد پر رحم کرے، وہ شاعر تھے، کیا تم بھی شاعری کر سکتے ہو؟

 

میں نے عرض کیا: جی ہاں، اے فرزند رسول، میں شاعر ہوں۔

 

تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: مدینہ میں جاؤ اور لوگوں کو امام حسین علیہ السلام کی شہادت کی خبر دو۔

 

بشر کہتے ہیں: میں گھوڑے پر سوار ہوا اور مدینہ پہنچا۔ جب مسجدِ نبوی کے قریب پہنچا، تو روتے ہوئے بلند آواز میں یہ اشعار کہے:

 

یا اہل یثرب لا مقام لكم بها ... قتل الحسين فأدمعي مدرار

الجسم منه بكربلاء مضرج ... والرأس منه على القناة يدار

 

پھر میں نے کہا: یہ امام زین العابدین علیہ السلام اپنے پھوپھیوں اور بہنوں کے ساتھ آپ کے قریب آ چکے ہیں اور یہیں قیام کیا ہے، اور میں ان کا قاصد ہوں جو آپ کو ان کی خبر دے رہا ہوں۔

 

بشر کہتے ہیں: مدینہ کی کوئی پردہ نشین اور حجاب والی خاتون نہ رہی جو اپنے گھروں سے نہ نکل آئیں، ان کے بال بکھرے ہوئے تھے، چہرے خراشیدہ تھے، اپنے رخساروں پر طمانچے مار رہی تھیں اور واویلا کر رہی تھیں۔ میں نے اس دن سے زیادہ کوئی رونے والا دن نہیں دیکھا اور نہ مسلمانوں کے لیے اس دن سے زیادہ سخت دن دیکھا۔

 

پھر بشر کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ ایک بڑی عمر کی خاتون ایک بچے کو اپنے کندھے پر اٹھائے ہجوم کو چیرتی ہوئی میری طرف بڑھ رہی ہیں۔ جب وہ میرے قریب آئیں تو بولیں: اے شخص، مجھے میرے آقا حسین علیہ السلام کے بارے میں بتاؤ۔ میں سمجھ گیا کہ وہ غم سے بے حال ہیں کیونکہ میں بلند آواز سے کہہ رہا تھا "حسین شہید ہو گئے"، لیکن وہ مجھ سے ان کے بارے میں پوچھ رہی تھیں۔

 

میں نے لوگوں سے ان کے بارے میں پوچھا تو بتایا گیا کہ یہ جنابِ ام البنین سلام اللہ علیہا ہیں۔ مجھے ان پر بہت ترس آیا اور ڈر گیا کہ ان کے بیٹوں کی خبر ایک ساتھ نہ دے سکوں۔

 

میں نے کہا: اللہ آپ کو آپ کے بیٹے عبداللہ کے فقدان پر صبر دے۔

 

انہوں نے کہا: میں نے عبداللہ کے بارے میں نہیں پوچھا، مجھے حسین علیہ السلام کے بارے میں بتاؤ۔

 

میں نے کہا: اللہ آپ کو عثمان کے فقدان پر صبر دے۔

 

انہوں نے کہا: میں نے عثمان کے بارے میں نہیں پوچھا، مجھے حسین علیہ السلام کے بارے میں بتاؤ۔

 

میں نے کہا: اللہ آپ کو جعفر کے فقدان پر صبر دے۔

 

انہوں نے کہا: میں نے جعفر کے بارے میں نہیں پوچھا، میرے سب بیٹے اور جو کچھ آسمان کے نیچے ہے، وہ سب حسین علیہ السلام پر قربان ہیں۔ مجھے حسین علیہ السلام کے بارے میں بتاؤ۔

 

میں نے کہا: اللہ آپ کو آپ کے بیٹے ابوالفضل العباس کے فقدان پر صبر دے۔

 

بشر کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ انہوں نے اپنے ہاتھ اپنی کمر پر رکھے اور بچہ ان کے کندھے سے گر گیا اور کہا: خدا کی قسم، تم نے میرا دل ٹکڑے کر دیا۔ مجھے حسین کے بارے میں بتاؤ۔

 

میں نے کہا: اللہ آپ کو ہمارے مولا امام حسین علیہ السلام کی شہادت پر صبر دے۔

 

📚 ام البنین علیہا السلام، النجم الساطع فی مدینة النبی الأمین

 

تعلیماتِ اہلبیتؑ

 

 

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4