حضرت ام البنین ع سے امام علی ع نے شادی کیوں کی ؟
⚪️ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے اپنے بھائی عقیل کو بلایا اور چونکہ وہ عرب کے نسب شناس تھے، فرمایا:
📜 “میرے لیے ایسی عورت تلاش کرو جس کے آباؤ اجداد عرب کے دلیر مرد ہوں، تاکہ میں اس سے شادی کروں اور وہ میرے لیے ایک بہادر بیٹا پیدا کرے۔”
عقیل نے کہا: ام البنین کلابیہ سے شادی کیجیے، کیونکہ عرب میں ان کے آباؤ اجداد سے زیادہ بہادر کوئی نہیں۔
📚 عمدة الطالب فی أنساب آل أبی طالب؛ أحمد بن علی الحسینی (ابن عنبة)، تصحیح: محمد حسن آل الطالقانی، چاپ: الثانیة، 1380-1961، ناشر: منشورات المطبعة الحیدریة - النجف الأشرف، ص 357، باب الفصل الرابع
⚫ مولا کا مقصد اس شادی سے یہ تھا کہ ایک رشید اور بہادر فرزند، یعنی قمر منیر بنی ہاشم، ہمارے آقا سیدنا اباالفضل العباس علیہ السلام پیدا ہوں۔
▪️زہیر بن قین نے روز عاشورا پرچم بڑے پیمانے پر حضرت عباس علیہ السلام کے ہاتھ دیا اور کہا:
📜 “اے علی کے فرزند! میں تمہیں ایک حدیث سنانا چاہتا ہوں” (اور عقیل اور والدہ کے انتخاب کا واقعہ سنایا)
📜 و قد ادخرک ابوک لمثل هذا اليوم
📃 “بے شک تمہارے والد نے تمہیں ایسے ہی دن کے لیے ذخیرہ کیا تھا۔”
📚 الکبریت الاحمر، ج 3، ص 144
🔴 حضرت عباس علیہ السلام کے بارے میں جماعت عمریہ کی کتابوں میں: 👇👇👇👇
وصف:
📜 حضرت عباس علیہ السلام ایک جوان خوش قامت اور خوب صورت انسان تھے۔
جب آپ موٹے اور مضبوط گھوڑے پر سوار ہوتے تھے، تو آپ کے پیر زمین کو چھوتے تھے۔
انہیں کہا جاتا تھا: قمر بنی ہاشم۔
اور حضرت حسین علیہ السلام کی شہادت کے دن ان کا پرچم حضرت عباس کے پاس تھا۔
📚 مقاتل الطالبيين، أبو الفرج الأصبهاني، كتاب الحسين - باب العباس بن علي بن أبي طالب، ج 1، ص 23
بدر علی
#تعلیمات_اہلبیتؑ