🔴 13 جمادی الثانی یوم وفات سیدتی ام البنینؑ

 

▪️ آپکا مکمل نام فاطمہ بنت حزام تھا اور اپکی کنیت ام البنینؑ

آپ امیرالمؤمنین مولا علیؑ کی زوجات میں سے تھیں۔مولا علیؑ سے ازدواج کے نتیجے میں آپ کے بطن سے چار بیٹے پیدا ہوئے جن کے نام حضرت عباسؑ، عبداللہؑ، جعفرؑ اور عثمانؑ ہیں یہ چاروں عاشورا کے دن امام حسینؑ کے ساتھ شہادت کے درجے پر فائز ہوئے۔ آپ چونکہ چار بیٹوں کی ماں تھی اسلئے آپ "ام البنین" یعنی بیٹوں کی ماں کے لقب سے ملقب ہوئیں۔آپ کے یہ چار بیٹے شجاعت اور دلیری میں اپنی مثال آپ تھے 

 

▪️حضرت ام البنین کے والد گرامی ابوالمجْل حزام بن خالد قبیلہ بنی کلاب سے ان کا تعلق تھا۔ آپ کی مادر گرامی لیلی یا ثمامہ بنت سہیل بن عامر بن مالک تھیں۔

 

▪️جناب حسون، اعلام النساء المؤمنات، ص۴۹۶-۴۹۷ میں اور جناب محلاتی، ریاحین الشریعہ، ج۳، ص۲۹۳ لکھتے ہیں کہ سیدہ ام البنینؑ واقعہ کربلا پیش آتے وقت وہاں موجود نہیں تھیں۔ 

 

جب اسیران کربلا کا قافلہ مدینہ پہنچا تو کسی نے آپ کو اپنے بیٹوں کی شہادت کی خبر سنائی لیکن آپ نے کہا: امام حسینؑ کے بارے میں کہو جب آپ کو بتایا گیا کہ امام حسینؑ آپ کے چار بیٹوں کے ساتھ کربلا میں شہید ہوئے ہیں تو اس وقت آپ نے کہا:‌ 

 

📜 "اے کاش میرے بیٹے اور جو کچھ زمین اور آسمان کے درمیان ہے میرے حسینؑ پر فدا ہوتے اور وہ زندہ ہوتے"

 

آپ کے یہ جملات، امام حسینؑ اور اہل بیتؑ کے ساتھ آپ کی سچی اور با اخلاص محبت کی عکاسی کرتی ہے۔

 

آپکی قبر مبارک قبرستان جنت البقیع میں واقعی ہے

 

سیدہ ام البنینؑ کے بارے میں بزرگوں کے کلمات

 

زین‏ الدین عاملی جو شہید ثانی کے نام سے معروف ہیں، حضرت ام ‏البنینؑ کے بارے میں کہتے ہیں: 

 

📜 ام ‏البنین با معرفت اور پر فضیلت خواتین میں سے تھیں۔خاندان نبوت سے خاص محبت اور شدید و خالص دلبستگی رکھتی تھی اور اپنے آپ کو ان کی خدمت کیلئے وقف کی ہوئی تھی۔ خاندان نبوت کے ہاں بھی آپ کو ایک اعلی مقام حاصل تھا اور آپ کا خصوصی احترام کرتے تھے۔ عید کے ایام میں ان کی خدمت میں تشرییف لے جاتے تھے اور ان کا خاص احترام کرتے تھے۔"

 

📚 ستارہ درخشان مدینہ حضرت ام البنین، ص۷.

 

سید محمود حسینی شاہرودی (متوفی ۱۷ شعبان ۱۳۹۴ ہجری قمری) کہتے ہیں:

 

📜 میں مشکلات اوقات میں حضرت ابوالفضل العباس(ع) کی ماں ام البنین(س) کیلئے 100 مرتبہ صلوات ہدیہ کرتا ہوں اور اپنی مشکلات سے بخوبی باہر آتا ہوں

 

📚 چہرہ درخشان قمر بنی ہاشم ابوالفضل العباس(ع)، ج۱، ص۴۶۴

 

سید محسن امین کتاب اعیان الشیعہ میں لکھتے ہیں: 

 

📜 ام البنین(س) ایک خوش بیان شاعر اور عرب کے اصیل اور شجاع خاندان سے انکا تعلق تھا۔ 

 

📚 اعیان الشیعہ، ج۸، ص۳۸۹

 

مقرم کہتے ہیں:

 

📜 ام البنین کا شمار با فضیلت خواتین میں ہوتی تھی آپ اہل بیت کی حقانیت سے خوب واقف تھیں اور ان کی محبت اور دوستی میں خالص تھیں متقابلا خود بھی اہل بیتؑ کے ہاں ایک خاص مقام رکھتی تھیں۔

 

📚 مقرم،العباس(ع)، ص۱۸

 

علی محمد علی دُخَیل عصر حاضر کے عرب لکھاری اس عظیم خاتون کے بارے میں لکھتے ہیں:

 

📜 اس خاتون (ام البنین) کی عظمت وہاں آشکار ہوتی ہے جب انکے بیٹوں کی شہادت کی خبر آتی ہے تو اس پر کوئی توجہ نہیں دیتی بلکہ امام حسین(ع) کی سلامتی کے بارے میں سوال کرتی ہے گویا امام حسین(ع) ان کے فرزند ہیں نہ اپنے بیٹے۔

 

📚 دخیل، العباس(ع)، ص۱۸.

 

باقر شریف قرشی؛ "کتاب عباس بن علی کرامت کی نشانی" کے مصنف اس خاتون کی فضیلت کے بارے میں لکھتے ہیں:

 

📜 تاریخ میں نہیں دیکھا گیا ہے کہ کسی عورت نے اپنی سوکن کے فرزندان سے خالص محبت کی ہو اور ان کو اپنے فرزندوں پر مقدم رکھی ہو سوای یہ با عظمت خاتون یعنی "ام البنین(س)"

 

📚 شریف قرشی، العباس بن علی، ص۲۳.

 

#تعلیمات_اہلبیت #talimaat_e_ahlbait

#اللھم_صلی_علی_محمد_و_آل_محمد 

#ام_البنین #مادر_عباس #وفات #وفاة 

 #التماس_دعا #بدر_علی  

ShareThisPost #share #plzshare#PlzShare #Plz_like_my_page #SHAREIT #SharePost #plzfollow

 

🔵 حضرت اُمُّ البَنینؑ 🔵

 

🔷تاريخِ وفات:

 

حضرت اُمُّ البنینؑ کی تارخ وفات کے بارے میں کوئی دقیق معلومات تاریخی منابع میں ثبت نہیں ہیں لیکن جو چیز معروف ہے اس کے مطابق آپ 13جمادی الثانی کو اس دنیا سے رخصت ہوئیں. آپ شیعوں کے یہاں قابل احترام شخصیات میں سے ہیں.

 

🔷حسب و نسب:

حضرت اُمُّ البنینؑ کا اصل نام فاطمہ بنتِ حِزام ہے آپ کے والد گرامی ابوالمجْل حزّام بن خالد کا قبیلہ بنی کلاب سے تعلق تھا، آپ کی مادر گرامی لیلیٰ یا ثمامہ بنت سہیل بن عامر بن مالک تھیں.

 

🔷وجہ لقب:

فاطمہ بنت حِزام اُمّ البَنین کے نام سے مشہور ہوئیں. آپ امیرالمؤمنین امام علیؑ کی زوجات میں سے تھیں. آپ چونکہ چار بیٹوں کی ماں تھیں اسلئے آپ اُمّ البَنین یعنی بیٹوں کی ماں کے لقب سے ملقب ہوئیں.

کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ہی حضرت امام علیؑ کو یہ تجویز دی تھی کہ ان کو بجائے فاطمہ کے اُمُّ البَنینؑ کہہ کر پکارا جائے تاکہ حضرت فاطمہ زہراءؑ کے بچوں کو فاطمہ کہنے سے اپنی ماں حضرت فاطمہ زہراءؑ کی یاد تازہ نہ ہو اور اپنی ماں پر گزرے ہوئے تلخ حوادث انہیں آزار نہ پہنچائیں.

 

🔷حضرت علیؑ سے شادی:

 

حضرت فاطمہ زہراؑ کی شہادت کے کئی سال بعد حضرت علیؑ نے اپنے بھائی عقیل جو نسب شناسی میں مشہور تھے، سے ایک نجیب خاندان سے بہادر، شجاع اور جنگجو اولاد جنم دینے والی زوجہ کے انتخاب کے بارے میں مشورہ کیا تو عقیل نے فاطمہ بنت حزام کا نام تجویز کیا اور کہا عربوں میں بنی کلاب کے مردوں جیسا کوئی دلیر مرد نہیں دیکھا جا سکتا ہے، یوں حضرت علیؑ نے آپ سے شادی کی.

 

🌟شادی کا ثمرہ:

اس شادی کا ثمرہ خدا نے چار بیٹوں کی صورت میں عطا کیا جن کے نام عباسؑ، عبداللہ، جعفر اورعمران ہیں.

آپ کے یہ چار بیٹے شجاعت اور دلیری میں اپنی مثال آپ تھے اس وجہ سے آپ کو اُمُّ البَنینؑ (یعنی بیٹوں کی ماں) کہا جاتا تھا،

آپ کے یہ چار بیٹے کربلا میں اپنے بھائی اور امام، امام حسینؑ کے رکاب میں شہادت کے عظیم درجے پر فائز ہوئے.

 

🔶واقعہ کربلا:

اُمُّ البَنینؑ واقعہ کربلا پیش آتے وقت وہاں موجود نہیں تھیں، جب اسیران کربلا کا قافلہ مدینہ پہنجا تو کسی نے آپ کو اپنے بیٹوں کی شہادت کی خبر سنائی لیکن آپ نے کہا: امام حسینؑ کے بارے میں کہو جب آپ کو بتایا گیا کہ امام حسینؑ آپ کے چار بیٹوں کے ساتھ کربلا میں شہید ہوئے ہیں تو اس وقت آپ نے کہا؛ اے کاش میرے بیٹے اور جو کچھ زمین اور آسمان کے درمیان ہے میرے حسینؑ پر فدا ہوتے اور وہ زندہ رہتے، آپ کے یہ جملے، امام حسینؑ اور اہلبیتؑ کے ساتھ آپ کی سچی اور بااخلاص مجبت کی عکاسی کرتے ہیں.

 

حضرت اُمُّ البَنینؑ اپنے بیٹوں کی شہادت سے باخبر ہونے کے بعد ہر روز اپنے پوتے عبیداللہ (فرزندِ عباسؑ) کے ساتھ قبرستان بقیع جایا کرتی تھی اور وہاں پر خود اپنے انشاء کئے ہوئے اشعار پڑھا کرتی تھیں اور نہایت دلسوز انداز میں گریہ کرتی تھیں، اہل مدینہ ان کے ارد گرد جمع ہوتے اور ان کے ساتھ گریہ کرنا شروع کرتے تھے.

 

🔶مدفن:

آپ کا مدفن قبرستان بقیع میں ہے.

آپ کو جنت البقیع میں رسولِ خداؐ کی دو پھوپھیوں (صفیہ، عاتکہ) کے پاس امام حسن علیہ السلام اور فاطمہ بنت اسد سلام اللہ علیہا کی قبروں کے قریب سپرد خاک کیا۔

 

۔

 

اپنے عزیزوں کی المناک شہادت کے بعد آپ جنت البقیع چلی جایا کرتی تھیں اور اس طرح گریہ کرتی تھیں کہ دوست و دشمن روتے تھے، چنانچہ مروان جو اہل بیت ع کا سخت ترین دشمن تھا، آپ کا مرثیہ سن کر بے اختیار آنسو بہانے پر مجبور ہو جایا کرتا تھا ۔ اپنے عزیزوں کی عزا میں آپ کا مرثیہ تاریخ میں محفوظ ہے ۔

 

📚 مقاتل الطالبين ص56 و بحارالانوار ج 45 ص 40

 

🔵 بیٹوں کی ماں:

 

آپ کو ام البنین یعنی ' 'بیٹوں کی ماں ' ' کہہ کر پکارا کرتے تھے ، لیکن کربلا کے بعد آپ نے فرمایا : ' 'مجھے ام البنین کہہ کر نہ پکارا کرو کیونکہ اس طرح پکارنا مجھے میرے شیر جیسے بچوں کی یاد دلاتا ہے ' ' ۔

 

🔵 حضرت ام البنین عرب خواتین کی نظر میں:

 

آج بھی عرب خواتین کربلا میں جب حضرت عباس علمدار (ع) کی زیارت کے لیے آپ کے حرم میں آتی ہیں ، تو اس طرح حضرت سے حاجت طلب کرتی ہیں ' ' بحقّ امّک یا اباالفضل یا باب الحوائج ' ' ،

 

🔵آپکی وفات:

 

آپ کی وفات 13 جمادی الثانیہ کو ہوئی اور آپکو جنت البقیع کے قبرستان میں دفن کیا گیا ۔   

 

جناب ام البنین (س) کا بڑا احسان ہے قیام حق پر ۔ چار بیٹے عباس، عبد اللہ ، جعفر اور عثمان تھے۔

 

العمدة ص 287

الاحتجاج ، ج1 ، ص 61 ،احتجاج النبي ص يوم الغدير على الخلق ۔

كشف‏الغمة ج1 ص 94

 

 اور ایک پوتا تھا ، پانچ قربانیاں ایک گھر سے ۔ مروان بن حکم کہتا ہے کہ:

 

 واقعہ کربلا کے بعد میں جنت البقیع کے راستے پر گزر رہا تھا کہ دور سے کسی بی بی کے رونے کی آواز آئی ۔ میں نے گھوڑے کا رخ ادھر پھیر دیا ۔ میں نے دیکھا کہ ایک بی بی خاک پر بیٹھی بین کر رہی ہے ۔ میں نے غور سے سننے کی کوشش کی تو بین کے الفاظ یہ تھے۔ عباس !اگر تیرے ہاتھ نہ کاٹے جاتے تو میرا حسین (ع) نہ شہید ہوتا۔

 

یہ وہ خاتون ہیں جنہوں نے چاروں بیٹوں کو حسین (ع) کے ساتھ کربلا بھیجا اور اپنے بوڑھے ہونے کے باوجود کسی ایک بیٹے کو بھی اپنے پاس مدینے میں نہیں رکھا۔ اپنے ان چاروں بیٹوں کی مصیبت کو فرزند زہرا (س) کی شہادت کے مقابلے میں آسان سمجھتی تھیں۔

فلمّا نعی الیھا الاربعۃ ، قالت : قد قطعت نیاط قلبی ۔ اولادی و من تحت الخضراء کلھم فداء لابی عبد اللہ الحسین (ع) ۔ اخبرنی عن الحسین (ع)۔

 

جب انہیں اپنے ایک بیٹے کی شہادت کی خبر سنائی گئی تو فرمایا: اس خبر سے کیا مراد ہے ؟ مجھے ابا عبد اللہ (ع) کے بارے میں آگاہ کریں ۔ جب بشیر نے اسے اپنے چار بیٹوں کی شہادت کی خبر دے دی تو کہا : میرا دل پھٹ گیا ، میرے تمام بیٹے اور جو کچھ آسمان کے نیچے موجود ہے، سب ابا عبد اللہ الحسین (ع) پر قربان ہوں، مجھے ابا عبد اللہ الحسین (ع) کے بارے میں بتائیں۔

 

خاتون دو سرا، مرحوم فیض الاسلام ، ص89

 

حضرت ام البنین کے چاروں بیٹے کربلا کے خونین واقعہ میں درجہ شہادت پر فائز ہوۓ ۔ انھوں نے اس مصیبت پر صبر و شکیبائی سے کام لیا۔ حادثہ عاشورا سے آگاہ ہونے کے بعد وہ اپنے بیٹے عباس کے فرزند عبید اللہ کو اپنے ساتھ قبرستان بقیع میں لے جایا کرتی تھیں اور اپنے بیٹوں کے غم میں درد ناک اشعار پڑھا کرتی تھیں۔ مدینہ کے لوگ بھی اس عظیم خاتون کے درد بھرے بین سننے کے لیے وہاں اکٹھے ہو جایا کرتے تھے اور گریہ و زاری کیا کرتے تھے۔

 

🔵 ام البنین (س) اور ایک نورانی تولد:

 

حزّام بن خالد،" بنی کلاب" کے بعض افراد کے ہمراہ سفر پر گئے تھے۔ جب وہ سفر سے واپس لوٹے، تو ان کی باوفا شریک حیات، ثمامہ بنت سہیل، جو حاملہ تھیں، نے وضع حمل کیا تھا اور موتی جیسی درخشان ایک بیٹی کو جنم دیا تھا۔ حزّام نے اپنی بیٹی کی پیدائش کے بارے میں باخبر ہونے کے بعد اس کا نام " فاطمہ" رکھا اور عربوں کی رسم کے مطابق اس کے لیے ایک کنیت کا بھی انتخاب کیا اور یہ کنیت "ام البنین" تھی۔

 

فاطمہ، یعنی فضیلتوں کی ماں نے دوسرے بچوں کے مانند بچپن کا دور گزارا اور ایک مہربان اور پاک دامن ماں اور شجاع باپ کے دامن میں پرورش پائی، جو بہت سے اخلاقی اوصاف کے مالک تھے۔

 

فاطمہ کی ماں کے بارے میں مورخین یوں لکھتے ہیں کہ:

 

" ثمامہ، ام البنین کی ماں، ایک ادیب ، مکمل اور عاقل خاتون تھیں ۔ انھوں نے اپنی بیٹی کو عربوں کے آداب سکھائے اور ایک لڑکی کی ضرورت کے مطابق اسے زندگی میں خانہ داری، شوہر کے حقوق جیسے امور کی تربیت دی۔"

 

🔵 ام البنین (س)کی پیدائش کی تاریخ:

 

حضرت ام البنین کی تاریخ پیدائش کے بارے میں کوئی صحیح اطلاع دستیاب نہیں ہے اور تاریخ نویسوں نے ان کی پیدائش کی تاریخ کو درج نہیں کیا ہے، لیکن اس بات کا ذکر کیا ہے کہ ان کے بڑے بیٹے، حضرت ابو الفضل ع کی پیدائش سال 26ہجری میں واقع ہوئی ہے۔ بعض مورخین نے ان کی پیدائش کے بارے میں ہجرت کے تقریبا 5 سال بعد ( کوفہ کے آس پاس) کا اندازہ لگایا ہے۔

 

🔵 ام البنین کے خاندان کی نمایاں خصوصیات:

 

حضرت ام البنین کے خاندان میں کئی اہم خصوصیات پائی جاتی ہیں، جو سب کی سب حضرت عباس ( ع ) کی صورت میں واضح اور روشن ہوئی ہیں:

 

تمام مومنین و مومنات کو تعزیت و تسلیت عرض ہے۔ 😢

 

#تعلیمات_اہلبیتؑ